دلتوں اوردیگرپسماندہ طبقات کوبھی سی اے اے کے خطرناک پہلو کو سمجھنا ہوگا

Updated: January 15, 2020, 1:34 pm IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ،این پی آر ا وراین آرسی کے خلاف لوگوں کو بیدارکرنے ا وراس سیاہ قانون کے نقصانات سے پسماندہ طبقات کے ہرشخص کو آگاہ کرنےکےلئے منگل کوکریمی لائبریری میں ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔

دلتوں اوردیگرپسماندہ طبقات کوبھی سی اے اے کے خطرناک پہلو کو سمجھنا ہوگا
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی سے متعلق کریمی لائبریری میں منعقدہ میٹنگ کا منظر۔ تصویر: انقلاب

 ممبئی : شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ،این پی آر ا وراین آرسی کے خلاف لوگوں کو بیدارکرنے ا وراس سیاہ قانون کے نقصانات سے پسماندہ طبقات کے ہرشخص کو آگاہ کرنےکےلئے منگل کوکریمی لائبریری میںایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ۔اس میٹنگ میں بہوجن سماج، او بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور جیسوال سماج کے نمائندوں نے شرکت کی اوراس معاملے میں اپنی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ۔
 جيسوال سماج کی راشٹریہ صدر پرتیما جوشی نے کہا کہ ’’سی اے اے، این پی آراوراین آرسی   مخالف ملک گیر تحریک میں ہندوستان کے مسلمانوں نے ایک ہاتھ میں ترنگا اور ایک ہاتھ میں سنویدھان لے کرفرقہ پرستوں کے ناپاک ارادو ں کو ناکام کر دیاہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آئین کے تحفظ کی اس مہم میںہندوتوا وادی اس انتظار میں تھے کہ مسلمان شایدجوش میںآکر ہرے جھنڈے لے کرنکلیں گے اور اُن پرملک دشمن ہونے کا لیبل لگاکراس مہم کوختم کردیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اورآج ہر وہ ہندوستانی جو آئین میں یقین رکھتا ہے ،حکومت کے خلاف میدان میں ہے۔‘‘
 مول نواسی مالا نامی خاتون نے کہاکہ ’’ دلتوں کواس ملک کی سیاست کو سمجھنا ہوگا ۔ہم یہ محسوس کرتے ہیںکہ دلتوں کے ساتھ حکومت کا جورویہ ہے،  وہ ایک طرح سےذہنی ڈٹینشن سینٹر والا ہی ہے۔ اسے بدلنے کے لئے سنگھرش کرنا ہوگا ۔آج ہم سب اس بات کوسمجھ لیں کہ اگرسنویدھان پرآنچ آئی توپھر ہمیں اوربہت کچھ بھگتنا ہوگا ۔‘‘
 بھیم آرمی کے عہدیدار سنیل گائیکواڑ نے کہاکہ ’’دلتوں کا عالم یہ ہے کہ ہم ادھر دیکھتے ہیں توادھر سے مارا جاتا ہےاورادھر دیکھتے ہیںتوادھر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔حکومت کا منشاء صرف حکومت کرنا ہے اوراب توحکمراں طبقے کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں جاکرمعصوم بچوں کے ذہنوں کو خراب کررہے ہیں۔ ‘‘انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’بھیم آرمی سنویدھان کے حفاظت کی اس لڑائی میں پوری طرح سے ساتھ رہے گی اور یہ قانون واپس لینے تک مہم چلائی جائے گی ۔‘‘
 یادوسماج کے ذمہ دار ڈاکٹرسریش یادو نے کہاکہ’’ یادو سماج ، معاشرے میں نفرت پھیلانے کی تمام کوششوں کی مذمت کرتا ہے ۔ہماری یہ کوشش ہے کہ ہم سب مل جل کراس تحریک کوانجام تک پہنچائیں اورکسی بھی قیمت پرحکومت کوسیاہ قانون لاگو کرنے کی اجازت نہ دیں ۔‘‘
 کنبی سماج کی عہدیدار اوشاکالے نے کہاکہ ’’ ہمارے سماج کی خواتین بھی مردوں کی طرح حکومت کے اس کالے قانون کے خلاف میدان میں ہیں۔ہم کسی بھی قیمت پرایسا قانون ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں جو سنویدھان (آئین )کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو۔‘‘
 سیلیش سناؤنے کہاکہ ’’۱۷؍جنوری کوروہت ویمولا کی موت کے حوالے سے ہم سب اسے ’انسٹی ٹیوشنل مرڈر‘ کے طور پرمناتے ہیںلیکن اس دفعہ ۱۷؍جنوری کو سی اے اے اوراین ا ٓرسی مخالف دن کے طورپرمنایا جائے گا۔اس کے ذریعہ ہم اپنی حکومت کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کریں گے اورجاری تحریک کومزیدتقویت دینے کی کوشش کریںگے۔ ‘‘
 اس میٹنگ کے دوران نصیرالحق ، ایڈوکیٹ مہیر دیسائی ، جاوید آنند ، یونس منیار، فیروزمیٹھی بور والا ، ایم ا ے خالد،فرید خان ،ایڈوکیٹ عاصم خان، سلیم الوارے، ورشا ودیا ولاس اور محمودالحسن حکیمی وغیرہ موجود تھے ۔ ان سب نے سی اے اے واپس لینے تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK