• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ : اسرائیلی بمباری سے تباہ گھروں کے ملبے سے برآمد ۷۵؍ فلسطینیوں کی باقیات دفن

Updated: October 18, 2026, 10:11 PM IST | Gaza

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ گھروں کے ملبے سے برآمد۷۵؍ فلسطینیوں کی باقیات دفن کردی گئیں، ان متاثرین جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، کے جنازے میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبےہزاروں مزید لاشوں کو نکالنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اتوار کو سینکڑوں فلسطینیوں نے۷۵؍ افراد کے جنازے میں شرکت کی، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، جن کی باقیات حال ہی میں غزہ میں اسرائیل کی نسل کش جنگ کے ابتدائی مہینوں کے دوران اسرائیلی افواج کے ذریعے تباہ کیے گئے گھروں کے ملبے سے برآمد ہوئی تھیں۔جنازے کا جلوس دراج اسپورٹس کلب کے باہر سے شروع ہوا،جبکہ  باقیات کو غزہ کے شیخ رضوان قبرستان میں دفن کیا گیا۔فلسطینی پرچموں میں لپٹی باقیات کو سنیچرکی شام  اس مقام پر رکھا گیا تھا تاکہ رشتہ داروں کو الوداع کہنے کی اجازت مل سکے۔غزہ کے سول ڈیفنس کے تعلقات عامہ اور میڈیا کے ڈائریکٹر عبداللہ المجدلاوی نے انادولو کو بتایا کہ باقیات حالیہ ہفتوں میں شمال مشرقی غزہ کے دراج محلے میں کئی تباہ شدہ گھروں سے برآمد ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: صرف ایک’’ وحشی تہذیب‘‘ بم کوماں کہتی ہے: آئی آر جی سی ترجمان

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں کے دوران رہائشیوں کے اندر موجود ہونے کے دوران عمارتوں پر بمباری کی گئی تھی اور متاثرین کا تعلق تقریباً۲۰؍ فلسطینی خاندانوں سے تھا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو گھروں میں بے گھر ہو گئے تھے۔مجدلاوی نے کہا کہ ملبے کے نیچے سے لاشوں کو نکالنے کی کوششوں کو آلات اور بھاری مشینری کی کمی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ بازیابی کی کارروائیاں سول ڈیفنس کے ملبے تلے پھنسے فلسطینیوں کی لاشوں کو نکالنے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہیں، جو۱۹؍ جولائی کو شروع کیا گیا تھا۔بعد ازاں  سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے اس وقت کہا تھا کہ اس مرحلے میں غزہ اور خطے کے شمالی اور وسطی حصوں میں۱۴۷؍ تباہ شدہ گھروں کی تلاش شامل ہوگی، جہاں ایک اندازے کے مطابق ۱۰۷۲؍لاشیں پھنسی ہوئی ہیں۔نومبر۲۰۲۵ء میں شروع ہونے والے پہلے مرحلے میں۵۴؍ تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے۵۵۹؍ افراد میں سے۳۳۳؍ لاشیں اور باقیات برآمد ہوئیں۔تاہم محدود وسائل نے ٹیموں کو تقریباً۲۲۶؍ دیگر تک پہنچنے سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھئے: کچھ حقائق متنازع ہیں نہ غیر واضح: نیتن یاہو کے مؤقف پر واشنگٹن پوسٹ کا ردعمل

بصل نے۷؍ اکتوبر کو انادولو کو بتایا کہ۸۰۰۰؍ سے زیادہ لاپتہ فلسطینی اب بھی ملبے کے نیچے ہونے کا اندیشہ ہے اور خبردار کیا کہ فی الحال دستیاب وسائل کے ساتھ انہیں نکالنے میں تقریباً آٹھ سال لگ سکتے ہیں۔۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے غزہ میں نافذ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت، اسرائیل سے توقع تھی کہ وہ خطے میں بھاری سامان اور مشینوں کی اجازت دے گا، لیکن فلسطینی حکام  نے اس پر وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔ذہن نشین رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر نسل کش جنگ شروع کرنے کے بعد سے۷۴؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور۱۷۵۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ خطےکے شہری نظام کا تقریباً۹۰؍ فیصد تباہ ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK