اسے مودی حکومت کا انتہائی غلط اورمعیشت کوتباہ کرنے والا قدم بتایا۔حکومت کے دعوے کے برعکس نوٹ بندی لاحاصل ۔ یہ بھی کہا: نوٹ بندی کی تلخ یادیں بھلاپانا مشکل ہے
نوٹ بند ی کے دوران بینک کے باہر لوگ قطا رمیں نظر آرہے ہیں( فائل فوٹو)۔ تصویر: آئی این این
۱۰؍برس قبل آج ہی کے دن ۸؍ نومبر۲۰۱۶ء کو وزیراعظم مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا۔یہ حکومت کا انتہائی غلط فیصلہ تھا۔ نوٹ بندی نے معیشت کو اس طرح برباد کیا کہ اس کے اثرات آج بھی برقرار ہیں۔ اس سلسلےمیں عوام کے تاثرات ذیل میںدرج کئے جارہے ہیں۔
نوٹ بندی عجیب وغریب دور تھا
ڈونگری میں پرنٹنگ کے کاروبار سے منسلک شعیب خان نے کہا کہ ’’نوٹ بندی اپنے آپ میں ایک عجیب و غریب دور تھا۔ ہر شخص کسی نہ کسی طرح اس فیصلے سے متاثر ہوا تھا اور کاروبار میں ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ بڑے دولت مند جو پیسے نہ ہونے کا رونا رویا کرتے تھے اور بہت سے افراد کے مہینوں کے پیسے روک رکھے تھے اچانک نقدی میں پیسوں کی ادائیگی کرنے لگے۔ بہت سے افراد نے پُرانے اُدھار ادا کردیئے اور جو بغیر اُدھار کام کرنا جانتے نہیں تھے وہ پیشگی رقم دینے کو بھی تیار نظر آنے لگے اور نقد رقم دے کر ہی کام کروانے لگے جنہیں پیسے لینے تھے اور پیسوں کا مطالبہ کیا کرتے تھے وہ کسی حد تک بڑی رقم لینے سے کترانے لگے کیونکہ سارے لین دین کی ایک ہی شرط تھی کہ سب کو۵۰۰؍ اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں میں ادائیگی کرنی تھی جو اپنی آخری سانسیں گن رہے تھے۔‘‘
وزیراعظم ذمہ دار ہیں
ممبئی سینٹرل ،بیلاسس روڈکے تاجر محمد رضوان خان کے بقول ’’نوٹ بندی کا فیصلہ غلط تھا۔ اس کیلئے ہمارے وزیر اعظم نریندرمودی ذمہ دار ہیں۔ نوٹ بندی سے عام بیوپاریوںکا کاروبار ٹوٹ گیا، لوگ برباد ہوگئے ۔ متعدد لوگوںمیں ذاتی طورپر جانتاہوںجوابھی بھی نوٹ بندی کی مار سے اُبھر نہیں پائے ہیں۔یہ بالکل غیر مناسب اور عوام کو پریشان کرنےوالا فیصلہ تھا۔‘‘
آکٹویئر ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کےچیف ایگزیکٹیو آفیسر اینڈ منیجنگ ڈائریکٹر اسلم خان کے مطابق ’’۸؍نومبر ۲۰۱۶ء کو ہونےوالی نوٹ بندی ہماری اقتصادی تاریخ کا اہم ٹرننگ پوائنٹ تھا، ابتدائی مراحل میں خاص طورپر چھوٹے کاروباریوںکو مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔لو گوںکو مالی دشواریوں سے گزرنا پڑا لیکن بعدمیں اس فیصلہ نے ملک میں جو ڈجیٹل ٹرانفارمیشن کے ادارے جاری تھے، انہیں فعال کرنےمیں اہم رول ادا کیا۔اس سے ہماری معیشت کو زیادہ شفاف اور بااُصول بنانےمیں مددملی۔آئی ٹی انڈسٹری میں بھی نوٹ بندی نے ڈجیٹل اکنامی کی بنیادوںکو مضبوط بنانے میں اچھارول نبھایا۔‘‘
پوری زندگی نوٹ بندی کادرد نہیں بھول پاؤں گا
مالونی میںٹھیلے پرسبزی فروخت کرنے والے سریش گپتا نے کہا’’ نوٹ بندی کی ایسی تلخ یادیں وابستہ ہیںکہ ان کو کبھی نہیں بھول سکوں گا ۔ ماں بہت بیمار تھی ،میںعلاج کے لئےممبئی سے آبائی وطن گورکھپور جارہا تھا ، ابھی ٹرین آگرہ فو رٹ پہنچی تھی کہ نوٹ بندی کی خبرملی ۔ کسی طرح گھر پہنچا، ماں کوعلاج کیلئے پہلے پڈرونا اسپتال لایا گیا، وہاں اسپتال عملہ نے ۵۰۰؍ اور ہزار روپے کے نوٹ قبول کرنےسے انکار کردیا ، اس کے بعد دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا وہاں آکسیجن نہیں تھا ، وہاں کہاگیا کہ لکھنؤ پی جی آئی لے جائیے ۔اس طرح پیسے ہونے کے باوجود ماں ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئی۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ نوٹ بندی انتہائی غلط قدم تھا۔ میں نے خود دیکھا کہ اس میںگجراتی مالا مال ہوگئے، نوٹ بدلوانےکے کھیل میںبڑے لوگ کامیاب رہے غریب قطاروں میںکھڑے اپنی باری کا انتظارکرتے رہے اور کئی تودنیا سے چلے گئے ۔‘‘