بیشتر حکومتوں نے اسے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، برطانیہ نے کہا کہ وہ اس حملے میں امریکہ کے ساتھ نہیں ہے، ڈونالڈ ٹرمپ سے بات کرے گا۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 10:10 AM IST | Caracas
بیشتر حکومتوں نے اسے اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، برطانیہ نے کہا کہ وہ اس حملے میں امریکہ کے ساتھ نہیں ہے، ڈونالڈ ٹرمپ سے بات کرے گا۔
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب امریکہ نے اچانک اپنے مخالف ملک وینزویلا پر حملہ کر دیا اور اسکے صدر کو گرفتار بھی کر لیا۔ دنیا بھر میں اس حملے اور گرفتاری کی مذمت ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے باقاعدہ وینزویلا کے صدر کی تصویریں بھی جاری کی ہیں۔ اس پر انہیں کئی عالمی لیڈران نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا پر امریکی فوجی حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل ۲؍، پیراگراف ۴؍ کا خاص طور سے حوالہ دیا گیا ہے جس میں طاقت کے استعمال کی ممانعت کی گئی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی رکن ایک آزاد ریاست کے خلاف امریکی فوجی حملہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے نتائج پورے بین الاقوامی نظام کو متاثر کریں گے اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر مبنی نظام کو مزید کمزور کرنے کا سبب بنیں گے۔
روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ماسکو کو گہری تشویش ہے اور ہم امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے خلاف ’مسلح جارحیت‘ کی مذمت کرتے ہیں۔ وزارت نے ایک بیان میں کہاکہ موجودہ صورت حال میں یہ اہم ہے، مزید کشیدگی کو روکنا اور بات چیت کے ذریعہ صورت حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کرنا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ان کا ملک وینزویلا پر امریکہ کے حملوں میں ملوث نہیں تھا اور وہ ٹرمپ سے بات کرنا چاہتے ہیں اور جو کچھ ہوا اس کے مکمل حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ کولمبیا اور کیوبا کی حکومتوں نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’کولمبیا کی حکومت وینزویلا میں حالیہ گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی دھماکوں اور غیر معمولی فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے، اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کو باعثِ تشویش سمجھتی ہے۔ کیوبا کے صدر میگل ڈيازکینل نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے ’فوری‘ ردعمل کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے کو ’جرائم پر مبنی حملہ‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے امن زون کو بُری طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بہادر وینزویلائی عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی جا رہی ہے۔ ‘
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی کی پالیسی کاجا کالس نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کراکس میں یوروپی یونین کے سفیر سے وینزویلا کی تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے بات کی ہے۔ ایکس پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں چلی کے صدر گیبریل بورک فونٹ نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائیوں پر اپنی حکومت کی تشویش اور مذمت‘کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو متاثر کرنے والے سنگین بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایکس پر ایک بیان میں صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ میکسیکو وینزویلا میں فوجی مداخلت کی مذمت کرتا ہے۔ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکی بمباری اور مادورو کی گرفتاری کو ’ناقابل قبول لائن‘ کراس کرنے کی مذمت کی۔
یاد رہے کہ وینزویلا شروع سے امریکہ کا دشمن ملک تصور کیا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کچھ دنوں سے تعلقات زیادہ کشیدہ تھے۔ امریکہ نے اسے دھمکی بھی دے رکھی تھی۔