اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں اپنی سلامتی کے بارے میں انتباہات میں شدت پیدا کرتے ہوئے ایران پر میزائل سازی تیز کرنے اور حزب اللہ پر جنوبی لبنان میں جدید اسلحہ جمع کرنے کا الزام لگایا ہے۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 7:03 PM IST | Washington
اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں اپنی سلامتی کے بارے میں انتباہات میں شدت پیدا کرتے ہوئے ایران پر میزائل سازی تیز کرنے اور حزب اللہ پر جنوبی لبنان میں جدید اسلحہ جمع کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ایران پر فوجی حملوں کے امکان پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ’ایکزیوس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے ساتھ لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی دوبارہ تیاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق، دونوں لیڈران کی ملاقات کے دوران ”۲۰۲۶ء میں ایران پر دوبارہ حملے کے امکان“ پر گفتگو ہوئی۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات جون ۲۰۲۵ء میں امریکہ-اسرائیل اتحاد اور ایران کے درمیان ہونے والی ۱۲ روزہ جنگ کے تقریباً چھ ماہ بعد ہوئی ہے۔ گزشتہ سال امریکہ نے ایران کے جوہری انفراسٹرکچر اور میزائل مقامات کو مربوط حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ، جنہوں نے جون میں ہونے والے ان حملوں کو ”زبردست کامیابی“ قرار دیا تھا، مبینہ طور پر اپنے معاونین کو بتا چکے ہیں کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ حملہ کرنے کیلئے تیار ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ۲۰۲۵ء کا اختتام نفرت انگیز پیغامات سے کیا، کہا حریف جہنم میں سڑیں گے
ٹرمپ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ”اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کرے گا تو امریکہ اسے ایک بار پھر تباہ کر دے گا۔“ تاہم، امریکی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا انحصار ٹھوس شواہد پر ہوگا اور اصل چیلنج اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ جوہری پروگرام کی ’بحالی‘ سے اصل میں مراد کیا ہے۔
اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں اپنی سلامتی کے بارے میں انتباہات میں شدت پیدا کرتے ہوئے ایران پر میزائل سازی تیز کرنے اور حزب اللہ پر جنوبی لبنان میں جدید اسلحہ جمع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ دوسری طرف، تہران نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے جواب میں ”سخت“ جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے، جبکہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ”احترام کے جذبے“ کے ساتھ مذاکرات کی طرف واپس آئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے ذریعے’’انروا‘‘ کو نشانہ بنانے پراقوام متحدہ کے سربراہ کی سخت تنقید
فی الحال، ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان مستقبل کی فوجی کارروائی کیلئے کسی مخصوص وقت یا حد پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس ملاقات میں غزہ کی صورتحال پر بھی بات کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش قدمی کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے حماس کے غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں اسرائیلی فوجی کارروائی کا ساتھ دینے کا بھی اشارہ دیا۔ ”غزہ بورڈ آف پیس“ کا اجلاس ۲۳ جنوری کو ڈاووس میں متوقع ہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ۷۱ ہزار سے زائد افراد شہید اور ایک لاکھ ۷۱ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً ۷۰ ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔