امریکہ کا بغداد میں اپنا سفارتخانہ بند کرنے کا اشارہ

Updated: September 29, 2020, 12:03 PM IST | Agency | Baghdad

مصطفیٰ الکاظمی کی حکومت کے امریکی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام ہونے پر امریکی وزارت خارجہ کا بغداد سے امریکی اسٹاف کا بوریا بسترا سمیٹنے کا فیصلہ

US Embassy Iraq
عراق میں امریکی سفارت خانے پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں

مشرق وسطیٰ کی کچھ نیوز ایجنسیوں نے خبر دی ہے کہ امریکہ جلد ہی بغداد میں اپنا سفارتخانہ بند کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ  اس سے قبل واشنگٹن نے عراق کو خبردار کیا تھا کہ اگر عراقی حکومت امریکیوں کے خلاف ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے حملے روکنے کیلئے حرکت میں نہ آئی تو بغداد میں امریکی سفارت خانہ بند کر دیا جائے گا۔اتوار کی شام موصول ہونے والی رپورٹوں میں امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ’’ہمارے پاس ایسی معلومات ہیں جن کے مطابق سفارت خانے پر دھاوا بولنے اور وہاں موجود افراد کو یرغمال بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔‘‘
 ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کو بند کرنے کے فیصلے کو نافذ نہ کرنے کیلئے  عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے سامنے چند مطالبات پیش کئے ہیں۔  ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پومپیو نے الکاظمی کو ان مطالبات پر عمل درآمد کیلئے مہلت دی ہے۔البتہ ذرائع نے بغداد میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر کے اربیل کوچ کر جانے سے متعلق گردش میں آئی خبروں کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ امریکا نے اس بات کی تردید کر دی ہے۔
 ادھر ایک نیوز ایجنسی کے مطابق پومپیو نے الکاظمی کو آگاہ کیا  ہےکہ واشنگٹن امریکی سفارت خانے کو مسلسل نشانہ بنائے جانے سے تنگ آ چکا ہے۔ پومپیو کی جانب سے عراقی قیادت کو دی گئی مہلت پیر کوز ختم ہو نے والی تھی۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے مذکورہ مطالبے نے عراقی وزیر اعظم کو گومگوں صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے  جو ابھی تک امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے پسندیدہ شخصیت تھے۔ مصطفی الکاظمی ایران نواز ملیشیاؤں پر روک لگانا چاہتے ہیں مگر وہ ایسی کارروائی نہیں کرنا چاہتے جس کے نتیجے میں ملک میں ایک سیاسی المیہ جنم لے۔
 امریکی اخبار کے مطابق اگر پومپیو نے امریکیوں کی حفاظت کی خاطر  سفارت خانے کو بند کرنے کی دھمکی پر عمل کر لیا تو ایران اور اس کے حلیف  ایک بڑی فتح کے طور پر اس کا پروپیگنڈا کریں گے۔ تاہم سفارتخانے کا بند ہونا ان ملیشیاؤں کے خلاف امریکی فضائی حملوں میں شدت آنے کا پیش خیمہ بھی  ثابت ہو گا۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران عراق میں امریکہ اور ایران کے درمیان تصادم سامنے آ سکتا ہے۔اخبار کا مزید کہنا ہے کہ ایران اپنے طور پر انتخابی موسم میں ٹرمپ انتظامیہ کو براہ راست اشتعال دلانے کے حوالے سے محتاط رہا ہے لیکن اس  نے عراقی معرکے کے میدان کو استعمال کرنے کو ترجیح دی ہے۔ تاہم اب پومپیو کا موقف سامنے آنے کے بعد ایک کھلے ٹکراؤ کا امکان بڑھ گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال عراق میں امریکہ کے خلاف اچانک عوامی احتجاج شروع ہوا تھا ۔ اس کے بعد سے امریکہ کے سفارتخانوں پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK