شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم۔ (۲)سوتیلی ماں اور متوفیہ کا ترکہ میں حصہ۔ (۳) جمعہ کی سنتیں کہاں ادا کی جائیں؟
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 4:35 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم۔ (۲)سوتیلی ماں اور متوفیہ کا ترکہ میں حصہ۔ (۳) جمعہ کی سنتیں کہاں ادا کی جائیں؟
اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم
(۱) ایک شخص نے رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنے کی نیت کی لیکن دوتین دن کے بعد کچھ گھریلو دشواریوں کی وجہ سے اعتکاف ترک کرنا پڑا ،اس کے بعد گھریلو الجھنوں میں مشغول رہا اور نماز کے علاوہ اعتکاف کی غرض سے مسجد نہیں آسکا۔ پھر ۲۷؍ رمضان المبارک سے تین دن کی نیت سے دوبارہ اعتکاف میں واپس آگیا۔سوال یہ ہے کہ کیا اس پر اعتکاف کی قضا واجب ہوگی؟ اگر قضا واجب ہو تو پورے ایک عشرے کی قضا کرنی ہوگی یا ایک دن یا ستائیس رمضان سے پہلے کی جو مدت ہو ان تمام ایام کی نیز آخر کے تین دن مسنون اعتکاف میں شامل ہوںگے یانفلی اعتکاف قرار پائیںگے اور کیا قضا میں روزے بھی رکھنے پڑیںگے؟ عبد الواحد ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: درمیان میں اعتکاف ترک کردیا جائے یا فاسد ہو جائے تو اس کی قضا تو ہوگی مگر قضا کتنے دن کی کرے ، علماء کی ایک جماعت کے مطابق پورے ایک عشرہ کی قضا کرے۔ آخری عشرے کے اعتکاف کی حضورﷺ کے نزدیک جو اہمیت تھی اور آپؐ سے جو تاکید منقول ہے ،یہ رائے اس بنیاد پر ہے لیکن دیگر بہت سے اکابر صرف ایک دن کے اعتکاف کو ضروری کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعتکاف مؤکد ہونے کے باوجود نہ فرض ہے نہ واجب ،صرف مسنون ہے اس لئے فاسد ہونےکی صورت میں پورے عشرے کی قضا کا بندہ مکلف نہ ہوگا اور راجح بھی یہی ہے البتہ اللہ کسی کو ہمت دے تو پورا ایک عشرہ مکمل کرلے۔صورت مسئولہ میں ۲۷؍رمضان المبارک کے بعد تین دن کا اعتکاف نفل شمار ہوگا، اعتکاف مسنون اور قضا اعتکاف میں معتکف کیلئے شرعا ًروزہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: کمیشن پہ چندہ، زکوٰۃ کا ایک مسئلہ، مستحق کا قرض ادا کرنا
(۲) ایک شخص نے عید الفطر کے دوسرے دن سے ماہ شوال کے (چھ)روزے رکھنا شروع کئے مگر تین شوال کو بیماری کی وجہ سے دوا کھالی۔سوال یہ ہے کہ اس روزے کی قضا کا کیا حکم ہے اور کیا روزہ قصداً توڑنے کی وجہ سے اس کفارہ بھی عائد ہوگا نیز دوبارہ یہ روزے رکھنا شروع کرنے کی کیا ترتیب ہوگی؟ ازسرنو چھ روزے رکھے یا مزید پانچ روزے رکھنا کافی ہو گا؟ عبداللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: شوال کے ان روزوں کا حدیث شریف میں ذکر موجود ہے لیکن ان کارکھنا فرض یا واجب نہیں بلکہ مستحب یا مسنون ہے لہٰذا اگر بیماری کا عذر ہو تو نہ رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں البتہ افاقہ ہو تو بہتر ہے جو ارادہ کیا ہے اسےپورا کرلے۔دوا تیسرےدن کے روزے میں کھانی پڑی تھی اس لئے ازسرنو چھ روزے رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں مزید پانچ روزے رکھنا کافی ہے جو روزہ دوا کھانے کی وجہ سے فاسد ہوا ہے اس کی تو قضا لازم ہے لیکن صرف قضا لازم ہوگی کفارہ نہیں۔ اول تو بیماری ایک شرعی عذر ہے نیز کفارہ قصداً بے عذر رمضان المبارک کے روزے توڑنے پر عائد ہوتا ہے نفل روزے توڑنے پر کفارہ نہیں ہوتا صرف قضا کا حکم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: دلالی کی اجرت، وتر میں سہو، حرام آمد سے تنخواہ دینا
سوتیلی ماں اور متوفیہ کا ترکہ میں حصہ
زید کا جب انتقال ہوا اس کے پسماندگان میں بیوہ تین لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں لیکن ترکہ غیر منقسم رہا۔املاک و جائیداد سے جو آمدنی ہوئی وہ بیوہ کی تحویل میں رہی۔بیوہ کی وفات ہونے کے بعداب ورثاء شرعی طور پر ترکہ تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس دوران تین لڑکیوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہےجس کے وارثوں میں دولڑکے اور تین لڑکیاں موجود ہیں۔انتقال کے وقت زید کی زوجہ حیات تھی لیکن متوفیہ زید کی پہلی بیوی کے بطن سے تھی۔ سوال یہ ہے کہ تقسیم ترکہ سے پہلے انتقال ہوا تو کیا ترکہ میں حصہ باقی رہے گا اگر باقی رہے گا تو اس کا حصہ کس کو ملے گا اور کیا سوتیلی ماں بھی حصہ دار ہوگی؟ عبد الرحیم ،ممبئی
باسمہ تعالیٰ ھوالموفق: ترکہ زید کا ہے تو زید کی وفات کے وقت جو ورثاء (بیوہ، تین لڑکے اور تین لڑکیاں) موجود تھے وہ سب حقدار ہیں ،اصولاً اسی وقت ترکہ تقسیم کردیا جاتا یا ہر ایک کے حصے کا تعین ہوجانا چاہیے تھا لیکن موجودہ صورت حال میں بھی مذکورہ تمام ورثاء شرعی طور سے حصہ دار ہیں لہٰذا اگر تقسیم سے پہلے کسی کا انتقال ہوگیا ہو تب بھی وہ ترکہ سے محروم نہ ہوگا لیکن وفات کے بعد اس کا حصہ اس کے ورثاء کو منتقل ہوگا۔ صورت مسئولہ میں جس لڑکی کا بعد میں انتقال ہوا اس کے وارث اس کی اولاد ہے۔سوتیلی ماں شرعا ًوارث نہیں لہٰذا ترکہ میں اس کا جو حق ہے وہ اس کی اپنی اولاد کو دیا جائےگا، بیوہ کا حصہ بھی اس کے اپنے بچوں بچیوں کو دیا جائے گا ،سوتیلی اولاد اس کی شرعی وارث نہ ہوگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: عمرہ میں دم، نماز میں غلطی اور سجدۂ سہو، ناراضگی اور دعوت
جمعہ کی سنتیں کہاں ادا کی جائیں؟
جمعہ کی سنتوں کے بارے میں ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سنتیں اور نوافل مسجد میں پڑھنے کے بجائے گھر میں ادا کی جائیں۔ صحیح طریقہ کیا ہے؟ محمد حنیف، بھیونڈی
باسمہ تعالیٰ ھوالموفق: فرض کے ساتھ سنن و نوافل کی بھی اہمیت ہے۔یہ تو صحیح ہے کہ سنن و نوافل کو گھر میں پڑھنے کی ترغیب حدیث میں آئی ہے مگر مسجد ہی میں پڑھ لینے کو منع نہیں کیا گیا۔ جو لوگ گھر جا کر سنن و نوافل ادا کر لیتے ہیں ان پر تو کوئی نکیر نہیں لیکن جب یہ مشاہدہ ہے کہ جو فوراً مسجد سے نکل جاتے ہیں ان میں سے اکثر سنن و نوافل ادا ہی نہیں کرتے ، اس صورت میں بہتر یہی ہے کہ لوگوںکو یہ تاکید کی جائے کہ مسجد ہی سے سنن و نوافل ادا کرکے گھر جائیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم