Updated: November 08, 2026, 4:06 PM IST
| New Delhi
جنوبی کوریا کی معروف بروکریج کمپنی میراے ایسیٹ سیکیورٹیز پر سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً ۳۹ ہزار صارفین اور ملازمین کی ذاتی معلومات افشا ہوگئی ہیں۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ ہیکرز نے دو روز کے دوران اس کے موبائل ویب لاگ اِن سسٹم اور اندرونی دفتری نیٹ ورک کو نشانہ بنایا۔
میراے ایسیٹ۔ تصویر:آئی این این
جنوبی کوریا کی معروف بروکریج کمپنی میراے ایسیٹ سیکیورٹیز پر سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً ۳۹ ہزار صارفین اور ملازمین کی ذاتی معلومات افشا ہوگئی ہیں۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ ہیکرز نے دو روز کے دوران اس کے موبائل ویب لاگ اِن سسٹم اور اندرونی دفتری نیٹ ورک کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تقریباً ۳۸۰۰ ؍صارفین کے اکاؤنٹ نمبرز اور ۳۵ ؍ہزار سے زائد موجودہ و سابق ملازمین اور کنٹریکٹ ورکرز کی ذاتی معلومات غیر مجاز افراد تک پہنچ گئیں۔ اس واقعے نے جنوبی کوریا کے مالیاتی شعبے میں سائبر سیکوریٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ خبر رساں ادارے یونہاپ (Yonhap) کے مطابق میراے ایسیٹ سیکیورٹیز کے نظام پر بیرونی سائبر حملے ۴؍ اور ۵؍ نومبر کو کیے گئے۔ پہلے دن یعنی ۴؍ نومبر کو کمپنی کی موبائل ویب فون آتھنٹیکیشن لاگ اِن سروس کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ۵؍ نومبر کو کمپنی کے اندرونی گروپ ویئر سسٹم میں غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں تقریباً ۳۸۰۰ ؍صارفین کے اکاؤنٹ نمبرز افشا ہوئے۔ اس کے علاوہ ۳۵ ؍ہزار ۲۵۵ ؍موجودہ اور سابق ملازمین اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے افراد کی معلومات بھی متاثر ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے:ناگپور: چوکیدار کی اسامی کیلئے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدوار بھی میدان میں!
کمپنی کے مطابق متاثرہ ملازمین کے نام، ملازمتی شناختی نمبر، ای میل پتے، موبائل فون نمبر اور انکرپٹڈ پاس ورڈز سمیت مختلف معلومات افشا ہوئی ہیں۔ تاہم کمپنی نے وضاحت کی ہے کہ رہائشی رجسٹریشن نمبر، پاسپورٹ نمبر، ڈرائیونگ لائسنس نمبر اور غیر ملکی رجسٹریشن نمبر جیسی انتہائی حساس شناختی معلومات لیک نہیں ہوئیں۔ اسی طرح صارفین کے معاملے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ نمبرز کے علاوہ اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام اور دیگر حساس شناختی معلومات افشا ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
میراے ایسیٹ سیکیورٹیز کے مطابق بیرونی آئی پی ایڈریسز سے مشکوک سرگرمیوں کا پتا چلنے کے بعد متاثرہ رسائی کے راستوں کو فوری طور پر بند کردیا گیا اور ہنگامی ردعمل کا نظام فعال کردیا گیا۔ کمپنی نے واقعے کی اطلاع جنوبی کوریا کے مالیاتی خدمات کمیشن (Financial Services Commission)، مالیاتی نگرانی کی سروس (Financial Supervisory Service) اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے کمیشن (Personal Information Protection Commission) کو بھی دے دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ڈیٹا تک غیر مجاز بیرونی رسائی کا نتیجہ تھا۔ اس میں کسی میل ویئر انفیکشن یا خدمات میں تعطل کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ اور دیگر اہم خدمات معمول کے مطابق کام کررہی ہیں، جبکہ اب تک کسی مالی نقصان کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔اس سائبر حملے کے بعد میراے ایسیٹ سیکیورٹیز کے شریک چیف ایگزیکٹیو افسران کم می سیپ اور ہو سیون ہو نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے صارفین سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی اپنے صارفین کی قیمتی ذاتی اور مالیاتی معلومات کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی، جس پر وہ دلی طور پر معذرت خواہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سنجیو کمار کریئر بنانے سے قبل ڈراموں کیلئے اسٹیج پر پردے کھینچا کرتے تھے
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی ڈیٹا لیک ہونے کی وجوہات اور واقعہ کے مکمل حالات کی تحقیقات کررہی ہے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ یہ واقعہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میراے ایسیٹ گروپ کی دیگر ذیلی کمپنیاں بھی سائبر حملوں کی زد میں آچکی ہیں۔ ۲۶؍ اکتوبر کو میراے ایسیٹ لائف انشورنس میں ڈیٹا لیک کا معاملہ سامنے آیا تھا، جبکہ میراے ایسیٹ گلوبل انویسٹمنٹس اور انرجی انفراسٹرکچر ایسیٹ مینجمنٹ کے نظام میں بھی مشکوک بیرونی رسائی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس طرح گروپ کی چار کمپنیوں کو مختصر عرصے میں سائبر حملوں یا بیرونی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مالیاتی حکام ان واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں اور خلاف ورزیوں کی تصدیق ہونے پر باقاعدہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔
میراے ایسیٹ سیکیورٹیز کا واقعہ جنوبی کوریا کے مالیاتی شعبے میں سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا حصہ ہے۔ مالیاتی خدمات کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ۳۰؍ ستمبر سے ۳؍ نومبر کے درمیان ۳۷؍ مالیاتی اداروں میں ڈیٹا لیک کے ۴۰ ؍واقعات رپورٹ ہوئے، جن سے تقریباً ۴ ؍لاکھ ۷۰ ؍ہزار سے زائد ریکارڈ متاثر ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں تجارتی بینکوں، مالیاتی سرمایہ کاری کمپنیوں، انشورنس اداروں اور سیونگ بینکوں سمیت مختلف مالیاتی ادارے شامل ہیں۔ ان مسلسل واقعات کے بعد جنوبی کوریا کے مالیاتی حکام نے تقریباً ۵۸۰ مالیاتی اداروں کے سائبر سیکیورٹی نظام کا جامع جائزہ لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔