• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ قلعی کھل چکی ہے، ایس آئی آر فوراً منسوخ کریں‘‘

Updated: October 20, 2026, 10:36 AM IST | Agency | New Delhi

جن شنوائی میں سنسنی خیز انکشافات، کانگریس کا موقف سخت، دہلی میں ۲؍ بوتھ میں ہی ۱۰۰؍ سے زائد نام ’’ غیر حاضر، منتقل یامردہ‘‘ قرار دے کر حذف کئے گئے جبکہ ووٹر موجود ہیں۔

Jairam Ramesh has demanded that the Election Commission reinstate the names that were illegally removed. Photo: INN
جے رام رمیش نے الیکشن کمیشن سے غیر قانونی طور پر نکالے گئے ناموں کودوبارہ شامل کرنے کی مانگ کی ہے۔ تصویر: آئی این این

دہلی  میں  ایس آئی آر کی  عوامی جانچ (پبلک آڈٹ) اور جن شنوائی  کے دور اس انکشاف کےبعد  صرف ۲؍ بوتھ پر ۱۰۰؍ سے زائد افراد  کے نام ’’غیر حاضر، منتقل یا مردہ ‘‘  قرار دے کر غلط طریقہ سے حذف کردیئے گئے،  کانگریس نے پیر کو سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایس آئی آر کو فوری طور پر منسوخ کرنے اور غیر قانونی طور پر  حذف کئے گئے ناموں کو بحال کرنے کی مانگ کی ہے۔ 

۷؍ دنوں میں ۲۵۸؍ خاندانوں کا آڈٹ

واضح رہے کہ دہلی میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ کئے گئے  ایس آئی آر کی جانچ کے مقصد سے  ’جن سروکار‘، ’مزدور کسان شکتی سنگٹھن‘،  ’ووٹر ادھیکار منچ‘ اور ’نیشنل فیڈریشن آف انڈین وومن‘ جیسی تنظیموں  نے مختلف علاقوں میں ’جن شنوائی‘ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان تنظیموں نے ۷؍ دنوں میں۲۵۸؍ خاندانوں کا احاطہ کیا ہے۔  یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ تنظیموں  کے ذریعہ ۱۸؍ اکتوبر کو بٹلہ  ہاؤس علاقہ میں  منعقدہ ’جن شنوائی‘ میں پیش ہوکر اپنے مسائل بیان کئے۔

یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے ہندوستانی برآمدات پر ڈیوٹی ختم ہوگی

’الیکشن کمیشن اس تباہ کن ایس آئی آرکو  فوراً بند کرے‘

کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے انتہائی برہمی کے ساتھ کئے گئے ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’ ایس آئی آر کے تباہ کن عمل کے دوران حذف کئے گئے ووٹروں کی بڑی تعداد کو ’’غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور دوہری اندراج والے ووٹر‘‘(اے ایس ڈی ڈی)  کے زمرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ بی جے پی اور اس کے غیر سرکاری ترجمان اسی بنیاد پر ایس آئی آر کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’ووٹر لسٹوں کی صفائی‘ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دہلی میں سماجی تنظیموں عوامی آڈٹ نے ’اے ایس ڈی ڈی‘ کے نام پر بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام غلط طریقے سے حذف کئے جانے کا انکشاف کیا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ ’’آڈٹ میں صرف دو پولنگ بوتھوں پر کم از کم۱۰۰؍ ایسے ووٹروں کا پتا چلا جن کے نام ’اے ایس ڈی ڈی‘ کے تحت غلط طریقے سے حذف کئے گئے تھے۔ ان میں زیادہ تر کو منتقل  یا غیر حاضر قرار دیا گیا  ہے۔ ملک بھر میں صرف ان ۲؍ زمروں کے تحت۹؍کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کئے گئے  ہیں۔ ان میں کتنے حقیقی ووٹر ہیں جنہیں ووٹ دینے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے؟

’’ایس آئی آر کو فوراً روکا جائے‘‘

انہوں نے  ان خامیوں کو درست کرنے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایس آئی آر کےاس   تباہ کن عمل سے پیدا ہونے والی بدنظمی کو درست کرنے کی ذمہ داری سماجی تنظیموں کی نہیں بلکہ خود الیکشن کمیشن کی  ہے۔ غیر قانونی اور غیر آئینی ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور جن ووٹرس کے نام ناجائز طور پر حذف کئے گئے ہیں، انہیں دوبارہ ووٹر لسٹوں میں شامل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے:کارٹر روڈ میں ترنگا ریلی نکالنے والوں کو پولیس نے حراست میں لیا

گھر گھر جانے کی حقیقت بھی بے نقاب

جے رام رمیش نے  نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے صورت حال کو سنبھالنے کیلئے  جو مختلف پریس نوٹ جاری کئے ہیںان میں ’خصوصی کیمپوں‘  کے انعقاداور گھر گھر جا کر ووٹر سے رابطہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر اس کی حقیقت بھی سامنے آگئی  ہے۔ جن ووٹروں کے نام غلط طریقے سے حذف کئے گئے ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ  الیکشن کمیشن کے مذکورہ کیمپوں سے واقف ہی نہیں ہیں اور  بی ایل اوز  نے ان سے رابطہ بھی نہیں کیا۔

 غلط نام حذف کرنے کی چند مثالیں
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ۷۴؍ سالہ سبکدوش پروفیسر فیاض احمد ۵؍ دہائیوں سے اسی پتہ پر رہ رہے ہیں مگر انہیں ’’غیر حاضر‘‘ قرار دے فہرست سے نام حذف کردیاگیا۔
ان کی اہلیہ انجم آرا (۶۲) کا نام ’مستقل طورپر منتقل‘ قرار دے کر انتخابی فہرست سے نکال دیاگیاہے۔ 
نعیم الدین (۴۸) بھی  ۳۰؍ سال سے اُسی پتہ پررہ رہے ہیں مگر انہیں بھی ’’ منتقل‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
انگریزی اخبار’دی ہندو‘ نے ایسے ۲۰؍افراد سے بات کی جن کے نام کٹ چکے ہیں مگرانہیں ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے ’خصوصی کیمپ‘کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی، بہ بی ایل او نے رابطہ کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK