Updated: February 13, 2026, 5:09 PM IST
| New Delhi
دہلی یونیورسٹی میں مشہور مورخ عرفان حبیب پر ایک تقریب میں تقریر کے دوران پانی سے بھری بالٹی پھینکی گئی، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئی ایس اے) نے الزام عائد کیا ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے کارکنان نے نہ صرف اسٹیج پر حملہ کیا بلکہ پرتشدد نعرے بھی لگائے۔
مشہور تاریخ داں عرفان حبیب طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
بدھ کو دہلی یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی میں ادبی میلے کے دوران سینئر مورخ پروفیسر عرفان حبیب پر دوران خطاب ان پر پانی سے بھری بالٹی پھینکی گئی۔یہ تقریب لیفٹ سے وابستہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئی ایس اے) کے زیر اہتمام تھی۔ اطلاعات کے مطابق، تقریب کے دوران دیوار کے پیچھے سے پانی کی بالٹی پھینکی گئی جو براہ راست ان پر نہیں لگی تاہم پانی ان پر گر گیا۔ اس موقع پر حبیب تقریباً ۲۰؍منٹ سے اپنی تقریر کر رہے تھے۔اس حملے کے بعد حبیب کچھ لمحے ٹھہرے ، اس کے بعدکچھ منٹ تک اپنی تقریر جاری رکھی۔اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق پروفیسر حبیب نے اس واقعے کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں مختلف آوازوں کی آماجگاہ ہونی چاہئیں اور اختلاف رائے کی صورت میں مکالمہ ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے واقعات۔انہوں نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ’’ میں تاریخ پر خطاب کررہا تھا، کہ تاریخ کوکس طرح دوبارہ رقم کرنے اور ذات پات پر بحث کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسی وقت پانی سے بھری بالٹی پھینکی گئی، اگر اس بالٹی میں پانی کی بجائے پتھر ہوتے تو صورت حال مزید سنگین ہو سکتی تھی۔‘‘
واضح رہے کہ دہلی یونیورسٹی میں’’ معاشرے اور یونیورسٹی میں ذات پات‘‘ کے عنوان سے ایک سیشن چل رہا تھا، اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ذات پات پر بحث جاری تھی۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئی ایس اے) نے الزام عائد کیا ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے کارکنان نے نہ صرف اسٹیج پر حملہ کیا بلکہ پرتشدد نعرے بھی لگائے۔ تاہم اے بی وی پی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔دہلی یونیورسٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی گئی تاہم معاملے کی تحقیقات کی جائے گی۔