سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ایس کے کول نےاپنی کتاب میں کہا کہ سابق چیف جسٹس چندرچوڈعدالتی تقرریوں میں مرکز کے بہت زیادہ فرمانبردار تھے، جسٹس کول کی کتاب جو اس ماہ کےآخر شائع ہونی ہے، انڈین ایکسپریس نے غیر مطبوعہ مسودے کا جائزہ لیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 9:03 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ایس کے کول نےاپنی کتاب میں کہا کہ سابق چیف جسٹس چندرچوڈعدالتی تقرریوں میں مرکز کے بہت زیادہ فرمانبردار تھے، جسٹس کول کی کتاب جو اس ماہ کےآخر شائع ہونی ہے، انڈین ایکسپریس نے غیر مطبوعہ مسودے کا جائزہ لیا ہے۔
انڈین ایکسپریس نے سپریم کورٹ کے سابق جج سنجے کشن کول کی غیر مطبوعہ یادداشت کے حوالے سے کہاسابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ عدالتی تقرریوں میں حکومت کے بہت زیادہ فرمانبردار تھے۔ کول کی یادداشت’’ Without Fear of Favour‘‘ (بغیر کسی خوف و رعایت کے) اس ماہ کے آخر میں جگرناٹ کی جانب سے شائع ہونی ہے۔ انڈین ایکسپریس نے غیر مطبوعہ مسودے کا جائزہ لیا ہے۔کول، جو دسمبر۲۰۲۳ء میں سپریم کورٹ کے دوسرے سب سے سینئر جج کے طور پر ریٹائر ہوئے، نے اپنی کتاب میں لکھا کہ چندرچوڈنے ایک موقع پر کالجیم کی جانب سے کسی امیدوار پر باضابطہ طور پر غور کرنے سے پہلے ہی حکومت کی منظوری مانگی تھی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ حکومت نے اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھنے والے جج امیدوار کی ذات کے بارے میں ایک عجیب سوال اٹھایا تھا۔جون۲۰۲۲ء میں کالجیم میں شامل ہونے کے بعد، کول نے کہا کہ انہوں نے چندرچوڈ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ’’حکومت کا مل کر سامنا کریں، کیونکہ میں چیف جسٹس نہیں تھا اور دونوں میں سے زیادہ سخت بننے کا متحمل ہو سکتا تھا۔‘‘لیکن چندرچوڈ، چند مستثنیات کے ساتھ، اس تعلق کو خود ہی سنبھالنے کو ترجیح دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: منی پور: ہزاروں افراد کا تھالی بجا کر، ڈھول پیٹ کر ’’شور احتجاج‘‘
بعد ازاں کول نے اس میں شامل ہونے کے بعد کالجیم کی پہلی بڑی مشق کے بارے میں بات کی، جب ججوں کو چھ خالی آسامیوں کو پر کرنا تھا۔انہوں نے لکھا کہ اراکین نے پہلے سے پانچ ناموں پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن میٹنگ کے راستے میں، چندرچوڈنے چھٹے نام کی تجویز پیش کی۔دوسرے ججوں نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ کول نے کہا کہ انہیں شک تھا کہ یہ نام حکومت کے کہنے پر تجویز کیا گیا تھا۔ چندرچوڈپھر انہیں ایک طرف لے گئے اور بلند آواز میں کہا کہ کیا انہیں حکومت کا نقطہ نظر جانچنے کے لیے ٹیلی فون کرنا چاہیے۔کول نے لکھا، ’’میرے شکوک کی تصدیق ہو گئی، اور میں نے ان سے ہوش سے کام لینے کو کہا: وہ کالجیم کے بیچ میں ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘تام پانچ نام منظور ہو گئے، جبکہ چھٹا نہیں ہوا۔
علاوہ ازیں کول نے اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھنے والے جج کی امیدواری پر اختلاف کو بھی یہ کہتے ہوئے کہ ایسے مسائل پر ان کے اور چندرچوڈکے درمیان تناؤ عروج پر پہنچ گیا، بیان کیا۔یادداشت کے مطابق، حکومت نےپہلے سے خدمات انجام دینے والے دیگر مذہبی اقلیتوں کے ججوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، پوچھا کہ کیا اقلیتی عقائد کی مزید نمائندگی کی ضرورت ہے ۔کول نے لکھا، میں اس منطق سے پریشان تھا۔ حکومت نے پھر امیدوار کے خاندان کی ذات کے بارے میں پوچھا۔کول نے لکھا کہ انہوں نے چندرچوڈ سے کہا، ’’اگر ہم ججوں کو اس طرح تعینات کرنے جا رہے ہیں تو آپ بھی مشورہ کر کے خود ہی تعینات کر دیں۔ کالجیم بننے سے پہلے چیف جسٹس ججوں کا تقرر کرتے تھے۔ آپ اسی طرح کر سکتے ہیں۔ میں ایسے فیصلے میں شریک نہیں ہو سکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ: عدالتی احاطے میں غیر قانونی چیمبروں پر بلڈوزر کارروائی، وکلاء کا احتجاج
انہوں نے مزید لکھا، ’’یہ تقرری کے عمل کی حقیقت ہے۔‘‘انہوں نے اپنی کتاب میں کہا، ’’یہ تصور کرنا خام خیالی ہے کہ کالجیم سیاسی دباؤ سے الگ تھلگ ہے۔ حکومتیں اپنا دعویٰ کرتی ہیں۔ اگر آپ انہیں موقع دیں گے تو وہ اسے ہتھیا لیں گی۔ چیلنج ان دباؤوں سے نمٹتے ہوئے ادارہ جاتی سالمیت کو برقرار رکھنا ہے اور توازن کی ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’درحقیقت، میں نے پایا کہ حکومت ایسے معاملات میں ریڑھ کی ہڈی والے ججوں کا کہیں زیادہ احترام کرتی ہے۔‘‘
تاہم کول کے تبصروں پر ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر، چندرچوڈ نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ جب تک وہ کتاب نہیں پڑھ لیتے تب تک وہ تبصرہ نہیں کر سکتے۔علاوہ ازیں انہوں نے اخبار کو بتایا، ’’یہ کہنے کے بعد، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ چیف جسٹس کے طور پر میری بہترین کالجیم میٹنگیں ہوئی ہیں، اور سنجے کول کے ساتھ بھی کالجیم کے اراکین کے طور پر بہت ہی باعزت تعلق رہا ہے۔ اچھی گفتگو، مدلل مکالمہ ہوا ہے اور کالجیم میں ہماری ایک ساتھ خوشگوار میٹنگیں ہوئی ہیں۔‘‘