عراق میں مسلسل جھڑپیں اور تشدد، اب تک ۳۳؍ افراد ہلاک

Updated: August 31, 2022, 11:34 AM IST | Agency | Baghdad

صدارتی محل کے علاوہ پارلیمنٹ کا بھی گھیرائو، گرین زون میں دوگروہوں کے درمیان لڑائی، مقتدیٰ الصدر کی جانب سے تشدد ختم ہونے تک بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان

A security guard can be seen among protesters in Baghdad.Picture:Agency
بغداد میں مظاہرین کے درمیان ایک سیکورٹی گارڈکو دیکھا جا سکتا ہے تصویر: ایجنسی

عراق میں جاری سیاسی تعطل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔  ملک کے سب سے طاقتور لیڈر مقتدیٰ الصدر کے سیاست چھوڑنے کے فیصلے کے بعد پیر کے روزبغداد میں تشدد آمیز واقعات شروع ہو گئے جنہیں  روکا نہیں جا سکا ہے۔اس کے بعد منگل کے روز ان واقعات میں مزید اضافہ ہو گیا اور  بغداد کا  گرین زون علاقہ مسلسل میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ یہاں ۲؍ دنوں کے اندر پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳۳؍ ہوگئی ہے جبکہ ۴؍ سو سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔  یاد رہے کہ گرین زون اس علاقے کو کہتے ہیں جہاں امریکی  حکام آباد ہیں اور یہاں مقامی لوگوں کو آنا ممنوع ہے۔ یہاں بیشتر غیر ملکی افراد کے دفاتر یا مکانات ہوتے ہیں۔  اس لحاظ سے گرین زون کو سب سے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے ۔ مگر عراق  میں اس وقت گرین زون ہی تشدد کی زد میں ہے۔  مقامی ذرائع کے مطابق مقتدیٰ الصدر کے حامیوں اور الحشدملیشیا کے عناصر کے درمیان جاری لڑائی میں دونوں طرف سے ہلکے، درمیانے اور بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔منگل کو بغداد کے گرین زون میں جاری تصادم میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مقتدیٰ الصدر کے حامی شامل ہیں۔ اطلاع کے مطابق مقتدیٰ الصدر کی جماعت کےماتحت السلام بریگیڈ نے گرین زون کے تمام داخلی راستوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق بغداد میں مظاہرین کی جانب سے عراقی پارلیمنٹ کا گھیراؤ بھی کرلیا گیا ہے اور پارلیمنٹ کے اطراف میں بھی جھڑپیں جاری ہیں۔دارالحکومت بالخصوص گرین زون کی اہم سڑکیں راہ گیروں سے خالی ہیں جبکہ بڑے بڑے ٹرکوں پر مسلح عناصر گشت کررہے ہیں۔ عراقی سیکوریٹی میڈیا سیل کے مطابق گرین زون کے رہائشی علاقے میں چار راکٹ داغے گئے۔ ان راکٹوں کا اصل  نشانہ کون لوگ تھے اس کی اطلاع نہیں ملی ہے۔درایں اثنا ایران نے بغداد میں جاری کشیدگی کےبعد عراق سےمتصل اپنی زمینی سرحد بند کردی ہے۔ تاہم عراقی سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ پرتشددواقعات کے باوجود فلائٹ آپریشن بدستور بحال ہے۔ یاد رہے کہ ایران ، عراق کا پڑوسی ملک ہے۔ 
 مقتدیٰ الصد ر کی بھوک ہڑتال 
 عراق کے سرکردہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کی جانب سے گزشتہ روز سیاست سے سبکدوشی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے  بعد ملک  میں مختلف مقامات پر  جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ منگل کو  بعد مقتدیٰ الصدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پرقائم ہیں۔ انہوں نے امریکہ، مغرب اور ایران سمیت کسی بھی ملک کی طرف سے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کومسترد کردیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کی بھی خبریں ہیں۔ عراقی دارالحکومت کے گرین زون میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد عراقی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے والے صدری بلاک کے سربراہ حسن العذاری نے کہا ہے کہ جماعت کے سربراہ مقتدا الصدر نے ملک میں جاری فسادات اور پرتشدد مظاہرے روکے جانے تک بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ العذاری نے ٹیلی گرام پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ’’بدعنوانوں کو ہٹانے کیلئے، یا کسی کو بھی ہٹانے کیلئے، چاہے کچھ بھی ہو، کسی بھی صورتحال میں تشدد کے استعمال کا جواز نہیں ملتا۔‘‘قبل ازیںمقامی میڈیا نے گرین زون میں سرکاری محل کے قریب میزائل گرنے اور وہاں جاری جھڑپوں میں آر پی جی لانچروں کے استعمال کی اطلاع دی تھی۔ بغداد میں فلسطین اسٹریٹ کے علاقے میں پاپولر موبلائزیشن (الحشد الشعبی) کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی بھی اطلاع ہے۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں بصرہ میں الصدر کے السلام بریگیڈز کے ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ ہوتی ہوئی  دکھائی دے رہی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہر میں عراقی حزب اللہ ملیشیا کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایک اور ویڈیو میں بصرہ میں صدری تحریک کے حامیوں اور الحشد کے جنگجوئوں کے درمیان مسلح جھڑپیں دکھائی دے رہی ہیں۔یاد رہے کہ مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان پیر کو کیا تھا ، اور اس کے  بعد سے ہی  ان کے سیکڑوں مشتعل پیروکاروں نے سرکاری محل پر دھاوا بول دیا۔ ان کی سیکوریٹی فورس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔خبر لکھے جانے تک اطلاع تھی کہ مقتدی ٰ الصدر کی اپیل پر جنگجوئوں نے جھڑپیں بند کردی ہیں۔ 

baghdad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK