کئی صارفین جنہیں ۲۵؍ مارچ کو بکنگ کرکے سلنڈر لینے کا پیغام آیا تھا ، انہیں اب مزید ۱۰؍ دن بعد بکنگ کرنے کا میسیج بھیجا جارہا ہے۔ اس معاملے پر نو بت ہاتھا پائی تک پہنچ رہی ہے
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 10:44 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
کئی صارفین جنہیں ۲۵؍ مارچ کو بکنگ کرکے سلنڈر لینے کا پیغام آیا تھا ، انہیں اب مزید ۱۰؍ دن بعد بکنگ کرنے کا میسیج بھیجا جارہا ہے۔ اس معاملے پر نو بت ہاتھا پائی تک پہنچ رہی ہے
شہرو مضافات اور اطراف کے علاقوں میں ابھی صارفین دوسرا گیس سلنڈرحاصل کرنےکیلئے۲۵؍ دن بعد بکنگ کرنے سے پیدا ہونے والے مسائل اور پریشانی سے نکل بھی نہیں پائے تھے کہ گیس سلنڈر کی بکنگ کی میعاد میں مزید۱۰؍ دن کے اضافے کی افواہ سے ان میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے ۔صارفین ہی نہیں گیس ایجنسیاں بھی اس سلسلہ میں تذبذب کا شکار ہیں ۔ بعض مقامات پر ایجنسیوں نے جن صارفین کو ۲۵؍ دن کے بعد بکنگ کی تاریخ دی تھی ، انہیں دوبارہ میسیج کرکےمزید ۱۰؍ دن بعدسلنڈر کی بکنگ لئے جانے کا پیغام بھیجا ہے ۔ بکنگ میں ۱۰؍ دن کے اضافہ کا پیغام بھیجنے والی ایجنسیوں اور صارفین کے درمیان تنازع بھی بڑھتا جارہا ہے۔
ایل پی جی سے متعلق پھیلنے والی افواہوں اور ایجنسی اور صارفین کے مابین تنازع شدید رخ اختیارنہ کرلے،اس سے بچنے کیلئے شہر کی اکثر ایجنسیوں میں پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ تھانے میں تو ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے میسیج کے ذریعہ ۲۵؍ دن کے بجائے ۳۵؍ دن میں بکنگ لئے جانے اور گیس سلنڈردینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن صارفین میں پیدا ہونے والی بے چینی کے پیش نظر جاری کردہ فرمان واپس لے لیا گیا ہے ۔
ایران ،امریکہ اور اسرائیل جنگ کے سبب ملک کی تقریباً سبھی ریاستوں میں ایل پی جی کے پیدا ہونے والے بحران ، سوشل میڈیا اور وہاٹس ایپ پر پھیلنے والی گمراہ کن خبروں کے سبب ایک طرف صارفین میں خوف اور بے چینی مزید بڑھ گئی ہے تو دوسری طرف شہر اور مضافات کے صارفین نے گیس ایجنسیوں پر گیس کی بکنگ ۲۵؍ دن سے بڑھا کر ۳۵؍ اور ۴۵؍ دن کئے جانے سے متعلق پھیلنے والی افواہوں کی آڑ میں کالا بازاری کرنے کا بھی الزام لگایاہے ۔اس مسئلہ سے دو چار گھیلابائی اورمورلینڈ روڈ علاقے میں رہنے والے طارق انصاری اور محمد عثمان نے بتایا کہ ۲۲؍ فروری کو جب ممبئی سینٹرل پر واقع انسن ڈسٹری بیوٹر گیس ایجنسی اور کماٹی پورہ میں واقع انوکل گیس ایجنسی میں بکنگ کے لئے درخواست دی گئی تو انہوںنے ۲۵؍دن بعد بکنگ کرنے کی ہدایت دی تھی وہیں ۲۵؍ مارچ کو فون کرنے پر بکنگ لے لی گئی لیکن دوسرے دن بروز جمعرات ۲۶؍ مارچ کو بکنگ میں ۱۰؍ دن کا اضافہ کئے جانے کا میسیج بھیجا گیا ۔
دونوں صارفین جب اس بابت ایجنسیوں میں استفسار کرنے پہنچے تو انہیں حکومت کی جانب سے نئے فرمان جاری ہونے کا حوالہ دیاگیا جس پر صارفین اور ایجنسی کے ذمہ دار کے درمیان شدید تکرار بھی ہوئی ۔ آخرکار صارفین کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ اس مسئلہ سے دوچار مورلینڈ روڈ کے رہنے والے عبدالغنی نے بتایا کہ’’ایک طرف ۲۵؍ دن کی بکنگ کے باوجود ۳۰؍ اور ۳۵؍ دن میں ڈیلیوری دی جارہی ہے تو دوسری طرف ۲۵؍ دن کے بجائے ۳۵؍ دن میں بکنگ لینے کی پھیلنے والی افواہ نے صارفین کو مزید پریشان کر دیا ہے ۔‘‘
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ایل پی جی سلنڈروں کی ۲۵؍ دن کے بجائے ۳۵؍ دن بعد بکنگ کی پھیلنے والی افواہوں کے علاوہ تھانے ضلع کے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے ذریعہ ۳۵؍ دن میں بکنگ لینے کے جاری کردہ پیغام سے صارفین میں مزید افراتفری اور بے چینی پھیل گئی ہے ۔ہر چند کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے جاری کردہ پیغام واپس لے لیا ہے لیکن اب بھی افواہوں کا بازار گرم ہے ۔
اس ضمن میں شہر اور ضلعی سطح پر گیس سپلائی کرنے والے ڈسٹری بیوٹرسرجے راؤ مہسکے نے واضح کیا کہ ’’ مرکزی حکومت کی وزارت پیٹرولیم کے جاری کردہ پیغام کی غلط تشریح اورسوشل میڈیا اور وہاٹس ایپ پر جھوٹی اطلاعات سے اس بے چینی میں اضافہ ہوا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے مرکز کی جانب سے جاری کردہ اعلان کو دہراتے ہوئے کہا کہ شہری سطح پر ۲۵؍ دن میں بکنگ لینے کا سلسلہ برقرار رکھا گیا ہے جبکہ ضلعی سطح پر ۴۵؍ دن ہی میں بکنگ لی جارہی ہے ۔ اس لئے شہریوں کو افواہوں پر دھیان نہیں دینا چاہئے ۔