• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کے خلاف سی پی آئی (ایم) کا محاذ

Updated: October 25, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی (ایم) نے آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کے خلاف اپنا احتجاج تیز کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے بینک میں سرکاری حصص فروخت کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

IDBI Bank.Photo:INN
آئی ڈی بی آئی۔ تصویر:آئی این این

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی (ایم) نے آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کے خلاف اپنا احتجاج تیز کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے بینک میں سرکاری حصص فروخت کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے کنیڈا کی کمپنی فیئر فیکس فنانشل ہولڈنگز کو بینک کا اکثریتی حصہ فروخت کرنے کے منصوبے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کے عوامی بینکاری نظام، مالی شمولیت اور چھوٹے کھاتہ داروں کے مفادات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ پارٹی کے پولٹ بیورو نے اتوار کو جاری بیان میں بینکوں کی نجکاری کی پالیسی پر نظرثانی کرنے اور عوامی شعبے کے بینکوں میں سرکاری ملکیت برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب مرکزی کابینہ نے آئی ڈی بی آئی بینک میں حکومت اور لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے مجموعی ۶۰ء۷۲؍ فیصد حصص فروخت کرنے کی منظوری دی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت کنیڈا کی فیئر فیکس فنانشل ہولڈنگز سے وابستہ کمپنی تقریباً۵۲۸۷۸؍  کروڑ روپے میں یہ حصص حاصل کرے گی۔ حکومت اپنے ۴۸ء۳۰؍  فیصد اور ایل آئی سی اپنے۲۴ء۳۰؍ فیصد حصص فروخت کرے گی۔ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد حکومت کے پاس بینک کے ۱۵؍ فیصد اور ایل آئی سی کے پاس ۱۹؍ فیصد حصص باقی رہنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم، مجوزہ فروخت کی تکمیل متعلقہ ضابطہ جاتی اور دیگر ضروری کارروائیوں سے مشروط ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے خاتون مرکزی کردار والی فلموں کے نہ چلنے پر سوال اٹھائے

 سی پی آئی (ایم) نے مجوزہ سودے میں غیر ملکی سرمایہ کار کو کنٹرولنگ حصہ دیے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پارٹی نے ریزرو بینک آف انڈیا کے ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ فیئر فیکس کو آئی ڈی بی آئی بینک کا اکثریتی کنٹرول دینے کی اجازت کن شرائط کے تحت دی جائے گی۔ پارٹی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ فیئر فیکس پہلے ہی کیتھولک سیریئن بینک میں تقریباً ۴۰؍ فیصد حصص رکھتی ہے، اس لیے نئے سودے کے ضابطہ جاتی پہلوؤں کی وضاحت ضروری ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے بینک کی قیمت کے تعین پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ حصص کی قدر کیسے طے کی گئی اور عوامی مفادات کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ اعتراضات پارٹی کے مؤقف پر مبنی ہیں؛ مجوزہ سودے کی قانونی حیثیت اور ضابطہ جاتی منظوری کا فیصلہ متعلقہ حکام کے دائرۂ اختیار میں ہے۔ 
 پارٹی کا کہنا ہے کہ آئی ڈی بی آئی بینک ماضی میں مالی مشکلات اور خراب قرضوں کے دباؤ سے دوچار تھا، لیکن عوامی شعبے کی مدد کے بعد اس کی مالی حالت میں بہتری آئی اور اس نے منافع کمانا شروع کردیا۔ سی پی آئی (ایم) نے یاد دلایا کہ لائف انشورنس کارپوریشن نے حکومت کی درخواست پر بینک میں بڑی سرمایہ کاری کی تھی، جس سے اس کی مالی بحالی میں مدد ملی۔ ایسے میں پارٹی کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ جب بینک دوبارہ منافع بخش ہوگیا ہے تو اس کا کنٹرول ایک غیر ملکی نجی سرمایہ کار کو منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
پارٹی نے یہ بھی کہا کہ سرکاری بینکوں کی اہمیت صرف منافع کمانے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ وہ کسانوں، چھوٹے کاروباروں، طلبہ اور کم آمدنی والے طبقات کو قرض اور بینکاری خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے مطابق، سرکاری بینک مالی شمولیت اور سماجی ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں بھی مددگار ہوتے ہیں۔ 
 سی پی آئی (ایم) نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری بینکوں کی نجکاری سے سماجی شعبوں کو قرض فراہم کرنے کی ترجیحات متاثر ہوسکتی ہیں۔ پارٹی کے مطابق، عوامی شعبے کے بینک ایسے طبقات تک مالی خدمات پہنچاتے ہیں جنہیں نجی اداروں سے قرض حاصل کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ اس لیے بینک کی ملکیت میں تبدیلی کا جائزہ لیتے وقت صرف فروخت سے حاصل ہونے والی رقم نہیں، بلکہ روزگار، قرض کی فراہمی، مالی شمولیت اور چھوٹے کھاتہ داروں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ پارٹی نے پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی شعبے کے بینکوں کی نجکاری کے منصوبے پر نظرثانی کی جائے اور بینکاری نظام میں عوامی ملکیت کے کردار کو کمزور نہ کیا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایلون مسک نے ایکس منی کے نئے فیچر کا اعلان کر دیا

 آئی ڈی بی آئی بینک کی مجوزہ فروخت کے خلاف صرف سی پی آئی (ایم) ہی نہیں، بلکہ بینک ملازمین کی تنظیموں اور یونینوں نے بھی احتجاج کیا ہے۔ یونائیٹڈ فورم آف آئی ڈی بی آئی آفیسرز اینڈ ایمپلائز نے سودے کے عمل کو روکنے، پارلیمانی جانچ اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے ملازمین کی ملازمت، پنشن، مراعات اور دیگر حقوق کے تحفظ کے لیے واضح ضمانتیں دینے پر بھی زور دیا ہے۔یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے بھی آئی ڈی بی آئی بینک کی نجکاری کی مخالفت کرتے ہوئے ملازمین کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تنظیموں نے  ۲؍ اور۳؍نومبر ۲۰۲۶ء کو ملک گیر احتجاجی کارروائیوں اور دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بینک کی مالی بحالی کے بعد اس کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول میں تبدیلی سے پہلے ملازمین، کھاتہ داروں اور عوامی مفادات پر ممکنہ اثرات کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK