Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلمانوں کو اوبی سی کے فوائد سے محروم کرنے کا شرانگیز مطالبہ ، پالیمنٹ میں ہنگامہ

Updated: March 31, 2026, 9:43 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

بی جے پی کے رُکن پارلیمان ’کے لکشمن‘ کے بیان پر احتجاج،اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا،یاد دلایا کہ خود مودی مسلم او بی سی کا اعتراف کرچکے ہیں۔

Muslim.Photo:INN
مسلم۔ تصویر:آئی این این
 پیر کوراجیہ سبھا میںاس وقت زبردست ہنگامہ ہوا اور اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا جب    بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور او بی سی مورچہ کے قومی صدر کے لکشمن نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کے اقتدار والی کچھ ریاستیں ووٹ بینک کی سیاست کیلئے مسلمانوں کو او بی سی  کے زمرہ میں شامل کرکے  ریزرویشن کے فوائد دے رہی ہیں۔
اپوزیشن نے وقفہ صفر  میں کےلکشمن کے تبصرے پر سخت اعتراض کیا۔بالخصوص مسلمانوں کواوبی سی کی فہرست میں شامل کرنے کو روکنے کے مطالبے پربرہمی کااظہار کیاگیا۔ او بی سی ریزرویشن کو مسلمانوں کی منہ بھرائی قرار دینے کا جواب دیتے ہوئے کانگریس نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود مسلم برادریوں کے اوبی سی ہونے کا اعتراف کئی بار کرچکے ہیں۔
 
 
 دوسری طرف بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ او بی سی ریزرویشن کا غلط استعمال ہے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ایک جامع جائزہ لے۔ کے لکشمن کے اس تبصرے پر ایوان میں زوردار ہنگامہ آرائی ہوئی۔ لکشمن نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک، تمل ناڈو، مغربی بنگال، کیرالا اور تلنگانہ جیسی ریاستوں نے ریزرویشن کے فوائد پہنچانے کیلئے مسلمانوں کو او بی سی زمرے میں شامل کیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے اقدامات آئینی دفعات سے بالاتر ہیں کیونکہ آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا اور بی آر امبیڈکر نے ایسی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔ تمل ناڈو میں او بی سی کی فہرست میں مسلمانوں کو ساڑھے تین فیصد ریزرویشن دیئے جانے کا حوالہ دیکر کے لکشمن نے دعویٰ کیا کہ یہ او بی سی مخالف عمل  ہے اور الزام لگایا کہ سیاسی فائدے کیلئے ریزرویشن پالیسیوں کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیدرآباد میونسپل انتخابات میں مسلمان او بی سی کے ریزرویشن سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 
 
 
کانگریس نےراجیہ سبھا میںبی جے پی لیڈر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کانگریس پر پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن فراہم کرنے کے معاملے پر مسلمانوں کی خوشامدی کا الزام عائد کیا جارہاہے،دوسری طرف وزیر اعظم مودی خود مسلم برادریوں کے اوبی سی ہونے کا اعتراف کررہےہیں۔کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ۹؍ فروری۲۰۲۲ء کو خود وزیر اعظم کے بیان کا ویڈیو بھی شیئر کیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ گجرات میں مسلمانوں کی ۷۰؍ ذاتیں اوبی سی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK