کیوبا کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ ملک کی خود مختاری پر کوئی بات چیت نہیں، ‘‘ ساتھ ہی کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں خود مختاری اور سیاسی نظام کے علاوہ تمام معاملات قابلِ گفت و شنید ہیں۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 10:08 PM IST | Havana
کیوبا کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ ملک کی خود مختاری پر کوئی بات چیت نہیں، ‘‘ ساتھ ہی کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں خود مختاری اور سیاسی نظام کے علاوہ تمام معاملات قابلِ گفت و شنید ہیں۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیازکانیل نے بدھ کو کہا کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تمام مسائل پر بات کی جا سکتی ہے، تاہم ملک کی آزادی پر کبھی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ہوانا میں ہسپانوی میڈیا آؤٹ لیٹ کینال ریڈ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیازکانیل نے واشنگٹن کے ساتھ جاری روابط پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری، نقل مکانی ، منشیات کی اسمگلنگ، انسداد دہشت گردی، ماحولیاتی تحفظ، نیز سائنس اور تعلیم سمیت وسیع موضوعات پر امریکہ کے ساتھ بات کی جانی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا ، ’’ہم ہر چیز پر گفتگو کر سکتے ہیں، لیکن ہماری خود مختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ہماری آزادی اور سیاسی نظام کبھی بھی گفت و شنید کے لیے نہیں ہیں،‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، ایران دباؤ میں، جنگ بندی کا اعلان جلد متوقع
ڈیازکانیل نے مذاکراتی عمل کو طویل المدتی قرار دیا اور مزید کہا کہ جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، اس بار بھی حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کو ختم کرنےکی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہم جنگ نہیں چاہتے؛ ہم مکالمہ چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ہم فوجی مداخلت کا نشانہ بنتے ہیں، تو میں انقلاب کے لیے اپنی جان دینے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ ڈیازکانیل نے یہ بھی کہا کہ کیوبا بیرونی انحصار کم کرنے کے لیے اندرون ملک توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے پر کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی مجبوراً اجازت دی
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے۳۰؍ جنوری کو ایک عبوری حکمنامے پر دستخط کیے تھے جس میں کیوبا کو تیل فروخت یا فراہم کرنے والے ممالک سے آنے والی تمام اشیا پر محصولات عائد کیے گئے تھے۔بعد ازاں وہائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کیوبا کی نقصان دہ کارروائیوں اور پالیسیوں کے خلاف امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کا تحفظ ہے۔تاہم ٹرمپ نے یکم فروری کو اعلان کیا تھا کہ تیل فراہمی کے انتظامات کے حوالے سے کیوبا کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے گئے ہیں، لیکن کیوبا نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔کیوبا کی حکومت نے بیرونی تیل کی فراہمی کے بغیر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی پیکج فعال کر دیا ہے۔