سوئزرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ انسانی ہمدردی یا طبی امداد سے وابستہ پروازوں کو اجازت ملتی رہے گی۔ جیسے زخمیوں کو لے جانے والی پروازیں یا امدادی کاموں سے جڑے طیارے سوئس فضائی حدود کا استعمال کر سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 2:02 PM IST | Bern
سوئزرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ انسانی ہمدردی یا طبی امداد سے وابستہ پروازوں کو اجازت ملتی رہے گی۔ جیسے زخمیوں کو لے جانے والی پروازیں یا امدادی کاموں سے جڑے طیارے سوئس فضائی حدود کا استعمال کر سکتے ہیں۔
ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ کے درمیان سوئزرلینڈ نے بڑا فیصلے لیتے ہوئے اپنی فضائی حدود کا استعمال امریکی فوجی طیاروں کیلئے محدود کر دیا ہے۔ سوئزرلینڈ حکومت نے کہا ہے کہ اس کی پرانی پالیسی غیر جانبدار رہنے کی ہے، اس لئے جنگ سے منسلک امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے سنیچرکو جاری بیان میں بتایا کہ امریکہ کے ۲؍ جاسوسی طیاروں کو۱۵؍ مارچ کو سوئزرلینڈ کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ افسران کے مطابق یہ پروازیں براہ راست ایران کے ساتھ جاری جنگ سے جڑی تھیں، اس لئے انہیں منظوری نہیں دی گئی۔ حالانکہ سوئس حکومت نے۳؍ دیگر امریکی پروازوں کو اجازت دے دی ہے۔ ان میں ۱۵؍مارچ کو ۲؍ ٹرانسپورٹ طیارہ اور۱۷؍ مارچ کو مینٹیننس سے متعلق ایک پرواز شامل ہے۔ یہ فیصلہ سوئس فیڈرل کونسل نے کئی درخواستوں کے جائزے کے بعد لیا۔ یہ درخواستیں فیڈرل آفس آف سول ایوی ایشن کے پاس آئے تھے، جو اس طرح کی سفارتی اجازتوں سے متعلق معاملات دیکھتا ہے۔ سوئزرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ انسانی ہمدردی یا طبی امداد سے وابستہ پروازوں کو اجازت ملتی رہے گی۔ جیسے زخمیوں کو لے جانے والی پروازیں یا امدادی کاموں سے جڑے طیارے سوئس فضائی حدود کا استعمال کر سکتے ہیں۔
Today the Swiss government discussed military overflight requests from the US. Citing the law of neutrality, the Federal Council rejected two requests made in connection with the war in Iran. It decided to permit three flights. Details in DE/FR/IT: https://t.co/Dps46MlpBG
— Swiss Federal Government (@SwissGov) March 14, 2026
واضح رہے کہ سوئزرلینڈ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور اسرائیل-امریہ کے درمیان جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ جنگ ۲۸؍فروری کو شروع ہوا تھا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں اب تک۲۰۰۰ءسے زائد لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جن میں زیادہ تر لوگ ایران کے ہیں۔ اس جنگ کا اثر دنیا کی تیل سپلائی پر بھی پڑ رہا ہے۔ اسی درمیان ڈونالڈ ٹرمپ نے خلیجی خطے سے تیل لینے والے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ بحری جہازوں کی حفاظت کیلئے اپنی بحری افواج بھیجیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکہ کے ’جزیرہ خارگ‘ پر حملے کے بعد جوابی کارروائی کی وارننگ دی تھی اور آبنائے ہرمز کے آس پاس کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔