۱۹۱۰ءمیںممبئی میں فلم دی لائف آف کرائسٹ کی اسکریننگ کے دوران شائقین میں ایک شخص ایسا بھی تھا جسے اپنی زندگی کا مقصد مل گیا تھا۔ دوماہ میں اس نے شہر میں دکھائی جانےوالی تمام فلمیں دیکھ ڈالیں اوراس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی فلمیں بنائےگا۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 10:06 AM IST | Agency | Mumbai
۱۹۱۰ءمیںممبئی میں فلم دی لائف آف کرائسٹ کی اسکریننگ کے دوران شائقین میں ایک شخص ایسا بھی تھا جسے اپنی زندگی کا مقصد مل گیا تھا۔ دوماہ میں اس نے شہر میں دکھائی جانےوالی تمام فلمیں دیکھ ڈالیں اوراس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی فلمیں بنائےگا۔
۱۹۱۰ءمیںممبئی میں فلم دی لائف آف کرائسٹ کی اسکریننگ کے دوران شائقین میں ایک شخص ایسا بھی تھا جسے اپنی زندگی کا مقصد مل گیا تھا۔ دوماہ میں اس نے شہر میں دکھائی جانےوالی تمام فلمیں دیکھ ڈالیں اوراس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی فلمیں بنائےگا۔یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ ہندوستانی سنیما کے خالق دادا صاحب پھالکے تھے۔داداصاحب پھالکے کااصل نام دھونڈی راج گووندپھالکے تھا۔ وہ ۳۰؍ اپریل ۱۸۷۰ءکو ناسک، مہاراشٹرکے قریب ترمبکیشور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد داجی شاستری پھالکے سنسکرت کے اسکالر تھے۔کچھ عرصےبعد ان کا خاندان بہتر زندگی کی تلاش میںممبئی آگیا۔ دادا صاحب پھالکے بچپن سے ہی فن کی طرف مائل تھے اور وہ اسی شعبے میں اپنا کرئیربنانا چاہتے تھے۔ ۱۸۸۵ءمیںانہوں نے جےجے کالج آف آرٹ میں داخلہ لیا۔ انہوں نے بڑودہ کے مشہور کلا بھون میںآرٹ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ ایک ڈرامہ کمپنی میں بطور پینٹر کام کرنے لگے۔ ۱۹۰۳ء میں انہوںنےمحکمہ آثار قدیمہ میں فوٹوگرافر کے طور پر کام شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد دادا صاحب پھالکے کا دل فوٹوگرافی میں نہیں لگا اور انہوں نے فلم ساز کے طورپر اپناکریئربنانے کا فیصلہ کیا۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے وہ ۱۹۱۲ءمیںاپنے دوست سے پیسے لے کرلندن چلے گئے۔ انہوں نے تقریباً ۲؍ہفتےلندن میںفلم سازی کی باریکیاں سیکھیں اور فلم سازی سے متعلق آلات خریدنے کے بعد ممبئی واپس آ گئے۔ممبئی آنے کے بعد دادا صاحب پھالکے نے ’پھالکے فلم کمپنی‘قائم کی اور اس کے بینر تلے راجہ ہریش چندر نامی فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔فلم راجہ ہریش چندر کی زبردست کامیابی کے بعد دادا صاحب پھالکے ناسک آئے اور فلم موہنی بھسماسورکی تیاری میں مصروف ہوگئے۔ فلم کی تیاری میں تقریباً۳؍ماہ لگے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ہند امریکہ ڈیل سے کسانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان کاخدشہ‘‘
دادا صاحب پھالکے کی اگلی فلم ستیہ وان ساوتری۱۹۱۴ءمیں ریلیزہوئی۔فلم ستیہ وان ساوتری کی کامیابی کے بعد دادا صاحب پھالکے کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی اور ناظرین ان کی فلمیں دیکھنےکیلئےانتظار کرنے لگے۔ وہ اپنی فلم ہندوستان کے ہر ناظرین کو دکھانا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی فلم کے۲۰؍ پرنٹس بنائیں گے تاکہ فلم زیادہ سے زیادہ ناظرین کو دکھائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:پروڈیوسرز کو قیمت چکانی پڑتی ہے: رتنا پاٹھک شاہ کی ’’مصاحبین کے کلچر‘‘ پر تنقید
۱۹۷۰ءمیں،دادا صاحب پھالکے کی صد سالہ پیدائش کے موقع پر، حکومت ہند نے سنیما کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ان کے نام پر دادا صاحب پھالکے ایوارڈ قائم کیا۔ فلم اداکارہ دیویکا رانی فلمی دنیا کا یہ اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کرنے والی پہلی اداکارہ بنیں۔ دادا صاحب پھالکے نے اپنے ۳؍دہائیوں پر مشتمل طویل فلمی کریئرمیں تقریباً۱۰۰؍ فلموں کی ہدایت کاری کی۔ ۱۹۳۷ءمیںریلیز ہونے والی فلم گنگاوتارم دادا صاحب پھالکے کے فلمی کریئرکی آخری فلم ثابت ہوئی۔ یہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی جس نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا اور انہوں نے فلم سازی کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیا۔عظیم فلم ساز دادا صاحب پھالکے ۱۶؍فروری ۱۹۴۴ءکو ناسک میں انتہائی خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔