Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا:فلسطین کے خلاف ’امتیازی سلوک‘ پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد

Updated: March 20, 2026, 3:11 PM IST | Zurich

فیفا نے اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے ) پر۱۶۴۰۰۰؍ یورو کاجرمانہ عائد کیا ہے اور اسے فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن (پی ایف اے )کے خلاف مستقبل میں ’امتیازی سلوک اور نسل پرستانہ رویے‘ سے خبردار کیا ہے۔

Fifa.Photo:INN
فیفا۔ تصویر:آئی این این

فیفا نے اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے ) پر۱۶۴۰۰۰؍ یورو کاجرمانہ عائد کیا ہے اور اسے فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن (پی ایف اے )کے خلاف مستقبل میں ’امتیازی سلوک اور نسل پرستانہ رویے‘ سے خبردار کیا ہے۔ عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی نے  آئی ایف اے  کو اس کے مستقبل کے طرزِ عمل کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے فیفا کے رکن ادارے کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کی متعدد خلاف ورزیاں  کی ہیں  اور یہ بھی قرار دیا کہ جرمانہ اس شرط کے ساتھ معطل رہے گا کہ ایک ’روک تھام کا منصوبہ‘ نافذ کیا جائے۔
فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے اس روک تھام کے منصوبے میں ایک ہدایت یہ بھی شامل ہے کہ آئی ایف اے  اپنے اگلے تین فیفا مقابلوں میں’’Football Unites the World No to Discrimination‘‘ کے الفاظ پر مشتمل ایک نمایاں اور واضح بینر آویزاں کرے۔

یہ بھی پڑھئے:موہن لال نے کہا کہ وہ ہدایت کار کے وژن پر مکمل اعتماد کرتے ہیں


فیفا نے کہاکہ ’’کمیٹی اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ اگرچہ اس کا اختیار فیفا کے اندرونی قواعد و ضوابط کے اطلاق تک محدود ہے، تاہم وہ اس وسیع انسانی تناظر سے لاتعلق نہیں رہ سکتی جس میں فٹبال کھیلا جاتا ہے۔ کھیل کو امن، مکالمے اور باہمی احترام کے پلیٹ فارم کے طور پر برقرار رہنا چاہیے۔ اس کی عالمی رسائی اور لوگوں کو جوڑنے کی طاقت کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے کہ وقار، مساوات اور انسانیت کی اقدار کو برقرار رکھا جائے خاص طور پر تنازع اور تقسیم کے اوقات میں۔ یہ فیصلہ فیفا کی اپیل کمیٹی میں ممکنہ اپیل کے تابع ہے۔
فیفا کی گورننس، آڈٹ اور کمپلائنس کمیٹی  (جی اے سی سی ) نے یہ فیصلہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اس شکایت پر جو پی ایف اے کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ آئی ایف اے  مغربی کنارے میں قائم بستیوں کی ٹیموں کو اپنے زیرِ انتظام مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رتناگیری میں دائود ابراہیم کی آبائی جائیداد کی نیلامی، ممبئی کے باشندےنے خریدی


جمعرات کو کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیاکہ ’’فیفا کو کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ فیفا کے قواعد کی متعلقہ شقوں کی تشریح کے تناظر میں مغربی کنارے کی حتمی قانونی حیثیت ابھی تک غیر حل شدہ اور عوامی بین الاقوامی قانون کے تحت ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK