• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوئیفانیشنز لیگ: آئرش فٹبالرز نے اسرائیلی ٹیم سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا

Updated: September 28, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان یوئیفا نیشنز لیگ کے میچ سے قبل افتتاحی تقریب میں آئرلینڈ کے فٹبالرز نے اسرائیلی کھلاڑیوں سے روایتی مصافحہ نہیں کیا۔ آئرش کھلاڑیوں نے میچ کے دوران سیاہ بازو پٹیاں بھی باندھیں اور اسرائیلی قومی ترانے کے دوران سر جھکا کر کھڑے رہے۔

Ireland Team.Photo:X
آئرش ٹیم۔ تصویر:ایکس

آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان یوئیفا نیشنز لیگ کے میچ سے قبل افتتاحی تقریب میں آئرلینڈ کے فٹبالرز نے اسرائیلی کھلاڑیوں سے روایتی مصافحہ نہیں کیا۔ آئرش کھلاڑیوں نے میچ کے دوران سیاہ بازو پٹیاں بھی باندھیں اور اسرائیلی قومی ترانے کے دوران سر جھکا کر کھڑے رہے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے جب غزہ کی جنگ کے تناظر میں اس میچ کو پہلے ہی شدید سیاسی اور عوامی بحث کا سامنا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:سمے رائنا نے آیوشمان کھرانہ سے کہا، ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘ کیلئے ری فنڈ ہی چاہئے

میچ  ۲۷؍ ستمبر ۲۰۲۶ءکوہنگری کے  ناگیردےئی اسٹیڈیم، ڈیبرےسن  میں کھیلا گیا، جہاں آئرلینڈ نے اسرائیل کو ۳-۰؍گول سے شکست دی۔ آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے میچ سے قبل اسرائیلی ٹیم کے ساتھ مصافحے اور روایتی پیننٹ کے تبادلے میں بھی حصہ نہیں لیا۔ رپورٹس کے مطابق آئرلینڈ کی جانب سے پہلے ہی اسرائیلی حکام کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ کھلاڑی مصافحہ نہیں کریں گے اور یوئیفا نے اس انتظام کو قبول کیا تھا۔ افتتاحی تقریب میں جب اسرائیل کا قومی ترانہ بجایا گیا تو آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے سر جھکا لیا۔ ٹیم نے سیاہ بازو پٹیاں بھی پہن رکھی تھیں۔ آئرش فٹبال حکام کے مطابق یہ بازو پٹیاں اسرائیل-حماس تنازع کے دوران ضائع ہونے والی  تمام انسانی جانوں کے احترام  کی علامت تھیں۔  آئرلینڈ کے کپتان  ڈارا اوشی (Dara O`Shea)  نے مرکز میں ہونے والی رسمی ملاقات کے دوران اسرائیلی کپتان مانور سولومون سے مصافحہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے میچ کے ریفری اور اس کے معاونین سے مصافحہ کیا۔ اس طرح یہ واضح رہا کہ مصافحے سے گریز صرف دونوں ٹیموں کے درمیان رسمی پروٹوکول تک محدود تھا۔ 
آئرلینڈ اور اسرائیل کو نیشنز لیگ کے  گروپ بی تھری  میں ایک ہی گروپ میں شامل کیے جانے کے بعد سے یہ مقابلہ سیاسی تنازع کا مرکز بنا ہوا تھا۔ آئرلینڈ میں بعض گروپوں نے ٹیم سے اسرائیل کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اسٹاپ دی گیم مہم کے تحت آئرش اسپورٹس فار فلسطین سے وابستہ افراد نے بھی میچ نہ کھیلنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم آئرش ٹیم نے میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیم کے کوچ  ہیمیر ہالگریمسن  نے میچ سے قبل کہا تھا کہ اسرائیل کے خلاف کھیلنے کو غزہ میں جاری واقعات کی حمایت یا منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ٹیم مقابلے میں اس لیے شریک ہوئی کیونکہ یہ نیشنز لیگ کے مقابلے کا حصہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’السلام علیکم‘‘: کرسٹیانو رونالڈو جونیئر نے عربی بول کر مداحوں کو حیران کردیا

سیاسی اور احتجاجی ماحول کے باوجود میدان میں آئرلینڈ نے میچ پر مکمل گرفت حاصل کی۔ رائے پیروٹ  نے ۱۴؍ویں منٹ میں آئرلینڈ کو برتری دلائی، جس کے صرف دو منٹ بعدایڈم ایدا  نے دوسرا گول کر دیا۔ پہلے ہاف میں ہی جیک موئلان  نے ۲۵؍ویں منٹ میں تیسرا گول کرکے آئرلینڈ کی برتری ۳-۰ کردی۔ اسرائیل نے دوسرے ہاف میں گول کرنے کی کوشش کی، تاہم آئرلینڈ کے گول کیپرکوئمہین کیلہر نے اہم مواقع پر اپنی ٹیم کو بچایا۔ میچ کے اختتام پر بھی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان روایتی مصافحہ نہیں ہوا۔  
 میچ سے پہلے آئرلینڈ کے گول کیپرگاوین بازونو نے اسرائیل کے خلاف ہونے والے دونوں نیشنز لیگ مقابلوں میں شرکت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اپنی ذاتی سوچ کی بنیاد پر ان مقابلوں میں شرکت کرنا ان کے لیے درست نہیں ہوگا۔ وہ ۲۷؍ ستمبر کے میچ کے ساتھ ساتھ  ۴ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو سربیا میں ہونے والے دوسرے مقابلے سے بھی الگ ہوگئے۔ آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان نیشنز لیگ کا دوسرا مقابلہ ۴ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو سربیا کے  باچکا توپولا  میں شیڈول ہے۔ موجودہ مقابلے کی طرح اس میچ کے حوالے سے بھی سکیورٹی اور سیاسی حساسیت نمایاں ہے۔ آئرلینڈ اور اسرائیل کا یہ نیشنز لیگ مقابلہ صرف کھیل کے اعتبار سے نہیں بلکہ میچ سے قبل کے احتجاجی اقدامات، مصافحے سے گریز، سیاہ بازو پٹیوں اور غزہ کے تنازع کے باعث بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ آئرلینڈ نے میدان میں  ۳-۰ ؍گول  سے کامیابی حاصل کی، جبکہ میچ کا سیاسی پس منظر بھی اس مقابلے کی نمایاں خصوصیت رہا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK