Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلمانوں میں عدم تحفظ بڑھ رہا ہے: محمود اسعد مدنی کا انتباہ، حکام سے سوال

Updated: March 26, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا ہے کہ ملک میں مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ حکام کے مبینہ متضاد رویے اور امتیازی سلوک کا تاثر ہے، جبکہ انہوں نے کئی دیگر اہم قومی مسائل پر بھی اپنی رائے دی۔

Jamiat Ulema-e-Hind President Maulana Mahmood Asad Madani . Photo: INN
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی۔ تصویر: آئی این این

محمود اسعد مدنی جو جمعیۃ علماء ہند کے صدر ہیں، نے ملک میں مسلمانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسا ماحول پیدا ہو رہا ہے جہاں لوگ خود کو ’’حاشئے پر، غیر محفوظ اور ذلیل‘‘ محسوس کر رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان جیسے بڑے اور متنوع ملک میں انفرادی واقعات کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاستی اداروں کا ردعمل غیر متوازن یا جانبدار محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ لوگ جن کا فرض ناانصافی کو روکنا اور انصاف کو یقینی بنانا ہے، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یو اے پی اے کے تحت درج مقدموں پر شنوائی ایک سال میں مکمل کرنے پر زور

انہوں نے واضح کیا کہ یہ احساس کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک وسیع رجحان کا حصہ ہے، جہاں مسلمانوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ انتظامیہ، پولیس اور حکومت کے بعض حلقوں کا رویہ غیر مساوی ہے۔ ان کے مطابق، یہی عنصر معاشرتی بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عالمی سطح پر بھی مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ ایسا تاثر ضرور بڑھ رہا ہے، تاہم انہوں نے کسی مخصوص واقعے کا حوالہ دینے کے بجائے اسے ایک عمومی رجحان قرار دیا۔ آسام میں مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح موقف اختیار کیا کہ اس معاملے کو مذہب کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کوئی بھی شخص، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اگر وہ غیر ملکی شہری ہے اور اس کے پاس درست دستاویزات نہیں ہیں، تو اسے ہندوستان میں رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود بعض سیاسی بیانات، جیسے لوگوں کو بنگلہ دیش بھیجنے کی دھمکیاں، صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے محمود مدنی نے کہا کہ اس پر اعتراضات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ دیگر کمیونٹیز میں بھی عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایک وسیع عوامی مسئلہ بن چکا ہے جس پر شفافیت کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ گجرات میں مجوزہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) بل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے محتاط رویہ اختیار کیا اور کہا کہ ان کی تنظیم اس بل کا تفصیلی مطالعہ کر رہی ہے، جس کے بعد ہی کوئی باضابطہ موقف اختیار کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: گھر میں نماز پر پابندی کے خلاف فیصلہ سنانے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کا روسٹر تبدیل کردیا گیا

عید کی نماز کے دوران سڑکوں کے استعمال پر پابندیوں کے معاملے پر انہوں نے یکساں قانون کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سڑکوں پر کوئی مذہبی سرگرمی نہیں ہونی چاہیے، تو یہ اصول سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، نہ کہ یک طرفہ انداز میں۔‘‘ سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے محمود مدنی نے اسدالدین اویسی کے بارے میں بھی مثبت رائے دی اور کہا کہ وہ ایک قابل سیاستدان ہیں جو اپنے انداز میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ محمود مدنی کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں سماجی ہم آہنگی، مذہبی آزادی اور ریاستی اداروں کے کردار پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ ان کے خیالات نہ صرف مسلمانوں کے خدشات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ وسیع تر سطح پر انصاف، برابری اور حکمرانی کے اصولوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK