پام آئل کی درآمد میں کمی، ملک میں تیل پر راشننگ کی نوبت آ سکتی ہے

Updated: May 03, 2022, 10:01 AM IST | Agency | New Delhi

انڈونیشیا کی جانب سے پام آئل کی برآمد پر پابندی کے سبب ہندوستان میں تیل کا بحران پیدا ہو سکتا ہے ، صنعتوں کے بھی متاثر ہونےکا خدشہ، متبادل کے طور پر سرسوں اور سویابین کی پیدوار کا رجحان

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

پام آئل سپلائی کرنے والےسب سے بڑے  ملک انڈونیشیا  نے پام آئل کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔ انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ یوکرین  جنگ اور عالمی وبا کی وجہ سے اس کے اپنے ملک میں قیمتیں بڑھی ہیں جن میں استحکام لانے کی ضرورت ہے۔ اس تعلق سے بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق ہندوستان کوکنگ آئل درآمد کرنے کے معاملے میں پہلے اور  ویجیٹیبل آئل درآمد کرنے کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ملک کی ضرورت کا تقریباً ۵۶؍ فیصد کوکنگ آئل ۷؍ سے زیادہ ملکوں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ پام آئل کی ۹۰؍ فیصد ضرورت انڈونیشیا اور ملائیشیا سے پوری کی جاتی ہے۔ اس کا قریب نصف حصہ صرف انڈونیشیا سے آتا ہے۔اگر یہ کافی نہ ہو تو  نصف سن فلاور آئل روس اور یوکرین سے آتا ہے جو کہ اس کی عالمی برآمدات کا ۸۰؍ فیصد حصہ ہے۔  رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے یوکرین میں جنگ کی وجہ سے سن فلاور آئل میں ممکنہ طورپر ۲۵؍ فیصد کٹوتی ہوئی ہے۔ پام آئل کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملائیشیا بھی مشکلات سے دوچار ہے۔
 رواں سال ہندوستان کوکنگ آئل کی درآمد میں قریب ۲۰؍ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے دگنی رقم ہے۔  ویجیٹیبل آئل کے تاجروںکی تنظیم ’سالونٹ ایکسٹراکٹرز ایسوسی ایشن‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بی وی مہتا کہتے ہیں کہ ’کوئی بھی ملک برآمدات پر اتنا منحصر نہیں۔ ہمیں بہت نقصان ہو رہا ہے۔ یہ بڑا بحران ہے۔ ہمیں اس جنگ سے سیکھنا ہو گا تاکہ برآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔‘‘ حکومت ہند نے کوکنگ آئل کی درآمد پر ٹیکس میں کمی کی ہے تاکہ اس کی قیمتوں کو کم رکھا جا سکے۔ لیکن ۲۰۲۰ء سے بڑھتی قیمتوں اور اب یوکرین  جنگ کے بعد دیگر مشکلات کی وجہ سے حالات سنگین ہو گئے ہیں۔ پام آئل کی عالمی قیمتوں میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ۳۰۰؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ سستا تیل ہے جو گھروں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور بیکریوں میں ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ملک بھر میں کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے
 یہ حیران کُن نہیں کہ ایک ماہ سے کم عرصے میں کوکنگ آئل کی قیمتیں ۲۰؍فیصد سے زیادہ بڑھی ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ لوگ اس کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔ گلیوں میں بکنے والے مشہور اور سستے کھانوں میں اکثر چیزوں کو تیل میں فرائی کیا جاتا ہے۔ چاول، گندم، نمک اور کوکنگ آئل  غریب ترین طبقے کیلئے اہم اجزا ہیں۔ محکمہ خوراک کے سینئر اہلکار سودھانشو پانڈے کہتے ہیں کہ ’کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ واقعی بہت سی مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔‘ اس سے باآسانی خوراک کی افراط زر یا فوڈ انفلیکشن میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ مارچ میں ۷ء۶۸؍ فیصد رہی (۱۶؍ ماہ میں سب سے زیادہ)۔ اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ذیلی ادارے یو این ایف اے او کے ماہر ڈی یانگ کا کہنا ہے کہ اگر قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو ہندوستان کو راشن پروگرام کی طرف جانا ہو گا کیونکہ’ ’قلیل مدت میں درآمدات کی کمی کا کوئی متبادل نہیں۔‘‘خوراک کی کمی کو جزوی طور پر قابو کرنے کیلئے ملک میں رواں سال اپنی امیدیں سرسوں اور سویا بین کی اچھی فصل نے لگائی ہیں۔ پانڈے بتاتے ہیں کہ ’مقامی پیداوار میں اضافے کی بدولت ملک میں عالمی افراط زر کے اثرات پوری طرح محسوس نہیں کئے گئے کیونکہ عالمی قیمتوں کے مقابلے ہندوستان میں کوکنگ آئل کی قیمت قریب نصف ہے۔‘’لیکن آخر میں ہمیں خود کفیل ہونا پڑے گا اور یہ تب ہو گا جب کسان تیل کے بیج کی طرف منتقل ہوں اور انھیں اچھی قیمتیں ملیں۔‘ سال ۲۰۲۱ءمیں  وزیر اعظم نریندر مودی نے ’نیشنل آئل مشن‘ کے نام سے ایک اسکیم شروع کی تھی تاکہ پام آئل کی پیداوار بڑھائی جاسکے۔منصوبے کا ایک حصہ مزید پام آئل پیدا کرنا ہے۔ بظاہر یہ اچھا خیال ہے کیونکہ یہ بہت قیمتی فصل ہے اور اس سے سویا بین کے مقابلے زیادہ تیل ملتا ہے۔ پام آئل کا استعمال بھی زیادہ چیزوں میں ہوتا ہے جیسے روزمرہ کی چیزیں یا صنعتی ضرورت۔لیکن پام آئل کی فصل میں پانی کا بے انتہا استعمال ہوتا ہے۔ نئی فصلوں کیلئے کئی جنگلوں کی کٹائی کی ضرورت ہو گی۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں جو پہلے ہی روزمرہ کے اخراجات سے پریشان ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس بحران کے بعد شاید لوگ دانائی سے کوکنگ آئل کا انتخاب کرنے لگیں۔ کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں اب بھی لوگوںکو زیادہ تیل والے کھانے پسند ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK