Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیوبا نے امریکی پابندیوں کو ’’نسل کشی کا محاصرہ‘‘ قرار دیا

Updated: May 19, 2026, 10:27 PM IST | Havana

میگیل ڈیاز کینل نے امریکہ کی نئی پابندیوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں ’’نسل کشی کا محاصرہ‘‘ قرار دیا ہے۔ کیوبا کے صدر نے الزام لگایا کہ واشنگٹن کیوبا کے عوام پر ’’اجتماعی سزا‘‘ مسلط کر رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے کیوبا کے کئی وزراء، سرکاری اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسی پر نئی پابندیاں عائد کیں۔

Photo: Instagram
تصویر: انسٹاگرام

میگیل ڈیاز کینل نے امریکہ کی جانب سے نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوبا کے خلاف جاری امریکی اقدامات ’’نسل کشی کے محاصرے‘‘ کے مترادف ہیں۔ کیوبا کے صدر نے ایکس پر جاری بیان میں امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ کیوبا کے عوام کے خلاف ’’اجتماعی سزا‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’کیوبا کے عوام پر مسلط کی جانے والی اجتماعی سزا نسل کشی کا ایک عمل ہے، جس کی بین الاقوامی اداروں کو مذمت کرنی چاہیے، اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ نے پیر کو کیوبا کے کئی اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پابندیوں میں انصاف، توانائی اور مواصلات کے وزراء کے علاوہ کیوبا کی اہم انٹیلی جنس ایجنسی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ایران آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کیبل بچھانے کی فیس وصول کرے گا

میگیل نے امریکی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کی قیادت یا فوج کے پاس امریکی دائرہ اختیار میں کوئی اثاثے موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’امریکی حکومت جانتی ہے کہ اس کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ ’’نفرت انگیز بیانیہ‘‘ استعمال کر کے کیوبا کے خلاف معاشی جنگ کو مزید سخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیوبا کے صدر نے خاص طور پر ان امریکی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان غیر ملکی کمپنیوں کو ہدف بناتی ہیں جو کیوبا کو ایندھن، خوراک، ادویات اور بنیادی اشیا فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ غیر اخلاقی، غیر قانونی اور مجرمانہ ہے۔‘‘ واضح رہے کہ کیوبا اس وقت شدید اقتصادی بحران، ایندھن کی قلت اور مسلسل بجلی کی بندشوں سے گزر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ۳۰؍ جنوری کو امریکہ کی جانب سے تیل سے متعلق نئی پابندیوں کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی۔ ویسینٹ دی لا او لیوی نے حالیہ دنوں میں سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے پاس بالکل ایندھن نہیں ہے اور ڈیزل تقریباً ختم ہو چکا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ قومی بجلی کا نظام ’’انتہائی نازک حالت‘‘ میں پہنچ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : خلیجی ممالک کی اپیل کے بعد ایران پر حملہ روک دیا گیا: ٹرمپ

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں کئی بار کیوبا کے بارے میں سخت بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد یہ بھی کہا تھا کہ ’’کیوبا اگلا ہو سکتا ہے‘‘، جبکہ انہوں نے کمیونسٹ حکومت کے جلد خاتمے کی پیش گوئی بھی کی تھی۔ کیوبا اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں۔ امریکہ نے پہلی بار ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کیوبا پر وسیع پابندیاں عائد کی تھیں، جنہیں بعد میں مختلف امریکی حکومتوں نے مزید سخت کیا۔ بین الاقوامی سطح پر متعدد ممالک اور اقوام متحدہ میں کئی قراردادیں امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر چکی ہیں، تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کا مقصد کیوبا حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ بحران نے کیوبا کی معیشت، صحت کے شعبے اور روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ خوراک، ایندھن اور ادویات کی قلت کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK