Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ایس آئی آر کی بنا پر انتشار اور افراتفری کی کیفیت ہے‘‘

Updated: July 14, 2026, 10:30 AM IST | New Delhi

آدھار اتھاریٹی کے بانی ڈائریکٹر کے تنقیدی مضمون کی بنیاد پر کانگریس نے الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔

Jairam Ramesh. Photo: INN
جے رام رمیش۔ تصویر: آئی این این

انڈین ایکسپریس میں آدھار اتھاریٹی  کے بانی ڈی جی اور سابق مشن ڈائریکٹر آر ایس شرما کے مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے’ایس آئی آر‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’’  شرما کے مضمون کو  ایکس پر شیئر کرتے ہوئے جے رام رمیش نے لکھا ہے کہ ’’یہ ایک نہایت مضبوط اور بے باک مضمون ہے، جسے سائنس اور تکنالوجی کا پس منظر رکھنے والے ایک ممتاز سابق سرکاری افسر نے تحریر کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایسا انتشار اور افراتفری پھیلا دی ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔‘‘

آر ایس شرما نے اپنے مضمون’’ریاست اپنے ہی لوگوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے: یہ طرزِ حکمرانی نہیں بلکہ بے معنویت ہے‘‘ میں کہا کہ’’ایس آئی آر کے تحت عام شہریوں پر بار بار اپنی شناخت ثابت کرنے کا غیر معقول بوجھ ڈالا جا رہا ہے، حالانکہ۲۰۰۰ء کی دہائی کے وسط سے پہلے ہندوستان  میں زیادہ تر بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوتی تھی اور اسپتالوں میں پیدائش کی شرح۳۹؍فیصد سے بھی کم تھی۔ انہوں نے  نشاندہی کی  ہے کہ اگرچہ۱۹۶۹ء کے رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس ایکٹ کے تحت ہر پیدائش کا ۲۱؍ دن کے اندر اندراج لازمی تھا لیکن دہائیوں  میں حکومت اس نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کر سکی۔ ۰۶-۲۰۰۵ء تک ۵؍ سال سے کم عمر بچوں میں بھی صرف ۴۱؍ فیصد پیدائشیں رجسٹرڈ تھیں۔ آج اگرچہ ۹۸؍ فیصد نومولود بچوں کی پیدائش رجسٹر ہو رہی ہے، لیکن اس کا پہلے سے ووٹر فہرستوں میں شامل بالغ شہریوں سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پارلیمان کا مانسون اجلاس، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ متوقع

 آر ایس شرما نےاپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ’’اگر یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ صرف پیدائش کے وقت جاری ہونے والا برتھ سرٹیفکیٹ ہی تاریخِ پیدائش کا قابل قبول ثبوت ہے، تو شاید  ہر ۸؍میں سے صرف  ایک ووٹر ہی یہ شرط پوری کر سکے گا، جبکہ تقریباً۸۵؍کروڑ شہری ایسا نہیں کر پائیں گے۔ ان کے مطابق’’ایسا امتحان جسے ملک کی بھاری اکثریت پاس ہی نہ کر سکے، اہلیت کا امتحان نہیں بلکہ لوگوں کو خارج کرنے کا ذریعہ ہے۔‘‘انہوں نے آدھار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’ ہندوستان نے کئی دہائیوں کی محنت سے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تیار کیا، مگر اب حکام دوبارہ گھر گھر جا کر تصدیق اور کاغذی دستاویزات پر انحصار کر رہے ہیں۔‘‘ آدھار منصوبے کے ابتدائی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے آر ایس شرما نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو اپنی درست تاریخ ، حتیٰ کہ پیدائش کا سال بھی معلوم نہیں تھا۔ جہاں دستاویز موجود ہوتھے وہاں تاریخ کی تصدیق کر دی جاتی تھی، اور جہاں دستاویز نہ ہوتی وہاں تاریخ کو شہری کے بیان یا اندازے کی بنیاد پر درج کیا جاتا تھا۔ بہت سے دیہاتی اپنی عمر کسی قحط یا بڑے واقعے کی بنیاد پر یاد رکھتے تھے، اسی لئے صرف پیدائش کا سال معلوم ہونے کی صورت میں یکم جنوری کو بطور ڈیفالٹ تاریخِ پیدائش درج کیا جاتا تھا۔ان کے مطابق، ایسے لوگوں سے درست اور دستاویزی تاریخ پیدائش طلب کرنا سختی نہیں بلکہ انہیں نظام سے خارج کرنے کے مترادف ہے۔کانگریس کی یہ تازہ تنقید ایسے وقت سامنے آئی ہے جب الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ نہ صرف خصوصی نظرثانی کے دائرہ میں آنے والے موجودہ ووٹروں کو  بلکہ نئے ووٹر بننے کے خواہش مند افراد کو بھی فارم۶؍ جمع کراتے وقت اپنے والدین  کے ایس آئی آر کی تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ یاد رہے کہ ایس آئی آر کے تعلق سے اب ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی آوازیںاٹھنے لگی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK