پرکاش راج نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمانوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کو ختم کرنا بی جے پی کا ایجنڈا ہے، اپنے بیان میں انہوں نے عدلیہ اوروزیر اعظم مودی پر بھی تنقید کی، ان کے اس بیان کے بعد ایک تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 08, 2026, 5:15 PM IST | New Delhi
پرکاش راج نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمانوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کو ختم کرنا بی جے پی کا ایجنڈا ہے، اپنے بیان میں انہوں نے عدلیہ اوروزیر اعظم مودی پر بھی تنقید کی، ان کے اس بیان کے بعد ایک تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
مشہور اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے ہندوستان میں حالیہ صورت حال کو ’’نسل کشی کی تیاری‘‘قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا ایجنڈا مسلمانوں، قبائلی لوگوں اور اقلیتوں کو ختم کرنا ہے۔‘‘انہوں نے یہ بیان حیدرآباد میں انجمن برائے تحفظ شہری حقوق (اے پی سی آر) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک جلسے میں دیا۔ ان کی تقریر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔پرکاش راج کی تقریر کے اہم نکات پیش کیے جارہے ہیں:·
یہ بھی پڑھئے: ’’بہار: نتیش کمار حجاب تنازع، ڈاکٹر نصرت پروین نے عہدہ سنبھال لیا: رپورٹ‘‘
نسل کشی کا الزام
اپنی تقریر میں پرکاش راج نے کہا ’’براہ کرم سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی کی تیاری ہے۔وہ مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ قبائلی لوگوں، اقلیتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہی ان کا ایجنڈا ہے۔‘‘
آر ایس ایس پر تنقید:
پرکاش راج نے آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی کو پانی پر تیرتا ہوا ’’کنول‘‘ اور آر ایس ایس کو پانی کے نیچے موجود ’’دیو‘‘قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی طاقت آر ایس ایس کے پاس ہے۔
عدلیہ اور وزیراعظم پر تنقید
انہوں نے عدلیہ سے مخاطب ہو کر کہا، ’’شرم کرو ہندوستان کی عدالتوں، تم انصاف کا قتل کرکے سب سے بڑا جرم کر رہی ہو۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے’’یوم آئین ‘‘ (۲۶؍ نومبر) پر بھیجے گئے ایک ای میل کو بھی جھوٹ سے بھرا خط قرار دیا۔
آئین کے خلاف منصوبہ
اپنی تقریر میں پرکاش راج نے الزام لگایا کہ حکمران آئین کومنوسمرتی سے بدلنا چاہتے ہیں اور اقلیتوں اور اختلاف رکھنے والے شہریوں کو دوئم درجے کا شہری بنا دینا چاہتے ہیں۔
بعد ازاں پرکاش راج کے اس بیان پر بی جے پی اور اس کے حامیوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ان بیانات کو بے بنیاد، بھڑکانے والا اور ملک دشمن قرار دیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔بی جے پی حامیوں نے پرکاش راج کے بیان کو غلط قرار دینے کیلئے ترقیاتی اسکیموں کا حوالہ دیا، ان کے مطابق مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں نے گزشتہ نو سالوں میں حکومت کی بے شمار بہبودی اسکیموں جیسے غریبوں کے لیے مکانات، اجولاگیس، بیت الخلاء اور طبی بیمہ سے فائدہ اٹھایا ہے۔اس کے علاوہ حکومت، وزیراعظم کی نئی۱۵؍ نکاتی پروگرام برائے اقلیتیں چلا رہی ہے، جس کا مقصد چھ مذہبی اقلیتی برادریوں کے لیے تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مواقع بڑھانا اور ان کی بہبود ہے۔اس کے علاوہ بی جے پی لیڈر یہ بھی کہتے ہیں کہ پارٹی کا نعرہ ،’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘(سب کی شراکت، سب کی ترقی) ہے اور وہ ذات، عقیدے یا مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’سپریم کورٹ کا فیصلہ منظم احتجاج کو جرم بنادیتا ہے‘‘
واضح رہے کہ پرا کش راج کا بیان ایک بڑے سیاسی تناظر میں سامنے آیا ہے۔ یہ بیان بی جے پی کی حکمرانی کے دوران ہندوستان میں ہندو قوم پرست ایجنڈے اور مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ہونے والی بحث کو ظاہر کرتا ہے۔حالیہ انتخابات کے بعد بی جے پی اپنے اتحادیوں پر منحصر حکومت بنا رہی ہے،جیسے تیلگو دیشم پارٹی اور جنتا دل (یونائیٹڈ)، جنہوں نے مسلمانوں کی بہبودی اسکیموں کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی معاملات میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔
دریں اثناء اس سارے معاملے میں دو واضح نقطہ نظر سامنے آتے ہیں۔جن میں پرکا ش راج نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا، عدلیہ پر آئینی اقدار کے تحفظ میں ناکامی کا الزام ،آئین میں تبدیلی اور ہندو قوم پرست ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام عائد کیا۔ اپنے بیان کی تصدیق کیلئے انہوں نے نفرت انگیز تقریروں، ہجومی تشدد کے واقعات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے امتیازی سلوک کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔
دوسری جانب ان کی بات سے اتفاق نہ کرنے والوں نے نسلی امتیاز یا نسل کشی کے تمام الزامات کی تردید کی اس کے علاوہ تمام شہریوں بشمول مسلمانوں کے لیے بہبودی اسکیموں کے نفاذ کا حوالہ دیا، ساتھ ہی انتخابی نعرے، ’’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘‘ کے تحت ترقی کے دعوے کئے، جبکہ مخالف جماعتوں پر مسلمانوں کو محض، ووٹ بینک سمجھنے کا الزام لگایا۔
تاہم پرا کش راج کی تقریر نے ہندوستانی سیاست میں مذہبی اقلیتوں کے مقام، حکمران نظریے اور جمہوری اداروں کے کردار پر ایک تلخ بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ایک طرف،ایسے بیانات ہیں جو حکومتی اقدامات کو اقلیتوں کے خلاف منظم کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ دوسری طرف، حکومت اپنی پالیسیوں اور ترقیاتی اسکیموں کے ذریعے ان الزامات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس بحث کا کوئی آسان حل نظر نہیں آتا، کیونکہ یہ دو مختلف نظریات اور سیاسی بیانوں کے درمیان بنیادی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے۔