چین میں اس سال کے آخرتک کورونا کی ویکسین دستیاب ہوگی، انسانوں پر تجربہ کامیاب

Updated: September 16, 2020, 8:55 AM IST | Agency | Beijing

چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کے حکام نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ملک میں بنائی جانے والی ویکسین اس سال کے آخر میں عوامی سطح پر ملنی شروع ہو جائے گی

Vaccine - Pic : INN
ویکسین ۔ تصویر : آئی این این

چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کے حکام نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ملک میں بنائی جانے والی ویکسین اس سال کے آخر میں عوامی سطح پر ملنی شروع ہو جائے گی۔چین میں کورونا وائرس کی چار ویکسین کے انسانوں پر تجربات کئے جا رہے ہیں جو اپنے  آخری مراحل میں ہیں۔ ان میں سے تین ویکسین ایسی ہیں جو جولائی میں خصوصی طبی رضاکاروں کیلئے  ہنگامی بنیاد پر شروع کئے گئے پروگرام کے تحت دی گئی ہیں۔
 سی ڈی سی کی سربراہ اور بائیو سیفٹی کی ماہر گویژن وو کا کہنا تھا کہ ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائل حوصلہ افزا رہے ہیں اور نومبر یا دسمبر میں عوامی استعمال کیلئے ان کی فراہمی شروع ہو سکتی ہے۔گویژن وو کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی اپریل میں ویکسین استعمال کی تھی اور اس کے کسی قسم کے منفی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کون سی ویکسین استعمال کی تھی۔چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی چائنا نیشنل فارماسوٹیکل گروپ (سائنوفارم) اور امریکہ میں رجسٹرڈ چینی کمپنی سینووک بائیوٹیک نیشنل ایمرجنسی پروگرام کے تحت مشترکہ طور پر تین ویکسین کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔چوتھی ویکسین `کین سینو بائیولوجکس نے تیار کی ہے جسے جون میں چین کے فوجیوں پر استعمال کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
 دوا ساز کمپنی سائنو فارم نے جولائی میں کہا تھا کہ تیسرے مرحلے کے تجربات مکمل ہونے کے بعدکورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین اس سال کے آخر تک دستیاب ہو جائے گی۔خیال رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ۹؍ لاکھ ۲۵؍ ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ اسی وجہ سے ویکسین بنانے والے بین الاقوامی اداروں میں اسے  جلد از جلدتیار کرنے کی مقابلہ آرائی جاری  ہے۔گزشتہ ہفتے برطانیہ میںکورونا وائرس کی ویکسین کے آخری مرحلے کے تجربات عارضی طور پر معطل کر دیئے گئے تھے جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ جن رضاکاروں کو آزمائشی طور پر ویکسین دی جا رہی تھی ان میں سے ایک شخص بیمار ہو گیا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایک دوا ساز کمپنی `آسٹرا زینیکا مشترکہ طور پرکورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آسٹرا زینیکا کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائل میں رضاکارانہ طور وقفہ کیا گیا ہے تاکہ ٹرائل کے دوران سامنے آنے والی بیماری کی چھان بین کی جا سکے اور ویکسین کی آزمائش کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے​۔ واضح رہے کہ چین وہ ملک ہے جہاں سب سے پہلے کورونا پھیلا تھا اور سب سے پہلے ختم ہو گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK