• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’یو سی سی کی آڑ میں ملک کی خوبصورتی کو ختم کرنے کی سازش‘‘

Updated: November 08, 2026, 4:59 PM IST | Saeed Ahmad Khan | Mumbai

آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اوررضا اکیڈمی کے اشتراک سے ناسک میں منعقدہ کانفرنس میںعلماء کا اظہار خیال ’کثرت میں وحدت‘ کی ہندوستانی شناخت کو مٹانے کا الزام ،تمام طبقات کے متوجہ ہونےکی ضرورت پر زور

A scene from an awareness campaign regarding the UCC in Nashik. Photo: INN
ناسک میں یو سی سی کے تعلق سے بیداری مہم کا منظر۔ تصویر: آئی این این
یکساں سول کوڈ کے خلاف بیداری مہم کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ۔ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضااکیڈمی کےاشتراک سےناسک کی قدیم شاہی مسجد میںسنیچر کو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔
کثرت میںوحدت ہندوستان کی پہچان ہے
کانفرنس کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاںنے کہاکہ ’’ہندوستان کی اصل خوبصورتی اس کی مذہبی گنگا جمنی تہذیب، مختلف ثقافتوں، روایات اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے باہمی اتحاد میں ہے۔ ہندوستان کی شناخت کثرت میںوحدت سے ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس کو متاثر کرنے بلکہ مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘‘ 
 
 
مذہبی اور عائلی معاملات میں مداخلت کی کوشش
انہوں نےیہ بھی کہاکہ ’’ آئین ہند نے ملک کے ہر شہری کو مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق عطا کئے ہیںبلکہ اس کی ضمانت دی ہے ، ایسے میں یکساں سول کوڈ(یوسی سی ) کے نام پرمذہبی اور عائلی معاملات میں مداخلت کی کوشش آئین کے منافی ہے جو یقیناًتشویش کا باعث ہے۔‘‘
 تمام شہریوں کے مذہبی حقوق کے احترام پر زور 
معین میاںنے مزیدکہاکہ ’’اسی طرح ملک میں بسنے والوں میںاگر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے اوران کے حقوق چھینے جارہے ہیں تو یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک کے تمام شہریوں کے مذہبی حقوق کا احترام کرے اور آئینی آزادی کا تحفظ کرے نہ کہ اس کوسلب کرنےکی کوشش خود حکومت کی جانب سے کی جائے ۔‘‘  
 
 
حکومت غیرضروری مداخلت نہ کرے
رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید رضا نوری نے کہا کہ’’دستور میںہر شہری کو مذہبی آزادی کا بنیادی حق عطا کیا ہے لہٰذا کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی ذاتی، مذہبی اور عائلی معاملات میں حکومت  غیر ضروری مداخلت نہ کرے۔یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے بجائے تمام مذاہب کے عقائد، روایات اور مذہبی تعلیمات کا احترام کیا جانا چاہئے۔نکاح، طلاق اور وراثت جیسے معاملات ہر مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی و تہذیبی تشخص سے جڑے ہوئے ہیں، اس لئے یو سی سی کے نفاذ سے پیدا ہونے والی ممکنہ مشکلات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا ضروری ہے۔‘‘
شاہی مسجد میںمنعقدہ کانفرنس میں خطیب شہر حافظ حسام الدین، حافظ سمیر کوکنی، حافظ رضا خطیب، مولانا جنید عالم، قاری افضل، سابق کارپوریٹر گلزار کوکنی، آصف جانوری، سمیر خان، ذاکر عطار، ببّو شیخ اورمختلف مذہبی و سماجی تنظیموں کے عہدیداران، علماء اور سماجی خدمت گارموجود تھے۔
عوام اپنی سطح پربیداری لائیں
کانفرنس کے اختتام پر عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ یکساں سول کوڈ کے تعلق سے اپنی جانب سے بھی بیداری پیدا کریں اورذمہ داری کے ساتھ حکومت کے سامنے اپنی آراء اور اعتراضات درج کرائیں تاکہ ملک میں مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور تمام مذاہب کے درمیان اتحاد اور باہمی رواداری برقرار رہ سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK