نیویارک نے عالمی شہر فہرست۲۰۲۶ء میں ٹاپ پوزیشن برقرار رکھی، ٹوکیو لندن اور پیرس کے بعد لیکن ایشیا میں سرفہرست رہا۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 10:02 PM IST | New York
نیویارک نے عالمی شہر فہرست۲۰۲۶ء میں ٹاپ پوزیشن برقرار رکھی، ٹوکیو لندن اور پیرس کے بعد لیکن ایشیا میں سرفہرست رہا۔
نیویارک نے آکسفورڈ اکنامکس کے گلوبل سٹیز انڈیکس۲۰۲۶ء میں دنیا کے ٹاپ شہر کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے، اس کے بعد لندن اور پیرس ہیں، ٹوکیو ایشیاکے شہروں میں اول مقام پر رہا۔ یہ جائزہ ۱۰۰۰؍ شہروں پر مشتمل ہے۔ لندن دوسرے اور پیرس تیسرے نمبر پر ہے۔ ٹوکیو، جو نویں نمبر پر ہے، ایشیا کا سب سے زیادہ پوزیشن والا شہر ہے اور بصورت دیگر مغربی شہروں کی قیادت والی فہرست میں نمایاں ہے۔ واضح رہے کہ یہ انڈیکس پانچ زمروں پر شہروں کو جانچتا ہے،معاشیات (مجموعی اسکور کا۳۰؍ فیصد ) انسانی دولت اورمعیار زندگی (۲۵؍ فیصد ہر ایک)، اور ماحول اور طرز حکمرانی (۱۰؍ فیصد ہر ایک)۔حکمرانی کا جائزہ قومی سطح پر لیا جاتا ہے، اس لیے ایک ہی ملک کے شہروں کو ایک ہی درجہ بندی ملتی ہے۔
نیویارک کی برتری۲۰۲۵ء میں۲؍ اعشاریہ ۶؍ ٹریلین ڈالر کی میٹروپولیٹن معیشت پر ہے، جو انڈیکس میں سب سے بڑی ہے۔ فنانس، ٹیکنالوجی، میڈیا اور کارپوریٹ ہیڈ کوارٹرز میں اس کی طاقت نے اسے معاشیات میں پہلے اورانسانی دولت (ہیومن کیپیٹل) میں پانچویں نمبر پر آنے میں مدد کی۔جبکہ لندن ہیومن کیپیٹل میں سرفہرست ہے، جس کی مدد اس کی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کارکنوں کے ارتکاز سے ہوتی ہے۔ اس کے تقریباً۴۰؍ فیصد رہائشی غیر ملکی نژاد ہیں۔ پیرس، جس کی ٹریلین ڈالر کی معیشت بھی ہے،کوالٹی آف لائف کے لیے۱۰؍ویں نمبر پر ہے، جس کی مدد اعلیٰ متوقع عمر، نسبتاً مضبوط آمدنی اور ثقافتی سہولیات جیسے تقریباً ۱۳۰؍ عجائب گھروں سے ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ سیئٹل مجموعی طور پر چوتھے نمبر پر ہے، جس کی پشت پر مائیکروسافٹ، ایمیزون اور اس کے ایرو اسپیس اور ریٹیل سیکٹرز ہیں۔ سان فرانسسکو پانچویں اور سان ہوزے آٹھویں نمبر پر ہے، جو سلیکان ویلی کے معاشی وزن کی عکاسی کرتا ہے۔ سان ہوزے میں انڈیکس میں کسی بھی شہر کی فی کس سب سے زیادہ جی ڈی پی ہے، جس کا تخمینہ۲۰۲۵ء میں ۲۳۸۷۰۰؍ڈالر ہے۔تاہم مضبوط معاشی نتائج ہر زمرے میں اعلیٰ درجہ کی ضمانت نہیں دیتے۔ سان ہوزے اکنامکس میں تیسرے نمبر پر ہے لیکنہیومن کیپیٹل میں ۱۲۱؍ویں نمبر پر ہے۔ بوسٹن اکنامکس میں نویں نمبر پر ہے لیکن جزوی طور پر سیلاب کے خطرے کی وجہ سے انوائرمنٹ میں ۲۸۹؍ویں نمبر پر ہے ۔ آکسفورڈ اکنامکس نے امریکی ٹیک حبز کے لیے چیلنجز کے طور پر زیادہ ہاؤسنگ لاگت، آمدنی کی عدم مساوات اور معاشی ارتکاز کی طرف بھی اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: کیپٹل کے باہر سیکڑوں کا مظاہرہ، اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ
ڈبلن، مجموعی طور پر چھٹے نمبر پر،انوائرمنٹ کے لیے عالمی سطح پر نویں نمبر پر ہے، جس کی مدد کم آلودگی اور معتدل آب و ہوا سے ہوتی ہے، حالانکہ ہاؤسنگ کی استطاعت ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اوسلو `کوالٹی آف لائف اور گورننس میں آٹھویں کے لیے چھٹے نمبر پر ہے۔ کوپن ہیگن گورننس کے لیے پہلے نمبر پر ہے لیکن مجموعی طور پر۱۸؍ویں نمبر پر ہے۔ زیورخ ٹاپ۱۰؍ میں ہے، جس کی حمایت پیداواری مالیاتی خدمات، مضبوط تعلیمی اداروں اور اعلیٰ معیار زندگی سے ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ ٹوکیو ہیومن کیپیٹل کے لیے تیسرے نمبر پر ہے، جو ہنر مند کارکنوں اور بڑے تعلیمی اداروں کے گہرے پول کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ انوائرمنٹ کے لیے۴۵۴؍ویں نمبر پر ہے، جو ٹاپ ۱۰؍ میں اس زمرے میں سب سے کم پوزیشن ہے، کیونکہ زلزلے، سمندری طوفان اور دیگر قدرتی خطرات اس کے اسکور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: کیپٹل کے باہر سیکڑوں کا مظاہرہ، اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی کا مطالبہ
واضح رہے کہ ۲۰۲۵ء کے ٹاپ۱۰؍ میں سے آٹھ شہر اس سال بھی ٹاپ۱۰؍ میں ہیں۔ بعد ازاں آکسفورڈ اکنامکس کو توقع ہے کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے ایشیائی شہر جدید مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور کاروباری خدمات میں توسیع کے ساتھ معاشی اثر و رسوخ حاصل کریں گے، جو درجہ بندی کو مزید مسابقتی بنا سکتا ہے۔