Updated: October 26, 2026, 6:04 PM IST
| New York
پرتگال کے کپتان رونالڈو پہلے فعال کھلاڑی بن گئے ہیں جن کی کیریئر آمدنی اس تاریخی حد سے آگے نکل گئی ہے۔ ان کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ تقریباً۰۹ء۲؍ ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ ارجنٹینا کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر لیونل میسی کی کریئر آمدنی تقریباً۸۷ء۱؍ ارب ڈالر ہے۔
رونالڈو اور میسی۔ تصویر:ایکس
عالمی فٹ بال کے سپر اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نے مالی کامیابی کی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنے پورے پیشہ ورانہ کیریئر کی مجموعی آمدنی ۲؍ ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرلی ہے۔ امریکی جریدے فوربس کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق، پرتگال کے کپتان رونالڈو پہلے فعال کھلاڑی بن گئے ہیں جن کی کیریئر آمدنی اس تاریخی حد سے آگے نکل گئی ہے۔ ان کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ تقریباً۰۹ء۲؍ ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ ارجنٹینا کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر لیونل میسی کی کریئر آمدنی تقریباً۸۷ء۱؍ ارب ڈالر ہے۔ فوربس کے اندازوں کے مطابق، میسی ۲۰۲۷ء کے اختتام تک ۲؍ ارب ڈالر کی آمدنی کا سنگ میل عبور کرسکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کھلاڑیوں کی تنخواہوں، انعامی رقم، اشتہاری معاہدوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مبنی ہیں؛ ان میں ٹیکس اور ایجنٹوں کی فیس منہا نہیں کی گئی ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو کی غیر معمولی آمدنی میں سعودی عرب کے فٹ بال کلب النصر کے ساتھ ان کا بھاری معاوضے والا معاہدہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ رونالڈو نے ۲۰۲۳ء میں سعودی پرو لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کے بعد ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ فوربس کے تخمینے کے مطابق، وہ ۲۷۔۲۰۲۶ءکے سیزن میں النصر سے تقریباً ۲۵؍ کروڑ ڈالر حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ اشتہارات، اسپانسرشپ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں سے مزید ۵؍کروڑ ڈالر آمدنی متوقع ہے۔ اس طرح ان کی ایک سیزن کی مجموعی آمدنی تقریباً ۳۰؍ کروڑ ڈالر ہوسکتی ہے۔
رونالڈو اس سے قبل مانچسٹر یونائیٹڈ، ریئل میڈرڈ اور یووینٹس جیسے بڑے یورپی کلبوں کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ میدان میں ان کی کارکردگی کے ساتھ عالمی شہرت، سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت اور بڑے برانڈز کے ساتھ اشتہاری معاہدوں نے بھی انہیں کھیلوں کی دنیا کے سب سے زیادہ کمانے والے کھلاڑیوں میں شامل رکھا ہے۔ فوربس کے مطابق، وہ مسلسل چوتھے سال دنیا کے سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے فٹ بال کھلاڑی قرار پائے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شاداب خان کی ناقابلِ یقین سنچری، پاکستان نے آخری وکٹ پر میچ جیت لیا
ارجنٹائنا کے عظیم فٹ بالر لیونل میسی بھی اس تاریخی مالیاتی سنگ میل سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ فوربس کے مطابق، ان کی کریئر آمدنی تقریباً۸۷ء۱؍ ارب ڈالر ہے اور۲۰۲۷ء تک یہ بڑھ کر تقریباً ۰۲ء۲؍ ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ میسی کی آمدنی میں ان کے امریکی کلب انٹر میامی کا معاہدہ، اشتہاری شراکت داریاں اور تجارتی سرگرمیاں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ تخمینوں کے مطابق، میسی ۲۰۲۶ء میں تقریباً ۱۴؍ کروڑ۵۰؍ لاکھ ڈالر کما سکتے ہیں، جس میں تقریباً ۷؍ کروڑ ڈالر کھیل سے متعلق معاوضے اور ۷؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ ڈالر میدان سے باہر کی سرگرمیوں، اسپانسرشپ اور کاروباری شراکت داریوں سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں ایڈیڈاس اور ایپل سے وابستہ آمدنی کے انتظامات بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
میسی نے۲۰۲۳ء میں پیرس سینٹ جرمین چھوڑنے کے بعد سعودی عرب کے ایک بڑے مالیاتی پیشکش کے بجائے امریکی فٹ بال لیگ میں انٹر میامی کے ساتھ کھیلنے کا انتخاب کیا تھا۔ ان کی شمولیت سے کلب کی تجارتی کشش میں اضافہ ہوا اور اس کی قدر بھی نمایاں طور پر بڑھی۔ فوربس کی رپورٹ کے مطابق، میسی کے پاس اپنے کھیل کے کریئر کے بعد انٹر میامی میں حصص خریدنے کا اختیار بھی موجود ہے، جو مستقبل میں ان کی مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اضافی راستہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:۶۳؍سال کی عمر میں فلمسازآنند پنڈت نے ۷؍ دن میں ۳۳۳؍ کلومیٹر سائیکلنگ کرتے ہیں
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ۲؍ ارب ڈالر کی کریئر آمدنی کا مطلب یہ نہیں کہ رونالڈو کے بینک کھاتوں یا ذاتی اثاثوں میں اتنی ہی رقم موجود ہے۔ کریئر آمدنی سے مراد کھیل کے دوران حاصل ہونے والی مجموعی تنخواہیں، انعامی رقوم، اشتہاری آمدنی اور دیگر متعلقہ مالی فوائد ہیں۔ اس کے برعکس، خالص ذاتی دولت کا تخمینہ اثاثوں، سرمایہ کاری، کاروباری حصص اور واجبات کو مدنظر رکھ کر لگایا جاتا ہے۔ فوربس نے جون ۲۰۲۶ء میں رونالڈو کی خالص ذاتی دولت تقریباً ۲ء۱؍ ارب ڈالر اور میسی کی تقریباً ۱ء۱؍ ارب ڈالر بتائی تھی۔ اس لیے دونوں کھلاڑیوں کی کریئر آمدنی اور ذاتی دولت کے اعداد و شمار کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
مجموعی طور پر کرسٹیانو رونالڈو کا۲؍ ارب ڈالر کی کریئر آمدنی عبور کرنا عالمی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اہم مالیاتی سنگ میل ہے۔ دوسری جانب، لیونل میسی کی مسلسل آمدنی اور تجارتی معاہدے انہیں اسی مقام تک پہنچانے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ رونالڈو اور میسی کی مثال واضح کرتی ہے کہ جدید دور میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی کامیابی صرف میدان میں گول کرنے یا ٹرافیاں جیتنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی ذاتی شناخت، اشتہاری شراکت داریوں اور کاروباری سرگرمیوں نے بھی انہیں عالمی کھیلوں کی معیشت کی طاقتور ترین شخصیات میں شامل کردیا ہے۔