Updated: October 18, 2026, 9:04 PM IST
| New Delhi
ہندوستان کی جانب سے روس سے خام تیل کی درآمد میں ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران۱۳؍ فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ توانائی اور صاف ہوا سے متعلق تحقیق کرنے والے ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کی رپورٹ کے مطابق، روس سے خام تیل کی درآمد میں مسلسل دوسرے مہینے کمی آئی ہے۔
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کی جانب سے روس سے خام تیل کی درآمد میں ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران۱۳؍ فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ توانائی اور صاف ہوا سے متعلق تحقیق کرنے والے ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (CREA) کی رپورٹ کے مطابق، روس سے خام تیل کی درآمد میں مسلسل دوسرے مہینے کمی آئی ہے اور یہ اپریل ۲۰۲۶ء کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں اس کمی کی اہم وجوہات عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مغربی ایشیا میں جاری تنازع کو قرار دیا گیا ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بحیرۂ احمر کے تجارتی راستے اور آبنائے ہرمز میں تیل کی نقل و حمل متاثر ہوئی، جس سے عالمی توانائی منڈی پر دباؤ بڑھا اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی بڑی ریفائنریوں میں بھی روسی خام تیل کی خریداری کم ہوئی۔ ریلائنس انڈسٹریز کی جام نگر ریفائنری میں روس سے خام تیل کی درآمد میں ۲۷؍فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی ) کی پارادیپ ریفائنری میں درآمد ۲۱؍ فیصد گھٹ گئی۔ اسی طرح نایارا انرجی کی وادینار ریفائنری میں روسی خام تیل کی خریداری میں ۸؍ فیصد کمی درج کی گئی۔ اس کے باوجود ستمبر میں ہندوستان روسی فوسل فیول کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا خریدار رہا۔ اس دوران ہندوستان نے روس سے تقریباً۱ء۴؍ ارب یورو مالیت کے ہائیڈروکاربن درآمد کیے، جن میں خام تیل کا حصہ ۸۸؍ فیصد تھا۔ روس سے توانائی کی درآمدات میں چین پہلے نمبر پر رہا۔
یہ بھی پڑھئے:نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار نے کہا :عدلیہ نے بری کردیا، تنوشری کا معاملہ ختم ہوچکا ہے
سی آر ای اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر ۲۰۲۲ء سے اب تک روس کی مجموعی خام تیل برآمدات میں ہندوستان کا حصہ تقریباً ۳۷؍ فیصد رہا ہے، جبکہ چین کی حصے داری ۵۰؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک انتظامی حکم جاری کرتے ہوئے روسی تیل کی برآمدات سے متعلق متعدد پابندیوں اور محصولات میں رعایت دے دی۔ یہ پابندیاں اگلے دن نافذ ہونے والی تھیں۔ ٹرمپ کے مطابق، یہ فیصلہ امریکہ کے قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس اقدام سے ہندوستان اور چین کو روس سے موجودہ سطح پر تیل کی درآمد جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ستمبر ۲۰۲۶ء میں روسی یورالز خام تیل کی اوسط قیمت ماہانہ بنیاد پر ۳۲؍ فیصد بڑھ کر ۷ء۹۰؍ امریکی ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ یہ اپریل ۲۰۲۶ءکے بعد اس کی بلند ترین ماہانہ اوسط قیمت ہے۔ یہ قیمت یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے مقرر کردہ ۱ء۴۴؍ ڈالر فی بیرل کی حد سے بھی دو گنا سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ قیمت کی حد یکم فروری۲۰۲۶ء سے نافذ ہوئی تھی اور یورپی یونین کے ۲۱؍ویں پابندیوں کے پیکیج کے تحت برقرار رکھی گئی ہے۔
سی آر ای اے کے مطابق، ستمبر میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی نقل و حمل میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ۶۰؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، لیکن اس کے باوجود عالمی فوسل فیول کی قیمتیں بلند رہیں۔ تاہم، تیل کی نقل و حمل کی سطح امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے پہلے کی سطح سے اب بھی کم تھی۔ رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والے بحران نے روس کی توانائی برآمدات سے ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ترشا جولی-گایتری گوپی چند اور تنوی کی شکست ، ڈنمارک میں ہندوستانی چیلنج ختم
سی آر ای اے کے تجزیے کے مطابق، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد چھ ماہ کے دوران تیل اور گیس کی بلند قیمتوں کے باعث روس کی سمندری راستوں سے ہونے والی توانائی برآمدات کی آمدنی میں تقریباً۹ء۳۵؍ ارب امریکی ڈالر، یعنی لگ بھگ ۳۱؍ ارب یورو کا اضافی اضافہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران عالمی توانائی منڈی کے ساتھ ساتھ روس کی برآمدی آمدنی پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روس کی فوسل فیول برآمدات اب بھی چند بڑے خریداروں پر بہت زیادہ منحصر ہیں۔ چین روسی خام تیل اور کوئلے کا سب سے بڑا خریدار ہے، ترکی روسی تیل کی مصنوعات کی سب سے بڑی خریدار منڈیوں میں شامل ہے، جبکہ یورپی یونین اب بھی روس سے مائع قدرتی گیس (LNG) اور پائپ لائنوں کے ذریعے قدرتی گیس درآمد کرنے والا بڑا خریدار ہے۔ مجموعی طور پر رپورٹ واضح کرتی ہے کہ عالمی توانائی کی قیمتوں، مغربی ایشیا کی کشیدگی، پابندیوں اور تجارتی راستوں میں تبدیلیوں نے ہندوستان کی روسی خام تیل کی خریداری اور روس کی توانائی برآمدات کی آمدنی، دونوں کو متاثر کیا ہے۔