سپریم کورٹ نے عدالتوں میں غیر موجود یا غلط فیصلوں کے حوالہ دینے کے بڑھتے رجحان کو ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر نظامِ انصاف کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 8:11 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے عدالتوں میں غیر موجود یا غلط فیصلوں کے حوالہ دینے کے بڑھتے رجحان کو ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر نظامِ انصاف کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔
ہندوستانی سپریم کورٹ نے عدالتی نظام میں ایک تشویشناک رجحان پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غیر موجود‘‘ یا جعلی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دینے کا بڑھتا ہوا عمل ایک بڑے پیمانے پر خطرہ بن چکا ہے، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر عدالتوں کی ساکھ اور فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کر رہا ہے۔ جسٹس راجیش بندل اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے یہ اہم مشاہدات اس وقت کیے جب وہ ہارٹ اینڈ سول انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ کی جانب سے دائر خصوصی چھٹی کی درخواست (ایس ایل پی) کی سماعت کر رہے تھے۔ یہ درخواست بامبے ہائی کورٹ کے ان ریمارکس کے خلاف دائر کی گئی تھی جن میں مبینہ طور پر ایک غیر موجود عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یو اے پی اے کے تحت درج مقدموں پر شنوائی ایک سال میں مکمل کرنے پر زور
سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ یہ مسئلہ اب محض ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع ادارہ جاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ یہ خطرہ اب تمام عدالتوں میں پھیل رہا ہے، نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں۔ ہر کسی کو اس کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی کارروائیوں میں حوالہ جات کی درستگی اور تصدیق کو یقینی بنانا اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے، کیونکہ کسی بھی غلط یا فرضی فیصلے کا استعمال نہ صرف مقدمے کے نتیجے کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ پورے نظام انصاف کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کمپنی کے ڈائریکٹر نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ انہوں نے کبھی کسی جعلی فیصلے کا حوالہ نہیں دیا، بلکہ وہ صرف ہائی کورٹ کے ریمارکس کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ نے اس مرحلے پر اس وضاحت میں جانے سے گریز کیا اور معاملے کو محدود دائرے میں نمٹاتے ہوئے کہا کہ ’’فی الحال، ہم اس معاملے کی گہرائی میں نہیں جا رہے ہیں۔‘‘ عدالت نے درخواست گزار کو جزوی راحت دیتے ہوئے متنازع پیراگراف کو حذف کرنے کا حکم دیا اور اسے matter of indulgence کے طور پر نمٹایا۔
یہ بھی پڑھئے: گڈچرولی : شراب پی کر بیوی کو پیٹنے پر ایک ہزار روپے جرمانہ
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایک اور کیس میں سپریم کورٹ نے اس بات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا تھا کہ ایک نچلی عدالت نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی اور غیر موجود عدالتی فیصلوں پر انحصار کیا تھا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ایس پی نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے نے واضح کیا تھا کہ ایسے اقدامات ’’ادارہ جاتی تشویش‘‘ کو جنم دیتے ہیں اور قانونی عمل کی بنیادوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ڈجیٹل دور میں جہاں معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے، وہیں غلط یا مصنوعی مواد کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں عدالتوں، وکلا اور متعلقہ فریقین کے لیے یہ لازمی ہو گیا ہے کہ وہ ہر حوالہ اور قانونی مواد کی مکمل تصدیق کریں تاکہ انصاف کے عمل کی شفافیت اور ساکھ برقرار رکھی جا سکے۔
سپریم کورٹ کا یہ انتباہ دراصل ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے نہ صرف قانونی نظام بلکہ عوام کا اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عدالت نے اس معاملے پر سخت چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔