عالمی معیشت کو متحرک رکھنے کیلئے۵۰؍ کھرب ڈالر مختص کرنے کا اعلان

Updated: March 30, 2020, 2:03 PM IST | Agency | New Delhi

ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقدہ جی ۲۰؍ اجلاس میںشریک نمائندہ ممالک کے سربراہان نےکورونا سے معیشت کو ہونے والے خسارے میں ایک دوسرے کو ۔ شریک کرنے اور عالمی تجارت میں ہونے والے انتشار کو دو ر کرنے پر اتفاق کیا ہے ، عالمی وبا سے نمٹنےکیلئے یکجہتی اور شفاف نیز مربوط لائحہ عمل کی ضرورت پرزور

G20 Summit - PIC : PTI
جی ۲۰ سمٹ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

دنیا کے امیر ترین ۲۰؍ ممالک کی تنظیم `جی ٹوینٹی کے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے  لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے ہونے والی معاشی تنزلی کا مقابلہ کرنے کیلئے عالمی معیشت میں۵۰؍ کھرب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کریں گے تاکہ معیشت متحرک رہے۔اس کے علاوہ اجلاس کے شرکاءنے صحت سے متعلق خسارے میں ایک دوسرے کو شریک کرنے اور عالمی تجارت میں ہونے والے انتشار کو دور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
 جی ۲۰؍ کانفرنس میں نمائندہ ممالک کے سربراہان  بالمشافہ شامل نہیں ہوئے بلکہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس میں شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری کئے  گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے یکجہتی کے ساتھ، ایک شفاف، مربوط، اور سائنسی بنیادوں پر استوار وسیع تر لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جی ٹوینٹی اجلاس کی کارروائی پر جمعرات ہی کے روز ایک پریس کانفرنس میں بات کریں گے جس میں وہائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس سے متعلق ٹاسک فورس کے اراکین بھی شامل ہوں گے۔بیان میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی۔ تاہم، بظاہر یہ وہ رقم ہے جو مختلف حکومتیں معیشت کو متحرک رکھنے کے لیے اپنی اپنی معیشت میں شامل کرتی رہی ہیں۔ اس میں امریکہ کی جانب سے ۲؍ کھرب ڈالر کی رقم شامل ہے جو اس وقت منظوری کے لیے کانگریس کے سامنے ہے۔بیان میں عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے، جی ٹوینٹی گروپ نے تین بنیادی شعبوں میں عالمی تعاون کا ذکر کیا ہے۔
 ان میں پہلا شعبہ عالمی معیشت کو متحرک رکھنے کا ہے، جس کیلئے ۵؍ کھرب ڈالر کی اضافی رقم اس میں شامل کی جائے گی اور اس کا ہدف اقتصادی پالیسی، معاشی اقدامات اور وہ اسکیمیں ہوں گی جن کے ذریعے عالمی وبا کے سماجی، معاشی اور مالی اثرات پر قابو پایا جا سکے۔
 دوسرا شعبہ صحت سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ وقت پر شفاف معلومات اور صحت سے متعلق اپنے اپنے ڈیٹا کا تبادلہ کریں گے اور دنیا بھر کے صحت سے متعلق نظام کو مضبوط بنائیں گے۔تیسرا شعبہ عالمی تجارت میں آنے والے انتشار کو دور کرنے کا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی ضروریات کے مطابق، ادویات اور ضروری زراعتی پیداوار کی رسد جاری رکھنے پر کام کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر رسد بند نہ ہو۔یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں جب کہ دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی مجبوراً گھروں میں بند ہے۔
 جی ۲۰؍ ممالک کے گروپ کے اس جلاس کی سربراہی سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے کی۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی اجلاس اس لیے طلب کیا گیا تاکہ عالمی وبا اور اِس کے معیشتوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر کاوشوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔کرفیو، لوگوں کو گھروں میں بند رہنے کی ہدایات، کاروباری، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں پر بندشوں کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتیں سخت تنزلی کا شکار ہیں۔سعودی عرب کو خام تیل کی پیداوار میں اضافے اور اس کی قیمتوں میں کمی کرنے کی وجہ سے بھی نکتہ چینی کا سامنا ہے۔سعودی عرب نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب جی ٹوینٹی گروپ کےتیل پیدا کرنے والے ایک اور رکن، روس نے تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ دونوں ملک، عالمی منڈی میں اپنی تیل کی برآمدات بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔امریکہ، پہلے ہی سعودی عرب سے کہہ چکا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔ اس ہفتے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے، امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ جی ۲۰؍ کے رہنما اور تیل پیدا کرنے والا ایک اہم ملک ہونے کی حیثیت سے سعودی عرب کو فی الوقت معاشی بے یقینی کی صورتِ حال میں عالمی سطح پر توانائی اور دنیا بھر کی اقتصادی منڈیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔
 اس ہفتے جی ۷؍ گروپ، یعنی دنیا کی ۷؍ امیر ترین معیشتوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اس وائرس کا گڑھ چین کو قرار دینے پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ گروپ، امریکہ کی جانب سے اس وائرس کو ووہان وائرس کہلانے پر متفق نہیں ہو سکا تھاجس کے بعد گروپ نے کوئی مشترکہ بیان دینے سے گریز کیا۔دی انٹرنیشنل لیبر آرگنا ئز یشن کا کہنا ہے کہ دنیا کی تقریباً ۴۰؍ فیصد آبادی کے پاس ہیلتھ انشورنس نہیں ہے اور نہ ہی انہیں صحت کی سرکاری سہولتوں تک رسائی حاصل ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا کی ۴؍ ارب نفوس پر مشتمل آبادی میں سے ۵۵؍ فیصد کو کسی بھی قسم کا سماجی بہبود اور تحفظ حاصل نہیں۔
 تنظیم کا کہنا ہے کہ صحت کا موجودہ بحران اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ۲۰۰۸ء کے معاشی بحران کے بعد، حکومتیں، لوگوں کو کسی بھی قسم کی صحت کی سہولت یا بے روزگاری میں مدد فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔آئی ایم یف اور ورلڈ بینک نے اجلاس کے آغاز سے قبل ہی، جی  ۲۰؍ کے ارکان کو خبردار کیا تھا کہ ترقی پزیر ممالک کو سخت قسم کے معاشی اور سماجی نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان ممالک میں دنیا کی ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے۔یہ اجلاس ایک ایسے وقت پر طلب کیا گیا ہے جب یہ تنقید شدت اختیار کر رہی ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک نے دنیا بھر کی آبادی پر وائرس اور اس سے مرتب ہونے والے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے اتفاق و اتحاد سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK