Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم ریزرویشن کو منسوخ کرنےکے فیصلے پر عدالت کا ریاستی حکومت کو نوٹس، موقف واضح کرنے کی ہدایت

Updated: April 02, 2026, 11:32 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے تعلیم اور ملازمت میں ۵؍ فیصد ریزرویشن کو منسوخ کرنے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت پر بامبے ہائی کورٹ نے جمعرات کو سمات کی اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ عرضداشت میں اٹھائے گئے سوالات کے تعلق سے اپنا موقف واضح کرے اور اگلی سماعت میں تفصیلی جواب داخل کرے ۔

Why avoid reservation for Muslims?
مسلمانوں کے ریزرویشن سے گریزکیوں؟

مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے تعلیم اور ملازمت میں ۵؍ فیصد ریزرویشن کو منسوخ کرنے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت پر بامبے ہائی کورٹ نے جمعرات کو سمات کی  اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ عرضداشت میں اٹھائے گئے سوالات کے تعلق سے اپنا موقف واضح کرے اور اگلی سماعت میں تفصیلی جواب داخل کرے ۔
  مذکورہ بالا معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ اگلے ماہ شنوائی کرے گی ۔جسٹس ریاض چگلا اور جسٹس ادویت سیٹھنا کی ڈیویژنل بینچ نے   مسلمانوں کو دیئے گئے پانچ فیصد ریزرویشن کو منسوخ کرنے کے خلاف عرضداشت داخل گزار وکیل سیّد اعجاز نقوی کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کا جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت کو اپریل کے آخرتک مذکورہ معاملہ میں حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کو ۴؍مئی تک کے لئے ملتوی کردیا ہے ۔ساتھ ہی درخواست گزار کو عرضداشت میں مزید کوئی تبدیلی کرنے کی اجازت دیتے ہوئے عرضداشت دوبارہ داخل کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے ۔
  ساتھ ہی کورٹ نے درخواست گزار کو انگریزی ترجمہ کے ساتھ مسلم ریزرویشن کو منسوخ کرنے سے متعلق حکومت کے جاری کردہ جی آر کی نقل اور دیگر مواد بھی کورٹ کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ واضح رہے کہ عرضداشت گزار جو پیشہ سے خود ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے وکیل ہیں ،نے مہاراشٹر حکومت کی ۱۷؍فروری کومسلم ریزرویشن کو منسوخ  کرنےسے متعلق جاری کردہ حکم نامے کو چیلنج کیا ہے ۔وکیل کے مطابق سابقہ حکومت کے۲۰۱۴ء کے آرڈننس  میں مسلم سماج سے وابستہ ۵۰؍ کمیونٹی کو تعلیم اور ملازمت میں ۵؍ فیصد ریزرویشن دیا گیاتھا ، موجودہ حکومت نے اس ضمن میں ایک نیا جی آر جاری کرکے اسے منسوخ کر دیا ہے ۔ وکیل اعجاز نقوی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’موجودہ حکومت آئین کی بنیادی ساخت کو مسمار کرنا چاہتی ہے اور اسے مذہبی رنگ دے کر مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے ۔ انہوں ریاستی حکومت کے فیصلہ پر اسے مہاراشٹر کے سوشل جسٹس اینڈ اسپیشل ایڈ ڈپارٹمنٹ کےجاری کردہ اصولوں اورہندوستانی آئین  کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔
 نقوی نے اپنی داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ۲۰۱۴ء میں مسلمانوں کو دیئے جانے والے ۵؍ فیصد ریزرویشن اور مراٹھا سماج کو ۱۶؍ فیصد ریزرویشن دیئے جانے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔ وہیں بامبے ہائی کورٹ نے اس وقت مسلمانوں کو تعلیم میں ۵؍ فیصد ریزرویشن کو برقرار رکھا تھا۔نقوی کے مطابق، اس وقت کی کانگریس۔ این سی پی کی حکومت نے جولائی ۲۰۱۴ءمیں مراٹھا کمیونٹی کو ۱۶؍فیصد کوٹہ اور مسلم کمیونٹی کو ۵؍ فیصد کوٹہ سرکاری نوکریوں اور تعلیم میں دینے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم، مسلم ریزرویشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور ۲۰۱۴ء میں ہی اسے صرف تعلیم کیلئے برقرار رکھا گیا، سرکاری نوکریوں کیلئے نہیں۔ نقوی نے دعویٰ کیا کہ تب سے مسلم کمیونٹی کے تقریباً ۵۰؍ پسماندہ طبقات اس ۵؍ فیصد کوٹے سے تعلیم میں فائدہ اٹھا رہے تھے۔وکیل کا داخل کردہ پٹیشن میں یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ ریاستی حکومت نے مسلمانوں کو ۵؍ فیصد ریزرویشن کو منسوخ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی ہے ۔ اسے محض مذہب کی بنیاد پر منسوخ کیا گیا ہے۔ 

muslim Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK