کمیٹی میں شامل اراکین پر تنازع، کانگریس کو بھی اعتراض

Updated: January 13, 2021, 11:47 AM IST | Agency | New Delhi

کانگریس نےکہا کہ اس میں شامل تمام اراکین تینوں متنازع زراعتی قوانین کو پہلے ہی درست قرار دے چکے ہیں، اسلئے ان سے کسانوں کو انصاف ملنے کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ان چاروں اراکین کے نام عدالت کو کیوں کرسجھائے گئے؟ کسان لیڈرراجو شیٹی کا فیصلے پر شک کااظہار

Farmers Protest - Pic : PTI
کسانوں کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 کانگریس نے منگل کو کسانوں کے بارے میں سپریم کورٹ کی طرف سے اظہار تشویش کا خیرمقدم کیا   مگر  یہ بھی کہا کہ کسانوں کے مطالبات پر غور کرنے کیلئے جو ۴؍رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس میں شامل تمام اراکین تینوں زراعتی قوانین کو  پہلے ہی درست قرار دے چکے ہیں، اسلئے ان سے کسانوں کو انصاف ملنے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔
 سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کی میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ کمیٹی میں جن ۴؍ اراکین کو شامل کیا گيا ہے، وہ تینوں کسان مخالف قوانین کے حامی ہیں،اسلئے  ان سے کسانوں کے حق میں کام کرنے کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ جب کمیٹی میں شامل چاروں ممبران پہلے ہی سے تینوں زراعتی قوانین کے حامی ہیں، تو عدالت کو کمیٹی تشکیل کیلئے ان کا نام کس نے  اور کیوں دیا؟ عدالت کو ان تمام ممبروں کے خیالات کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا؟
 کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ عدالت کسانوں کے مسائل پر فکرمند ہے اور کسانوں کے حق میں فیصلہ دے رہی ہے۔ ایک روز قبل ہی عدالت نے کسانوں کے مسئلے کو حل نہ کرنے اور انھیں مذاکرات میں الجھائے رکھنے پر حکومت کی سرزنش کی ہے۔ عدالت نے آج بھی کسانوں کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اپنے اگلے حکم تک تینوں زراعتی قوانین کا نفاذ ملتوی کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے کسانوں کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن کمیٹی میں شامل کئے گئے تمام ممبران پہلے  ہی سے  متنازع قوانین کی حمایت کرتے رہے  ہیں،اسلئے ان سے بہتر رہنمائی کی امید کیوں کر کی جاسکتی ہے۔
 کانگریس ترجمان نے کہا کہ کمیٹی حکومت کے حق میں ہے۔کمیٹی کے تمام ممبران عوامی سطح پر مذکورہ تینوں قوانین کی حمایت کرتے رہے ہیں، اسلئے یہ کمیٹی کسانوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی۔ اس میں شامل تمام ممبران حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں جو اراکین بنائے گئے ہیں، ان میں سے ایک ماہر معاشیات اشوک گلاٹی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ تینوں قوانین درست ہیں اور کسان گمراہی کے شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں ان قوانین کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسان اور اپوزیشن اس قانون کو نہیں سمجھ پارہے ہیں۔ کمیٹی کے دوسرے ممبر پی کے جوشی نے بھی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایم ایس پی کا کوئی التزام نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کسانوں کی سوچ ٹھیک نہیں ہے اور وہ  گمراہ ہوکر تحریک چھیڑنے پر اُترآئے ہیں۔
  انہوں  نے بتایا کہ کمیٹی کے تیسرے ممبر انیل دھنونت کا کہنا ہے کہ یہ تینوں قوانین درست ہیں اور ان کے ذریعہ ہی کسانوں کو آزادی ملے گی۔ وہ ایک تنظیم بھی چلاتے ہیں اور ان کی تنظیم مذکورہ قوانین کی حمایت میں مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ کمیٹی کے چوتھے ممبر گورنمنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن بھوپندر سنگھ مان ہیں، جنہوں نے ایک میمورنڈم دے کر کہا ہے کہ یہ تینوں قوانین درست ہیں ،اسلئے انہیں  نافذ کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ تینوں قوانین ملک کے آئین اور ریاستوں کے حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہیں، اسلئے ان تینوں متنازع قوانین کو رد کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کم از کم امدادی قیمت کے نظام کو ختم کرنا چاہتی ہے، اسی لئے اس نے زراعت مخالف قانون سازی کی ہے۔ آج اس کے خلاف کسان سڑکوں پر احتجاج کر رہا ہے لیکن حکومت اسے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
 کانگریس کے ساتھ ہی سوابھیمانی شیتکری سنگٹھن(ایس ایس ایس)کے قومی صدر راجو شیٹی نے  متنازع قانون کے نفاذ پر عبوری حکم امتناع نافذ کرنے پر شک کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکزی حکومت کی سازش کا حصہ لگتاہے۔ شیٹی نے کہا کہ قانون کے نفاذ پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا ہے جبکہ کسانوں نے تینوں قوانین کو واپس لینے اورگارنٹی نرخوں کیلئے نئے قانون میں ترمیم  کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے کسانوں کے مطالبات پر توجہ نہیں دی اور تینوں زراعتی قوانین کے نفاذ پر روک لگاتے ہوئے تحریک کرنے والے کسانوں سے بات کرنے کیلئےکمیٹی تشکیل دی ہے۔ شیٹی نے کہا کہ کمیٹی کے ممبران کے ناموں کا پتہ چلنے کے بعد ہمارے دماغ میں شک کا پیدا ہونا لازمی ہے۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK