ٹرمپ اور بائیڈن کے آخری مباحثے میں بھی کورونا حاوی

Updated: October 24, 2020, 11:06 AM IST | Agency | Washingtone

جو بائیڈن کے مطابق جو شخص کورونا کے سبب ہونے والی اموات کا ذمہ دار ہے اسے صدر کے عہدے پر نہیں رہنا چاہئے، ٹرمپ کا بائیڈن پر روس سے پیسے لینے کا الزام

Donald Trump And joe Biden .Picture :INN
ڈونالڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن۔ تصویر:آئی این این

امریکہ میں صدارتی انتخاب سے قبل ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے درمیان آخری صدارتی مباحثے میں ایک بار پھر کورونا وائرس حاوی رہا حالانکہ اس میں، ماحولیات اور نسلی امتیاز کے مسائل پر بھی بحث ہوئی۔ریاست ٹینیسی کے شہر نیشول کی بیلمونٹ یونیورسٹی میں جمعرات کی شب منعقدہ صدارتی مباحثے میں کورونا وائرس سے متعلق سوال پر  جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کے سبب امریکہ میں۲؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہے اسے صدر کے عہدے پر نہیں رہنا چاہئے۔انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے بتایا کہ عالمی وبا ایسٹر تک ختم ہو جائے گی؟ ماڈریٹر کے سوال  کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ وبائی مرض کے خلاف ہماری سخت جنگ جاری ہے۔جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ نجات مل رہی ہے۔پھر ٹرمپ نے بائیڈن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اُن پر الزام عائد کیا کہ ملک کا صدر بننےپر وہ ملک کو بند کر دینا چاہتے ہیں۔ اگر بیوروکریسی کے کسی ایک شخص نے بھی ’شٹ ڈاؤن‘ کا کہہ دیا تو جو بائیڈن پورے ملک کو بند کر دیں گے۔ ایک سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم بیماری کو سمجھ رہے ہیں، اس پر مطالعہ جاری ہے اور ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔​ ڈونالڈرمپ نے کہا کہ’’ اس وائرس  سے خود متاثر ہونے کے بعد میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ جو بائیڈن نے صدر ٹرمپ کا نام لئے بغیر کہا کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم اس مرض کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں، میں کہتا ہوں لوگ اس کے ساتھ مرنا سیکھ رہے ہیں۔‘‘جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ اس بحران کی ذمہ داری نہیں لیتے جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ذمہ داری لیتے ہیں لیکن فوارً ہی انھوں نے اس بحران کا ذمہ دار چین کو ٹھہرا دیا۔صدر ٹرمپ نے کہا’’وہ (چین) اسے دنیا میں پھیلنے سے نہیں روک سکے۔‘‘صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ یہ( امریکہ ایک بہت بڑا ملک ہے اور اس کی معیشت بھی بہت بڑی ہے۔ لوگ یہاں اپنی نوکریاں کھو رہے ہیں اور خودکشیاں کر رہے ہیں۔ ان افراد کا ڈپریشن بڑھ گیا ہے ، جس کی وجہ سے ان میں شراب نوشی اور دیگر  نشوں کی سطح  بہت بڑھ گئی ہ  
روس سے پیسے لینے کا الزام
  مباحثے کے دوران قومی سلامتی پر گفتگو غیر ملکی سیاسی اثر و رسوخ سے متعلق بحث میںتبدیل ہو گئی اور دونوںامیدوار ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے لگے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے جوبائیڈن پر روس سے پیسہ لینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے  طنز کرتے ہوئے کہا ’’ میں نے روس سے کبھی پیسے نہیں لئے۔  میں نے روس سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔ ‘‘ پھر بائیڈن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’ وہ(روس والے) آپ کو پیسے دے رہے تھے، اور ممکن ہے ابھی دے رہے ہوں۔‘‘ جواب میں جو بائیڈن نے کہا’’میں نے کبھی بھی کسی بھی ملک سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔‘‘
 ٹرمپ کا نسلی پرستی  سے انکار
   ڈونالڈ ٹرمپ نے نسل پرستی کے الزام کو سرے سے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پولیس  میں کہیں بھی نسلی تعصب نہیں ہے۔ جبکہ  بائیڈن کا زوراس بات پر تھا کہ امریکہ میں محکمہ جاتی  سطح  پر نسل پرستی ہے۔ ٹرمپ نے خود کو سیاہ فام باشندوں کے لئے سب سے بہتر صدر قرار دیا جبکہ بائیڈن پر یہ کہہ کر تنقیدکی کہ ’’اتنے سال میں انہوں نے سیاہ فاموں کےلئے کچھ نہیں کیا۔‘‘اس پر ٹرمپ نے سیاہ فام شہریوں کیلئے تعلیمی اور معاشی سطح پر کئے گئے کاموں کو گنوایا۔دونوں امیدواروں نے پہلے مباحثے کے مقابلے میں نسبتاً شائستہ انداز اپنایا اور ایک دوسرے کو اپنا  نقطۂ   نظر بیان کرنے کا موقع دیا۔اس سے قبل ۲۹؍ستمبر کو ہونے والےپہلے صدارتی مباحثے میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر ذاتی حملے اور تنقید کی تھی۔ اس مباحثے کو سیاسی ماہرین نے امریکی تاریخ کا بدترین مباحثہ قرار دیا تھا۔ ۹۰؍ منٹ کے اس مباحثے میں ہر ۱۵؍ منٹ کے سیشن کے ابتدائی دو منٹ میں ایک امیدوار کا مائیک بند رہا تاکہ دوسرے امیدوار کو اپنے ابتدائی کلمات کہنے کا پورا موقع مل سکے۔این بی سی نیوز سے وابستہ مباحثے کی میزبان کرسٹن  ویلکر نے مباحثے کے لئے  سوالات کا انتخاب کیا تھا جو کورونا وائرس،امریکی عوام، ماحولیاتی تبدیلی، نسلی امتیاز، قومی سلامتی اور ملکی قیادت سے متعلق تھے۔آخری مباحثے سے قبل صدر ٹرمپ نے کرسٹن  ویلکر کو متعصب قرار دیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK