عمان اور آئس لینڈ نے سبز ہوائی ایندھن (ایس اے ایف) کی عالمی کامیابی کے لیے ہندوستان کے ساتھ تعاون کو ضروری قرار دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس شعبے میں ہندوستان کے اندر وسیع امکانات موجود ہیں۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 8:14 PM IST | New Delhi
عمان اور آئس لینڈ نے سبز ہوائی ایندھن (ایس اے ایف) کی عالمی کامیابی کے لیے ہندوستان کے ساتھ تعاون کو ضروری قرار دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس شعبے میں ہندوستان کے اندر وسیع امکانات موجود ہیں۔
عمان اور آئس لینڈ نے سبز ہوائی ایندھن (ایس اے ایف) کی عالمی کامیابی کے لیے ہندوستان کے ساتھ تعاون کو ضروری قرار دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ اس شعبے میں ہندوستان کے اندر وسیع امکانات موجود ہیں۔ ہندوستان میں آئس لینڈ کے سفیر بینیڈکٹ ہوسکولڈسن نے نئی دہلی منعقدہ دوسرے ایس اے ایف کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئس لینڈ کے لیے ہوا بازی دنیا سے جڑے رہنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہندوستان نے ۲۰۲۷ء تک ایک فیصد اور ۲۰۲۸ء تک دو فیصد سبز ہوائی ایندھن کے استعمال کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے بڑے پیمانے پر طلب پیدا ہوتی ہے۔ اصل چیلنج اسی تناسب سے اس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان جعلی اے آئی ویڈیوز پر برہم، بنانے والوں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اکیلے ایس اے ایف کے لیے مکمل ماحولیاتی نظام قائم نہیں کر سکتا۔ بھارت کے پاس صنعتی پیمانے پر پیداوار اور انجینئرنگ میں بہترین صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے بھارتی کمپنیوں کو آئس لینڈ کے راستے شمالی نصف کرۂ ارض کے ممالک کی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے لیے مدعو کیا۔
ہندوستان میں عمان کے سفیر عیسیٰ صالح عبداللہ صالح الشیبانی نے بھی کہا کہ سبز ہوائی ایندھن کے شعبے میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری اور تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہوا بازی کے شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق ہم بھی خود کو تبدیل کریں۔ ہندوستان کی جانب سے ایس اے ایف کو اپنانے سے توانائی، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور عمان کے درمیان مضبوط شراکت داری سبز ہوابازی کے حل تیار کرنے اور سبز توانائی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ایس اے ایف کے استعمال کی رفتار بڑھانے اور سبز ہوابازی کا مستقبل تشکیل دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون انتہائی ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:یوئیفانیشنز لیگ: آئرش فٹبالرز نے اسرائیلی ٹیم سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا
ایس اے ایف ایسوسی ایشن کے صدر اور زیڈ آر۲؍ گروپ کے بانی جمی اولسن نے کہا کہ روپے کی قدر میں جاری گراوٹ کے باعث ہندوستان کے لیے ایس اے ایف انتہائی اہم ہے۔ ہندوستان کو کم لاگت والا سبز ہوائی ایندھن تیار کرنا ہی ہوگا۔ ایس اے ایف ایسوسی ایشن اور کاربن مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی ایم اے آئی) کے جنرل سکریٹری روہت کمار نے کہا کہ تنظیم صنعت کی قیادت میں تعاون اور عالمی شراکت داری کے ذریعے ایس اے ایف کی پوری ویلیو چین کو ایک ساتھ لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبز ایندھن کے لیے خام مال کے مواقع سے کسانوں کی آمدنی میں فی ہیکٹر تقریباً ۱۶۰؍ سے ۳۰۰؍ ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔