Updated: February 17, 2026, 2:03 PM IST
| New York
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر جون ۲۰۲۵ء میں ہوئے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا میں ہوئی میٹنگ میں ایران سے سمجھداری کی امید ہے۔ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان منگل کو جنیوا میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہیں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر جون ۲۰۲۵ء میں ہوئے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا میں ہوئی میٹنگ میں ایران سے سمجھداری کی امید ہے۔ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان منگل کو جنیوا میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہیں گے۔
انہوں نے فردو، اصفہان اور نطنز پر ہوئے امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران سے بات چیت کے دوران منطقی رویہ اپنانے کی اپیل کی۔ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہوں گا اور یہ بہت اہم ہوں گے۔ مجھے امید ہے کہ وہ (ایران) زیادہ منطقی ہوں گے۔‘‘
جنیوا اجلاس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کی شرکت کا امکان ہے۔ معاہدے کے امکانات پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران روایتی طور پر سخت موقف اپناتا رہا ہے، لیکن گزشتہ برس امریکی حملوں سے اس نے سبق سیکھا ہے اور اب مذاکرات کے لیے زیادہ مائل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ وہ معاہدہ نہ کرنے کے نتائج چاہتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہوگا۔ ایران ایک مشکل مذاکرات کار ہے، بلکہ میں کہوں گا کہ وہ برے مذاکرات کار ہیں۔ ہم معاہدہ کر سکتے تھے، بی۲؍ بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مغربی ایشیا میں امن ہے، کیونکہ ہم نے ان کی جوہری تنصیبات پر بی-۲؍بمبار سے حملے کیے۔ اگر ہم حملے نہ کرتے تو وہ ایک ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتے۔ اگر ایسا ہوتا، تو معاہدہ ہی مختلف ہوتا۔‘‘
واضح رہے کہ جون میں ہوئے امریکی حملوں سے پہلے امریکہ چاہتا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے، جبکہ ایران ایسا کرنے کے اپنے حق پر زور دے رہا تھا۔ جنیوا کی یہ مذاکرات ۶؍ فروری کو عمان میں ہوئے پہلے بالواسطہ دور کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس ملاقات کو دونوں نے اچھی شروعات قرار دیا تھا، حالانکہ اختلافات برقرار رہے۔ امریکہ میزائل پروگرام اور علاقائی گروہوں جیسے کہ حزب اللہ پر بھی بحث چاہتا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام مذاکرات کا موضوع نہیں ہے اور وہ صرف پابندیوں میں ریلیف کے بدلے جوہری پابندیوں پر بات کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:کیمیکل فیکٹری میں دھماکہ، بھیواڑی میں ۸؍ ہلاک، فرید آباد میں ۴۲؍ زخمی
اسی دوران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ سے ملاقات کی اور سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ ایک منصفانہ اور مبنی بر انصاف معاہدے کے لیے وہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ دھمکیوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘‘ آئی اے ای اے نے گزشتہ برس اسرائیل-امریکہ حملوں کے بعد ایران کے ۴۴۰؍ کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر وضاحت طلب کی ہے اور نطنز، فردو اور اصفہان کی تنصیبات تک مکمل رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سشمیتا سے پہلے ’میں ہوں نا‘ میں دوسری اداکارہ کو موقع دیا جانے والا تھا
ایران نے پیر کے روز آبنائے ہرمز میں ایک فوجی مشق بھی کی۔ ایران نے انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس پر کوئی بھی حملہ کیا تو وہ ہرمز کو بند کر دے گا، جس سے دنیا کی ۲۰؍ فیصد تیل کی تجارت متاثر ہوگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے علاوہ اپنے میزائل پروگرام پر بھی بات کرے، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیاں ختم کرانے کے لیے صرف جوہری مسائل پر ہی بات کرے گا۔