تمام تر رکاوٹوں کے باوجود دوسرے دن بھی مظاہرین کواحتجاج سے روکانہیں جاسکا، جگہ جگہ اکٹھا ہوکر گیانیش کمار کے خلاف نعرہ بازی کی۔
گرفتاریوں کے باوجود طالبات مودی سرکار کے خلاف پوسٹر دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر دہلی میںسخت پولیس بندوبست اور مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کئے جانے کے باوجود مظاہرین نے کناٹ پلیس سمیت متعدد علاقوں میں جمع ہوکر احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس پر الزام ہے کہ اس نے مظاہرین کو حراست میں لیتے وقت انتہائی ظالمانہ طریقہ استعمال کیا، لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور پولیس وین میں کئی مظاہرین کے ساتھ مار پیٹ کی۔ تمام تر سختیوں کے باوجود اتوار کو دوسرے دن بھی مظاہرین احتجاج سے روکا نہیں جا سکا جنہوں نے جہاں موقع ملا وہاں اکٹھا ہوکر گیانیش کمار اور مودی سرکار کے خلاف نعرہ بازی کی۔
کناٹ پلیس کے اندرونی سرکل اور راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے قریب بھی مظاہرین جمع ہوئے اورنعرے لگائے۔ ایس ایف آئی کا دعویٰ ہے کناٹ پیلس سے حراست میں لئے گئے اس کے سیکڑوں کارکنوں کو نانگلوئی کے سورج مل اسٹیڈیم منتقل کیا گیا جبکہ بعض کارکنوں کو ہریانہ کی سرحد کے قریب لے جاکر چھوڑ ا گیا۔ دہلی کے سیکرڈ ہارٹ چرچ کے فادر بیجو زیویئر کو بھی احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا۔ بتایا جارہاہے کہ وہ اپنے موبائل فون سے پولیس کارروائی کی ویڈیو ریکارڈ کر رہے تھے، اسی دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔کناٹ پیلیس کی طرح ہی آر کے آشرم مارگ اور کئی دیگر مقامات پر فریٹرنٹی موومنٹ اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا نے احتجاج کیا۔