باغی اراکین کی حفاظت کیلئے سی آر پی ایف تعینات

Updated: June 27, 2022, 11:10 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

مرکزنے شیو سینا کے باغی اراکین کو ’وائی پلس سیکوریٹی‘ فراہم کرتے ہوئے ان کے گھروں اور دفتروں کو تحفظ فراہم کیا۔ ممبئی میںدفعہ ۱۴۴؍کا اطلاق

A police force has been deployed outside Eknath Shinde`s residence..Picture:INN
ایکناتھ شندے کی رہائش گاہ کے باہر پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔۔ تصویر: آئی این این

ممبئی اور مہاراشٹر پولیس کو ہائی الرٹ کئے جانے کے باوجود شہر و اطراف میں آباد  شیو سینا کے باغی لیڈران کے خلاف شیوسینکوں  کا پُر تشدد احتجاج جاری ہے ۔وہیں باغی لیڈر ایکناتھ شندے کے ساتھ فرار ہونے والے ۴۰؍ سے زائد لیڈران جو گوہاٹی میں ہیں  اوران میں سے   شہر و مضافات  میں آباد ۱۵؍ لیڈران کے گھر  اور دفاتر پر مرکزی حکومت نے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف ) کا تحفظ فراہم کر دیا ہے۔  دوسری جانب ممبئی او رمہاراشٹر میں باغی لیڈروں کے خلاف شیوسینا رضا کاروں اور عوام کاغم و غصہ اور پر تشدد احتجاج کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔  ممبئی پولیس نے اس سلسلہ میں کارروائی کرتے ہوئے ۲؍ دنوں میں پُر تشدد احتجاج کرنے والے  شیو سینا کے ۲۴؍ رضا کاروں کو حراست میں لیا ہے ۔  اطلاع کے مطابق ممبئی اور اطراف    میں آباد  ۵؍ باغی لیڈران سمیت کل ۱۵؍ اراکین اسمبلیوں کے گھروں اور دفاتر پرسی آر پی ایف کے ذریعہ’ وائی پلس سیکوریٹی‘ فراہم کی گئی ہے ۔ جن لیڈران کو سیکوریٹی فراہم کی گئی ہے ان میں ایکناتھ شندے شامل نہیں ہیں ۔ شیو سینا کے جن ۱۵؍ باغی  لیڈروں کے گھروں پر سی آر پی ایف کے جوان تعینات کئے گئے ہیں ان میں رمیش بورنرے ، منگیش کڈلکر ، سنجئے شرساٹ ،لتا سناؤنے ، پرکاش سروے ، سدا سرونکر ، یوگیش کدم ،پرتاپ سرنائک،یامنی جادھو ، پردیپ جیسوال ،سنجے راٹھوڑ ،دادا جی بھیسے ، دلیپ لانڈے ، بالا جی کلیانکر ، سندیپ بھومرے شامل ہیں ۔ واضح رہے کہ ان میں شیوسینا کے پرتاپ سرنائیک پر ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے تحت کیس درج کیا ہے اور مسلسل ان کیخلاف شکنجہ کستی جارہی تھی ۔   اس کے علاوہ حال ہی میں بائیکلہ حلقہ انتخاب سے شیو سینا کے ایم ایل اے یامنی جادھو اوران کے شوہر کارپوریٹر یشونت جادھو  اور سابق بی ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی  کےچیئر مین پر انکم ٹیکس نے ٹیکس کی چوری کرنے اور آمدنی سے زائد اثاثہ ہونے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی کروڑ کی جائیداد قرق کی ہے ۔بعد ازیں جن باغی لیڈران کو ایس آر پی ایف کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور جو ایکناتھ شندے کے ساتھ گوہاٹی میں موجود ہیں ان کے تعلق سے بھی مرکزی حکومت کے ذریعہ جانچ کرائے جانے کی دھمکی ملنے کا قیاس کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شیوسینا کے مذکورہ بالا لیڈران نے بی جے پی کا ہاتھ تھام لیا ہے ۔  ایک طرف جہاں سی آر پی ایف نے شیو سینا کے ۱۵؍ باغی لیڈران کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کے گھروں اور دفاتر کے اطراف بیری کیڈ لگا دیا ہے  وہیں ممبئی کے جن ۵؍ لیڈران کو ایک افسر اور ۴؍ اہلکاروں پر مشتمل حفاظتی دستہ فراہم کیا گیا ہے ان میں دادر شیواجی پارک ایم ایل اے سدا  سر ونکر،کرلا نہرو نگر کے  منگیش کوڈالکر،ساکی ناکہ کے دلیپ لانڈےاور بوریولی کے پرکاش سروے  شامل ہیں جن کے دفاتر پر شیوسینکوں نے پُر تشدد احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی تھی ۔ان کارروائی کے خلاف  پولیس نے  ۱۹؍ لوگوں کو حراست میں لیا تھا ۔ اسی طرح الہاس نگر اور نوی ممبئی میں باغی لیڈرایکناتھ شندے اور اور کلیا ن میں ان کے بیٹے شری کانت شندے کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں ۵؍ شیوسینا رضا کاروں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔یاد رہے کہ اسی کے پیش نظر مہاراشٹر پولیس نے ہائی الرٹ جاری کیا تھا اور شیو سینا رضا کاروں کے ذریعہ تشدد کا سلسلہ جاری رکھنے پر دفعہ ۱۴۴؍ کا بھی اطلاق کر دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK