• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اجیت پوار کی پارٹی پر ایک اور گھوٹالے کا الزام

Updated: January 06, 2026, 1:56 PM IST | Agency | Pune

پونے میں این سی پی( اجیت) کا جو دفتر ہے وہ سرکاری زمین پر ہے جسے صرف کرایہ پر دیا جا سکتا ہے مگر ٹرسٹی نے اسے پارٹی کو بیچ دیا۔

The Deccan Sugar Technologists Association building where the NCP office is located. Picture: INN
ڈیکن شوگر ٹیکنالوجسٹس ایسوسی ایشن کی عمارت جہاں این سی پی کا دفتر ہے۔ تصویر: آئی این این
 ابھی اجیت پوار کے بیٹے پارتھ پوار پر لگے کوریگائوں پارک گھوٹالے کا الزام مٹا بھی نہیں تھا کہ این سی پی پر ایک اور سرکاری جگہ کے معاملے میں خرد برد کا الزام لگا ہے۔ پونے کے ایک آر ٹی آئی کارکن نے دعویٰ کیا ہے کہ پونے میں این سی پی کا دفتر دراصل ایک سرکاری ملکیت والی جگہ پرہے جسے صرف کرایہ پر دیا جا سکتا تھا لیکن اس جگہ کے ٹرسٹی نے اسے این سی پی کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ 
اطلاع کے مطابق پونے کے آر ٹی آئی کارکن وجے کمبھار نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں اطلاع دی کہ پونے کے شیواجی نگر علاقے میں ڈیکن شوگر ٹیکنالوجسٹس ایسوسی ایشن کی جگہ ہے۔ اسی جگہ پر این سی پی ( اجیت ) کا صدر دفتر ہے جہاں بیٹھ کر اجیت پوار نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کی تھی اور بی جے پی پر بد عنوانی کا سنگین الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جن لوگوں نے مجھ پر ۷۰؍ ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگایا تھا میں انہی کے ساتھ اس وقت حکومت میں ہوں۔ وجے کمبھار کا کہنا ہے کہ یہ جگہ دراصل مہاریرا کی ملکیت ہے۔ اس جگہ کو ڈیولپ کرنے کیلئے کلپ ورکش پلانٹیشن نامی کمپنی کو کانٹریکٹ دیا گیا تھا۔ وجے کمبھار نے آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر کہا کہ’’ جب کوئی (سرکاری) جگہ کسی کو دینی ہوتی ہے تو اس کیلئے چیریٹی کمشنر کی اجازت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ اس معاملے میں چیریٹی کمشنر نے اجازت دی ہے لیکن وہ اجازت ۶۰؍ سال کی لیز (کرایے) پر دینے کی ہے فروخت کرنے کی نہیں۔‘‘ آر ٹی آئی کارکن نے بتایا کہ ’’ اس کیلئے ٹینڈر بھی نکالا گیا تھا لیکن کمپنی نے یہ جگہ این سی پی کو فروخت کردی۔ اب اس جگہ پر این سی پی کا دفتر ہے جو کہ مشتبہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا ’’ تمام قانونی التزامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس جگہ کو این سی پی کے حوالے کر دیا گیا ۔ حالانکہ اس تعلق سے مہاریرا کا آرڈر بھی موجود تھا۔ ‘‘ وجے کمبھار کا کہنا ہے کہ ’’ اس میں بی جے پی بھی برابر کی شریک ہے۔ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی  اجیت پوار پر کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ جبکہ اسی بنا پر اجیت پوار کو بار بار ’مشکل میں ڈالنے ‘ کی دھمکی دی جا رہی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ حال ہی میں اجیت پوار کے الزام کے بعد بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے کہا تھا کہ ’’ اگر ہم نے زبان کھولی تو آپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔‘‘ کمبھار کا اشارہ اسی طرف تھا۔ آر ٹی آئی کارکن نے اپنے الزام کی وضاحت کی کہ ’’ ڈیکن شوگر ٹیکنالوجسٹس ایسوسی ایشن کا قیام ۱۹۳۶ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس کی آدھی جگہ پر این سی پی کا دفتر ہے۔چیریٹی کمشنر نے اس جگہ کو کرایے پر دینے کی اجازت دی تھی لیکن ادارے کے ٹرسٹی نے اس جگہ کو این سی پی کے ہاتھوں بیچ دیا۔‘‘  
یاد رہے کہ اس سے قبل پونے ہی میں اجیت پوار کے بیٹے نے کوریگائوں پارک کی زمین خریدی تھی اور اس کا محصول بھی ادا نہیں کیا تھاجبکہ وہ سرکاری زمین تھی جسے بیچا نہیں جا سکتا تھا۔ اس تعلق سے تحقیقات جاری ہے۔ اب  اس جگہ کے تعلق سے الزام لگا ہےجہاں بیٹھ کر اجیت پوار نے بی جے پی لیڈران پر بد عنوانی کا الزام لگایا تھا۔ لوگ وجے کمبھار کی جانب سے الزام لگانے یا معاملے کا انکشاف کرنے کی ٹائمنگ پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK