علی گڑھ میں۲۲؍ اور ۲۳؍ جنوری کی  دھرم سنسد پر پابندی کا مطالبہ

Updated: January 15, 2022, 11:09 AM IST | Agency

سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق جمعیۃ علمائے ہند الیکشن کمیشن اور ضلع مجسٹریٹ سے رجوع، اوما اور ڈاسنا میں بھی  دھرم سنسد کی تیاریاں، یوپی کا انتخابی ماحول متاثر ہوسکتاہے

There is a plan of poisoning in many districts of UP by Dharma Parliamentarians..Picture:INN
دھرم سنسدوں کے ذریعہ یوپی کے کئی اضلاع میں زہر افشانی کا منصوبہ ہے۔ ۔ تصویر: آئی این این

ایسے وقت میں جبکہ ہری دوار اوررائے پور دھرم سنسد میں زہر افشانی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اورمتعلقہ ریاستی حکومتوں سے کورٹ نے جواب طلب کیا ہے، عرضی گزار جمعیۃ علمائےہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے  الیکشن کمیشن اور علی گڑھ کے ضلع کلکٹر سے رجوع ہوکر اپیل کی ہے کہ علی گڑھ میں مجوزہ اسی طرح کی دھرم سنسد پر پابندی لگائی جائے۔ یہ دھرم سنسد  ۲۲؍ اور ۲۳؍ جنوری کو ہونے والی ہے۔ 
سپریم کورٹ کی ہدایت پر درخواست
  مولانا ارشد مدنی نے  الیکشن کمیشن آف انڈیا اور علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر  علی گڑھ کی دھرم سنسد پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔  انہوں  نے یہ درخواست سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق دی ہے۔ جمعیۃ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق ہری دوار دھرم سنسدمیں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں سپریم کورٹ  نے اترا کھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے  ۱۰؍دنوں  میں جواب  مانگا ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رامنا کی سربراہی والی سہ رکنی بنچ  جس میں جسٹس سری کانت ویاس اور جسٹس ہیما کوہلی بھی  شامل ہیں نے جہاں ایک جانب نوٹس جاری کیا  وہیں  علی گڑھ میں ۲۲؍ اور ۲۳؍  جنوری کو ہونے والی دھرم  پر فوری پابندی لگانے کے بجائے فریقین کو حکم دیا کہ وہ اس ضمن میں مقامی  انتظامیہ سے رجوع کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ متوقع دھرم سنسد کے انعقاد کے تعلق سے کارروائی  کریں۔
 پابندی کیلئے یوپی الیکشن کا حوالہ دیا
 سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق سنیچر کو ایڈوکیٹ صارم نوید نے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی جانب سے چیف الیکشن کمیشن  سبھاش چندرا، الیکشن کمشنر راجیو کمار، الیکشن کمشنرانوپ چندرا پانڈے،  علی گڑھ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سلوا کمار اورسینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولس  علی گڑھ  کلا ندھنی نیتھانی کو بذریعہ ای میل ایک خط بھیجا  جس میں جمعیۃ کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی پٹیشن کا حوالہ دیا اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے فریقین کو  مجوزہ دھرم سنسد کے انعقاد پر  اعتراض   کی صورت میں  اسے  روکنے کیلئے مقامی انتظامیہ سے رجوع ہونے کا حکم دیاہے۔ جمعیۃ  کے مطابق چیف جسٹس  کی ہدایت کے مطابق جمعیۃ علماء نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے علی گڑھ میں  ۲۲؍ اور ۲۳؍  جنوری کو ہونے والی دھرم سنسد پر پابند لگائی جائے تاکہ بے چینی پر روک لگائی جاسکے اور ملک میں امن و امان قائم رہے۔خط میں تحریر کیا گیا ہے کہ یوپی میں اسمبلی الیکشن ہونے جارہے ہیں ایسے میں الیکشن کمیشن کو ایسے پروگراموں پر پابندی لگانا چاہئے جس سے الیکشن پر اثر پڑسکتا ہے اور ووٹوں کی تقسیم مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔ 
اونا اور ڈاسنا میں بھی دھرم سنسدکی تیاری
  سپریم کورٹ میں جمعیۃ علمائے ہند کی پیروی کرتے ہوئے سبل عدالت کو آگاہ کرچکے ہیں کہ ہری دوار میں ہونے والی دھرم سنسد کی طرز پر ہی علی گڑھ کے علاوہ ڈاسنا اور اونا  میں  بھی دھرم سنسد کے انقاد کا منصوبہ ہے۔  انہوں نے کورٹ میں  یوپی کے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ان دھرم سنسدوں کی وجہ سے انتخابی ماحول گرما سکتا ہے۔ سبل کورٹ کوآگاہ کیا کہ ان پروگراموں میں جس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے وہ کورٹ میں پڑھی بھی نہیں جاسکتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK