کورونا کا اثر،بے روزگاری کی وجہ سے ہاکروں کی تعداد میں اضافہ

Updated: May 15, 2022, 10:09 AM IST | Mumbai

جن سڑکوں پر پہلےہاکرنہیں تھے وہاں بھی اب ان کی بڑی تعداد نظر آنے لگی ہے،جن سڑکوں پر پہلے بھی ہاکر رہا کرتے تھےوہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے

Dadar`s Ranade Road on which a large number of hawkers can be seen
دادر کے راناڈے روڈ کی ہے جس پر بڑی تعداد میں ہاکر دیکھے جاسکتے ہیں

:کورونا وبا کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا ہے،جس میں سے اکثر لوگ کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، وہ یہ کہ جو روڈ کبھی ہاکر فری یا ہاکروں سے پاک تھے وہ بھی اب ہاکروں سے بھر گئےہیں۔حالانکہ عوام لوگوں کی ملازمت چھوٹ جانے کے مسئلے سے واقف ہیں اور ان سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں لیکن سڑکوں پر بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے پریشان بھی ہیں۔برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ابھی تک اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں کی ہے۔ہاکرز پالیسی جس سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتاہے ۷؍ سال بعد بھی مکمل نہیں ہوسکی ہے اور ابھی تک صرف کاغذات تک ہی محدود ہے۔ایک شخص جو پہلے گارمنٹ فیکٹری میں کام کرتا تھا لیکن اب اس کی ملازمت چھوٹ چکی ہے کہتا ہے کہ’’اب میں بوریولی میں روڈ پر مچھلی فروخت کرتاہوں۔‘‘
 بی ایم سی کے پاس مختلف وارڈوں میں موجود ہاکروں کے تعلق سے کوئی اعدادوشمار موجود نہیں ہے لیکن زیادہ تر کارپوریٹروں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ہاکروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب شکایتیں موصول ہوتی ہیں تو ہم کارروائی کرتے ہیں لیکن ہاکر پھر لوٹ آتے ہیں۔
 بھلیشور میں واقع کھائو گلی پہلے ہی ہاکروں سے بھر چکی ہے جو کہ پہلے اتنی زیادہ بھری ہوئی نہیں تھی۔ اگیاری لین، تیسری بھوئیواڑہ لین، رام واڑی، دوا بازار جیسے علاقےکھانے پینے کی چیزیں اور سبزی وغیرہ فروخت کرنے والوں سے بھرےہوئے ہیں۔ سابق کارپوریٹ ریتا مکوانا نے کہا کہ’’میرے وارڈ میں ایک شخص کی ملازمت چلی گئی وہ گرگائوں میں واقع اپنی بلڈنگ کے سامنے کیلے فروخت کرتا ہے۔ وہ کر بھی کیا سکتاہے؟ لیکن اس کی وجہ سے پہلے ہی سے پتلی گلی میں ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ممبئی کی تقریباً ہر گلی اسی طرح کے ہاکروں سے بھری ہوئی ہے۔
 سمیر مجاور جو قلابہ میں پھل فروخت کرتا ہے نے کہا کہ ’’پہلے میں بھیونڈی کی گارمنٹ فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا لیکن کورونا کے دور میں میری ملازمت چلی گئی۔ گزارے کیلئے مجھے کچھ تو کرنا ہی ہوگااس لئے کچھ لوگوں کی مدد سے میں نےپھل فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔‘‘
 سلمیٰ شیخ  نامی رضاکار جو ہاکروں کے حق کیلئے آواز اٹھاتی رہتی ہیںانہوں نے کہا کہ’’جب پرانے ہاکر کورونا وبا کے دوران اپنے گائوں چلے گئے تو کچھ نئے لوگوں نے وہاں پر ٹھیلا لگانا شروع کردیا۔ اب کچھ نئے لوگ کل وقتی خوانچہ فروش بن چکے ہیں۔‘‘
 آر سائوتھ وارڈ کی اسسٹنٹ کمشنر سندھیا ناندیڑکر نے کہا’’ہمارے پاس کسی مخصوص علاقے میں ہاکروں کی بڑھتی تعداد کے تعلق سے کوئی مخصوص اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔ جب ہمارے پاس اس تعلق سے شکایت موصول ہوتی ہے تو ہم اس کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
 واضح رہے کہ ہر وارڈ کو انہدامی کارروائی کیلئے ۲۰؍لاکھ روپے ملتے ہیں جومشینیں اور مزدور کرائے پر لینے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو اضافی رقم کا مطالبہ کیا جاسکتاہے۔
 آزاد ہاکرز یونین کے بانی دیاشنکر سنگھ نے کہا کہ ’’ہاکروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔وہ روڈ جہاں پہلے ہاکر نہیں ہوا کرتے تھے اب ان سے بھر چکے ہیں اور اس کی وجہ بی ایم سی کی بدعنوان پالیسی ہے۔بی ایم سی کارروائی کیوں نہیں کرتی؟اگر اس نے پہلے ہی ہاکرز پالیسی نافذ کررکھی ہے  اور خوانچہ فروشی کا سرٹیفکیٹ دیا ہوا ہے تووہ غیر قانونی ہاکروں کو آسانی سے ہٹا سکتی ہے۔ لیکن بی ایم سی ایسا نہیں کرے گی کیوں کہ اسے اپنی بدعنوانی کا کاروبار جاری رکھنا ہے۔
 غیر قانونی قبضہ جات ہٹانےکے محکمہ کے ڈپٹی میونسپل کمشنرچندا جادھو نے کہا کہ’’میرے پاس فنڈ میں اضافہ کا کوئی مطالبہ نہیں آیا اور نہ ہی اس تعلق سے معلومات موصول ہوئی ہےکہ ہاکروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ہمارے پاس وافر فنڈ موجود ہے اوروارڈ کی سطح پر کارروائی کی جانی چاہئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK