دادر کا علاقہ موبائل چوروں کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے،اپریل میں ۸۰؍تو مئی میں۶۷؍فون چوری

Updated: June 30, 2022, 9:36 AM IST | Mumbai

جون میں بھی اب تک ۵۴؍موبائل فون چوری ہونے کی شکایتیں درج ہوچکی ہیں،ہجوم والی سڑکوں پر چلنے والوں،خریداری کرنےیا بسوں میں سفر کرنے والوں کے موبائل چوری ہورہے ہیں

Mobile phones are being stolen by taking advantage of the huge crowd outside Dadar station (Ashish Raje)
دادر اسٹیشن کےباہراس قدر بھیڑ کا فائدہ اٹھاکر ہی موبائل چوری کئے جارہے ہیں(اشیش راجے)

دادر ویسٹ، جو ممبئی کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک ہے، موبائل چوروں کی شکار گاہ بن گیاہے، جہاںگزشتہ۳؍مہینوں میں۲۰۰؍سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئےہیں۔ پھولوں اور سبزیوں کی مارکیٹ کیلئے بھی مشہورہے۔ شہر بھر سے ہزاروں لوگ روزانہ دادر میں آتے ہیں، جس سے یہاںہر وقت بھیڑ رہتی ہے۔پولیس نے بھی زیادہ تعداد میں درج ہونے والے معاملات کو پولیس کمشنر سنجے پانڈے کی ’پوشیدہ  نہ رکھنے‘ کی ’نو برکنگ‘پالیسی کو قرار دیا۔
 ہجوم والی سڑکوں پر چلتے ہوئے، خریداری کرتے ہوئے یا بسوں میں سفر کرتے ہوئے لوگوں کے فون چوری ہورہے ہیں۔ کچھ معاملات میں، عوامی بیت الخلاء کے استعمال کے لیے قطاروں میں کھڑے لوگوں کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے۔ممبئی پولیس کے اعداد و شمار کےمطابق،شیواجی پارک پولیس اسٹیشن نے جنوری میںچوری کے صرف۲؍ اور اگلے مہینے۳؍کیس درج کیے ہیں۔یہ شاید کووڈپابندیوں کی وجہ سے تھا جس نے عوامی نقل و حرکت کو روک دیا تھا۔ جیسے ہی وبائی بیماری ختم ہوئی اور لوگ سڑکوں پر واپس آگئے، پولیس اسٹیشن نےمارچ میں۹؍معاملات درج کئے۔ اور پھر چور بڑے پیمانے پر سرگرم نظر آنے لگے۔
 اپریل میں یہ تعداد بڑھ کر۸۰؍تک پہنچ گئی، جبکہ مئی میں یہ۶۷؍رہی۔دادر کے علاقے سے اس ماہ اب تک۵۴؍فون چوری کیے جاچکے ہیں۔ اس کے برعکس اندھیری ویسٹ کےعلاقے ڈی این نگر پولیس اسٹیشن نے اسی مدت میں موبائل اور دیگر چیزوں سمیت چوری کے۱۰۸؍کیس درج کیے ہیں۔ اندھیری ایسٹ کے لیے یہ تعداد۱۸؍ ہے۔
مہنگے موبائل چوری ہورہے ہیں
 اومکارسالسکر کا۵۰؍ ہزارروپے مالیت کا آئی فون۱۳؍، ۱۶؍ جون کو اس وقت چوری ہو گیا تھا جب وہ اپنےایک دوست کی سالگرہ منانے باہرگئےتھے۔ اپنی شکایت میں،۱۸؍سالہ دادر کے رہائشی نے کہا کہ اس نےموبائل کو اپنی کارکے گلوو باکس میں رکھا تھا کیونکہ اس کی بیٹری ختم ہوگئی تھی۔ بعد میں وہ رات گئے تک شہر میں ڈرائیونگ کرتے رہے۔ صبح۶؍بجےگاڑی سے باہر نکلتے وقت اس نے پایا کہ اس کا فون غائب ہے۔
 ۲۱؍جون کو،۲۷؍سالہ ٹی چکرپن پلازہ سنیما کے اسٹاپ پربس کا انتظار کر رہا تھا۔ چونکہ علاقہ میں بھیڑ بہت زیادہ تھی اس لئےاس نے اپنا موبائل پتلون کی بائیں جیب میں رکھا ہوا تھا۔ بس میں سوار ہونے کے بعد، اسے احساس ہوا کہ کسی نے اس کا فون چرا لیا ہے، جو اس نے ایک ماہ قبل خریدا تھا۔
 اس شام، کرن پاٹل کاموبائلخریداری کے دوران چوری کرلیاگیا۔اپنی شکایت میں مذکورہ ٹیچر نے کہا کہ شام۴؍ بجےبہت زیادہ بھیڑ تھی اور اس نے اپنا فون اپنے دوست کے بیگ میں رکھا تھا تاکہ وہ محفوظ رہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد، پاٹل کے شوہرنے اس کی دوست کے فون پرکال کیااور اسے اطلاع دی کہ  اس کافون بندہے۔پاٹل نےبیگ کےعلاوہ ان تمام دکانوں میں بھی فون تلاش کیا جہاں انہوں نے خریداری  تھی۔ لیکن وہ کہیں نہیں ملا۔
`تمام شکایات پر کارروائی ہوگی
 محکمہ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ پانڈے نے ممبئی پولیس کے سربراہ کے طور پر چارج سنبھالنے کے بعد ’نو برکنگ‘ پالیسی پیش کی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔جب پولیس کسی شکایت کنندہ کو اس کی شکایت درج کیے بغیر روانہ کر دیتی ہے،تو اسے پولیس کی زبان میں’برکنگ‘کہا جاتا ہے۔’نوبرکنگ‘ پالیسی کے تحت کوئی معاملہ پوشیدہ نہیں رکھا جاتا بلکہ ہر معاملے کو نوٹس میں لایا جاتا ہے۔
 زون ۵؍کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس پرانئے اشوک نے کہا،’’ہم نےاپنے اہلکاروں کوچوری کے خطرے والے تماممقامات پر تعینات کر دیا ہے، ان میں ہجوم والے مقامات کے ساتھ بس اسٹاپ بھی شامل ہیں تاکہ چوری کے معاملات کو روکا جا سکے۔‘‘
 پولیس کو کچھ کامیابی بھی ملی ہے اور انہوں نے چند چوروں کو گرفتار کیا ہے جو انفرادی طور پر کام کرتے تھے اورمنشیات کیلئےجرائم کا ارتکاب کرتے تھے۔ شیواجی پارک پولیس اسٹیشن کے ایک افسرنےکہا،’’سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی کےعلاوہ، ہم نے اپنے عملے کو بیسٹ بسوں میں سوار کیا ہے کہ وہ مسافروں کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے۔‘‘

dadar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK