امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت۴۰ء۱۰۱؍ ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ برینٹ کروڈ آئل ۷۰ء۱۰۷؍ ڈالر فی بیرل کا ہو گیا۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 4:10 PM IST | New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت۴۰ء۱۰۱؍ ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ برینٹ کروڈ آئل ۷۰ء۱۰۷؍ ڈالر فی بیرل کا ہو گیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت۴۰ء۱۰۱؍ ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ برینٹ کروڈ آئل ۷۰ء۱۰۷؍ ڈالر فی بیرل کا ہو گیا۔
روئٹرس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں پیرکو کمی دیکھی گئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے اقدامات شروع کرے گا تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی عدم موجودگی کے باعث قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شری دیوی شروع میں ہندی نہیں جانتی تھیں لیکن بعد میں ’لیڈی سپر اسٹار‘ کہلائیں
برینٹ کروڈ فیوچرز ۶۴؍ سینٹ یا۵۹ء۰؍ فی صد کمی کے بعد۵۳ء۱۰۷؍ ڈالر فی بیرل پر آئے، جب کہ جمعہ کو یہ ۲۳ء۲؍ ڈالر کم ہو کر بند ہوئے تھے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل ۸۴؍ سینٹ یا ۸۲ء۰؍ فی صد کمی کے ساتھ ۱۰ء۱۰۱؍ ڈالر فی بیرل پر پہنچا، جو جمعہ کو۱۳ء۳؍ ڈالر کی کمی کے بعد مزید نیچے آیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کے مفاد میں ہم نے ان ممالک کو بتایا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کو ان محدود آبی راستوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے میں رہنمائی کریں گے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔
ادھر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تاحال محدود ہے اور کسی امن معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں ۱۰۰؍ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہفتے کے آخر میں بھی جاری رہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مؤقف کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:پونے معاملہ: اپوزیشن نے مہایوتی حکومت کو گھیرا، وزیراعلیٰ پر سخت تنقید
صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ترجیح قرار دیا ہے، جب کہ ایران نے تجویز دی ہے کہ جنگ کے خاتمے اور خلیجی جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے خاتمے تک جوہری معاملات کو مؤخر کر دیا جائے۔ دوسری جانب اوپیک پلس نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ جون میں سات رکن ممالک کے لیے یومیہ ایک لاکھ ۸۸؍ہزار بیرل تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے گا، جو مسلسل تیسرا ماہانہ اضافہ ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث اس اضافے کے عملی اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔