راجیو گاندھی قتل کیس کے مجرم نے سنجے دت کو بری کئے جانے کی تفصیلات طلب کیں

Updated: February 22, 2021, 10:45 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی قتل کیس میں سزا پانے والے مجرم اے جی پیراری ویلن نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کرتے ہوئے ۱۹۹۳ءبم دھماکہ کیس میں سزا پانے والے اداکار سنجے دت کو اچھے برتاؤ کے سبب سزا پوری ہونے سے قبل رہا کئے جانے کے فیصلہ کی تفصیلات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ۔

Rajiv Gandhi - Pic : INN
راجیو گاندھی ۔ تصویر : آئی این این

آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی قتل کیس میں سزا پانے والے مجرم اے جی پیراری ویلن نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کرتے ہوئے ۱۹۹۳ءبم دھماکہ کیس میں سزا پانے والے اداکار سنجے دت کو اچھے برتاؤ کے سبب سزا پوری ہونے سے قبل رہا کئے جانے کے فیصلہ کی تفصیلات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے ۔ ہائی کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ نے عرضداشت کو قبول کرتے ہوئے اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن (ایس آئی سی) کو اس ضمن میں اپنی آراء سے کورٹ کو آگاہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عرضداشت گزار اے جی پیراری ویلن نے اپنے وکیل نیلیش اوکی کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ کے جسٹس کےکے ٹائیڈے اور جسٹس ریاض چھاگلا کے روبرو عرضداشت کے ساتھ وہ حلف نامہ بھی داخل کیا ہے جس میں سنجے دت کو سزا پوری ہونے سے قبل ملی رہائی کی تفصیلات حاصل کرنے کے لئے داخل کی گئی اپیل پر تمل ناڈو کے گورنر بنواری لال پروہت اور سپریم کورٹ کے ذریعہ منسٹری آف ہوم آفیئرس کا اجازت نامہ حاصل کیا گیا ہے ۔ عرضداشت گزار نے اپنی اپیل کے ذریعہ کورٹ کو بتایا کہ سنجے دت کی سزا معاف کرنے اور اسے بری کرنے کے سلسلہ میں آر ٹی آئی کے ذریعہ پونے کی یروڈا جیل سے تفصیلات مانگی گئی تھی لیکن انہوں نے تفصیلات دینے سے صاف انکار کر دیا ۔ عرضداشت گزار کے وکیل نے یہ بھی بتایا کہ میرا موکل آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو قتل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا بم بنانے کے جرم میں چنئی کی پزاہال سینٹرل جیل میں برسوں سے قید ہے اور عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے ۔ وکیل کے بقول وہ سنجے دت کو مزید سزا دلانے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے بلکہ اچھے برتاؤ کے سبب ہونے والی رہائی اور کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں جیل سے رہائی کی اپیل کرنا چاہتا ہے ۔ وکیل نے ۲؍ رکنی بنچ سے مزید کہا کہ اس سلسلہ میں اس نے اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن کو بھی سنجے دت کو اچھے برتاؤ کے سبب رہا کئے جانے کی تفصیلات فراہم کرنے کی اپیل کی تھی لیکن انہوں نے تفصیلات فراہم کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے ۔ کورٹ نے ایس آئی سی کو اپنا موقف واضح کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK