ٹی ایم سی کے باغیوں میں سے بیشتر کو شکست، نئے امیدواروں سے بھی ہارے

Updated: May 04, 2021, 10:05 AM IST | Kolkata

گزشتہ ۲؍ سال میں ترنمول کانگریس کے ۱۷؍ ایم ایل ایز نے بی جے پی کا دامن تھا ما تھا، جن میں سے ۱۳؍ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی کے چار اراکین پارلیمان جو اسمبلی الیکشن میں امیدوارتھے، ان میں سےتین کو ہار ہوئی جبکہ ایک امیدوار محض۵۷؍ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوا۔اداکاروں اور فنکاروں کو بھی میدان میں اتارنا کام نہیں آیا۔ متھن چکرورتی فیکٹر بھی ناکام

Trinamool Congress workers in North Dinajpur is visible, this is the situation of the entire state.Picture:INN
شمالی دیناج پور میں ترنمول کانگریس کے کارکنوںکا جوش خروش قابل دید ہے، یہی کیفیت پوری ریاست کی ہے تصویر آئی این این

مغربی بنگال نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کی صورت میں ملک کو ایک ساتھ کئی پیغام دیا ہے۔اول یہ کہ اپنی تہذیبی روایت سے کسی کو کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوم یہ کہ اقتدار میں لالچ میں پارٹی بدلنے والوں کو ان کی اوقات بتادی جائے گی اور سوم یہ کہ سیاسی جماعتوں کے بہکاوے میں آنے کے بجائے ان کا محاسبہ کیا جائے گااور ان کی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر ہی ان کا انتخاب کیا جائے گا۔اسمبلی انتخابات کے نتائج اب جبکہ پوری طرح ظاہر ہوچکے ہیں، یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اپنی تہذیبی روایات کی  پاسداری میں بنگال پوری طرح سے کامیاب رہا۔ اس نے ٹیگور، نذرالاسلام اور سبھاش چندر بوس کی سرزمین پراُن طاقتوں کو دھول چٹا دیا جو ریاست کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ اسی طرح انہیں بھی شکست سے دوچار کیا جو لالچ  کے سبب پارٹی بدل کر اپنوں کے ساتھ فریب کیا تھا۔
۱۷؍ باغی ایم ایل ایز میں سے ۱۳؍ ہارے
  گزشتہ ۲؍ سال میں ترنمول کانگریس کے  ۱۷؍ ایم ایل ایز کے ساتھ ۳۰؍ لیڈروں نے  بی جے پی کا دامن تھا ما تھا۔  ان پر الزام تھا کہ یہ لوگ یا تو لالچ میں یا پھر خوف کی وجہ سے بی جے پی کے ساتھ گئے ہیں۔ ان ۱۷؍  میں سے ۱۳؍ ایم ایل ایز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔  ان میں  سے کئی ریاست میں وزیر بھی تھے۔ ان لوگوں  نے آدھی چھوڑ کر پوری روٹی کی چکرمیں ترنمول  کانگریس کا ساتھ چھوڑا تھا لیکن اب آدھی بھی ہاتھ سے گئی۔ ان میں سے بیشتر نئے امیدواروں سے ہارے۔
ترنمول کانگریس کی طاقت میں اضافہ
 اس مرتبہ ترنمول کانگریس کی طاقت پہلے سے زیادہ بڑھی ہے۔ اس کو ملنے والے ووٹوں کی شرح میں اضافے کے ساتھ ہی اس کی سیٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ۲۰۱۶ء میں  ترنمول کانگریس کو ۴۴ء۹۱؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ ۲۱۱؍ سیٹیں ملی تھیں جبکہ اس مرتبہ ۴۷ء۹۴؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ ۲۱۳؍ سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن کے مقابلے بی جے پی کی طاقت میں ضرور اضافہ ہوا ہے لیکن ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن سے موازنہ کیا جائے تو اسے زبردست خسارے کا سامنا ہے۔
  بی جے پی کے چار اراکین پارلیمان میں سے تین ہارے
 بنگال کے رائے دہندگان نے اس مرتبہ نہ صرف بی جے پی کے سینئر لیڈروں کو شکست سے دوچار کیا بلکہ ان تمام کو بھی دھتکار دیا جو ترنمول کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی میں آئے تھے  اور ریاستی اسمبلی پر بھگوا پرچم لہرانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ بی جے پی نے اس بار ترنمول کانگریس کے وزیروں  اور ایم ایل ایز کے ساتھ ہی اپنے چار اراکین پارلیمان کو بھی داؤ پر لگایا تھا۔ ان چاراراکین پارلیمان سے میں ۳؍ کو ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا جبکہ ’دن ہٹا‘ اسمبلی حلقے سے نستھ پرمانک محض ۵۷؍ ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوچکے۔  یہاں پر پرمانک کے ایک لاکھ ۱۶؍ ہزار ۳۵؍ ووٹوں کے جواب میں ترنمول کانگریس کے ادین گوہا کوایک لاکھ ۱۵؍ ہزار ۹۷۸؍ ووٹ ملے تھے۔ یہاں پر بایاں محاذ کے امیدوار عبدالرؤف نے۶؍ ہزار۶۹؍ ووٹ  حاصل کیا تھا۔  
 اس کے برعکس مرکزی وزیر بابل سپریو کو جو مشہور گلو گار بھی ہیں، بی جے پی نے ٹالی گنج سے امیدوار بنایا تھا۔ بی جے پی کو ان پر بہت ناز تھا اوران کیلئے متھن چکرورتی نے دن رات ایک کردیا تھا۔کئی مرکزی وزیروںنے بھی ان کیلئے روڈ شو کیا تھا مگر کچھ کام نہ آیا۔ ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ریاستی وزیر کھیل اروپ بسواس نے انہیں۵۰؍ہزار سے زائد ووٹو ں کے فرق سے شکست سے دوچار کیا۔ اسی طرح ہگلی سے رکن پارلیمان اور سابقہ اداکارہ لاکیٹ چٹرجی بھی اپنے پارلیمانی حلقہ انتخاب کے تحت چنچورہ سیٹ سے۱۸؍ ہزار ۴۱۷؍ ووٹوں کے فرق سے ہار گئیں۔ سب سے برا حال سوپن داس گپتا کا رہا۔پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ صحافی سوپن داس گپتا نے اسمبلی انتخاب کیلئے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دیا لیکن ہگلی کی تارکیشور سیٹ پر ترنمول کانگریس کے امیدوار رامیندو سنہا رے سے ۷؍ ہزار ۴۸۴؍  ووٹوں سے ہار گئے۔ راس  بہاری سیٹ پر بی جے پی نےفوج کے ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل سبرت ساہا (ریٹائرڈ) کو امیدوار بنایا تھا، انہیں بھی۲۱؍ ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ترنمول کے باغیوں کا برا حال رہا
 ترنمول چھوڑ کر بی جےپی میں آنےوالوں کا بھی کچھ یہی حال رہا۔ ریاستی حکومت میں وزارت کے عہدے پرفائز راجیب بنرجی  جو گزشتہ الیکشن میں ہوڑہ کے ڈومجور سیٹ پر ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے کامیاب رہے تھے، اس مرتبہ ترنمول کانگریس کے امیدوار کلیان گھوش سے ۴۲؍ ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ ممتا بنرجی کی کابینہ سے استعفیٰ دینے کے بعد راجیب بنرجی کوبی جے پی میں شامل شامل کرانے کیلئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے خصوصی طیارہ کولکاتا بھیجا تھا ۔ایک دوسرے باغی رابندر ناتھ بھٹاچاریہ کا بھی یہاں حال رہا۔سینگور تحریک میں ممتا بنرجی کے ساتھ شانہ بشانہ رہنے والے بھٹا چاریہ کو ترنمول کانگریس نے۹۰؍سال  عمر ہونے کی وجہ سے ٹکٹ نہیں دیا تھا تووہ بی جے پی میں شامل ہوگئے لیکن ا اپنے پرانے ساتھی بیچارام منا کے ہاتھوں ہار گئے  ۔اسی طرح آسنول کے سابق میئر جتیندر تیواری اور ودھان نگر کے سابق میئر اور سابق ممبر اسمبلی سبیاچی دتہ کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 
اداکاروں کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا
  بی جے پی نے ا س مرتبہ  الیکشن کوگلیمرائز کرنے کیلئے فلی اداکاروں اور کھیل ستاروں کوبھی زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دیا تھا لیکن یہ حربہ بھی کارآمد ثابت نہیں ہوا۔ بہالا مغرب سے بی جے پی نے اداکارہ شربنتی چٹرجی کو میدان میں اُتارا تھا لیکن ریاستی  وزیر تعلیم پارتھا چٹرجی نے انہیں۵۰؍ ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست سے دوچارکیا۔اسی طرح  اداکارہ پائیل سرکار بھی بہالہ مشرقی سیٹ پر ترنمول کانگریس کی امیدوار رتنا چٹرجی سے۳۷؍ ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئیں۔ اداکار رودرانیل گھوش بھی کولکاتا کے بھوانی پور سیٹ پر۲۸؍ ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئے۔ رودرنیل نےانتخابات سے عین قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اداکارہ پاپیا ادھیکاری بھی الوبیریا جنوبی نشست سے ۲۸؍  ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئی ہیں۔ ہگلی کی چنڈی  ٹالا سیٹ پر اداکار یش داس گپتا بھی۴۱؍ ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئے۔ متھن چکرورتی کا فیکٹر بھی بی  جے پی کے کام نہیں آیا۔ دوسری طرف ، ترنمول نے کئی فنکاروںکو امیدوار بنایا تھا، ان میں سے بیشتر کامیاب ہوئے ہیں۔

 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK