دہلی میں  فساد زدگان کا علاج کرنےوالےڈاکٹر کا نام بھی چارج شیٹ میں شامل

Updated: June 30, 2020, 6:22 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

فاروقیہ مسجد کے پاس شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ منعقد کرانےکا الزام، اس مظاہرہ کے شرکاء کو۲۳؍ فروری کے تشدد کا ملزم بنایا گیا ہے

Dr Anwar - Pic : Inquialb
ڈاکٹر انور الہند اسپتال میں مریضوں کا علاج کرتے ہوئے۔ تصویر : انقلاب

شمال مشرقی دہلی میں فساد کے دوران   اپنی جان پر کھیل کر فساد زدگان کی جان بچانے والے الہند اسپتال کے ڈاکٹر انور کا نام بھی پولیس نے چارج شیٹ میں شامل کرلیا ہے۔  ڈاکٹر انور پر فاروقیہ مسجد  کے پاس شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف وہ  مظاہرہ منعقد کرانے کا الزام جس کے شرکاء کو پولیس نے  شیو وہار میں ۲۳؍ فروری کو ہونے والے تشدد کا ملزم بنایا ہے۔ 
 انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کےمطابق شیووہار میں انل سویٹ شاپ کے ویٹر ۲۰؍ سالہ دلبرنیگی کے قتل  کے کیس میں ۴؍ جون کو داخل کی گئی چارج شیٹ میں مصطفیٰ آباد کے الہند اسپتال  کے ڈاکٹر انور کا تذکرہ کیاگیاہے۔  چارج شیٹ کے مطابق’’جائے حادثہ  کے قریب فاروقیہ مسجد کے پاس ۱۵؍ جنوری ۲۰۲۰ء سے غیر قانونی طور پر شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ چل رہاتھا جس میں  متعدد شرکاء آتے رہے اور اشتعال انگیز تقریریں کرتے رہے۔ یہاں  یہ جھوٹی خبر پھیلائی گئی کہ این آر سی کی وجہ سے مسلمانوں کو شہریت نہیں دی جائےگی اورانہیں ڈٹینشن سینٹر بھیج دیا جائےگا۔  باہر سے اس مظاہرہ گاہ میں ڈاکٹر امبیڈکر، شہید بھگت سنگھ  اور مہاتما گاندھی کی تصویریں لگائی گئی تھیں اور ترنگا لہرایاگیاتھا۔  بہرحال ایک مخصوص طبقے کو مرکزی حکومت کے خلاف بھڑکایا جارہاتھا۔‘‘ چارج شیٹ میں ڈاکٹر انور کے علاوہ ارشد پردھان کا نام بھی شامل کیاگیا ہے۔  پولیس کے مطابق’’اس مظاہرہ میں شرکت کرنے والے جولوگ مشتعل ہوئے تھے انہوں نے ۲۳؍ فروری ۲۰۲۰ء کی رات تشدد میں حصہ لیا جس کے بعد دیال پور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آردرج کی گئی۔ فاروقیہ مسجد کے اس مظاہرہ کے منتظمین   ۱- ارشد پردھان (اور)۲- ڈاکٹر انور، الہند اسپتال کے مالک ہیں۔مذکورہ بالا افراد  سے پوچھ تاچھ نہیں ہوسکی ہے،ان سے بعد میں تفتیش ہوگی اور اس کےمطابق جانچ آگے بڑھائی جائے گی۔‘‘
  یاد رہے کہ ڈاکٹر انوار  نے فساد کے انتہائی خوفناک دنوں  میں  الہند  اسپتال میں  اپنی جان کی پروا کئے بغیر فساد زدگان کا علاج کیا تھا۔ ۳؍سال پرانےاس اسپتال میں  فساد کے دوران انتہائی زخمی حالت میں متعدد افراد لائے گئے جن میں سے کچھ کو گولی لگی تھی اور کچھ کے سر پر فریکچر تھا ۔  اسپتال کو بھی فسادیوں نے گھیر لیاتھا اور یہاں  سے انتہائی نازک مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔  ایسے میں ایمبولنس کو راستہ فراہم کرنے کیلئے  دستاویزی فلم ساز راہل رائے نے رات کے وقت  ایڈوکیٹ سرور مندر کے توسط سے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاتھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK