اروندھتی رائے نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ میرے خیال میں اس ملک میں انتخابی نظام کے ساتھ اب مکمل طور پر سمجھوتہ کیا جاچکا ہے،‘‘ انہوں نے ملک بھر میں جاری انتخابی فہرستوں کے خصوصی جائزے (ایس آئی آر) پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 10:11 PM IST | Kolkata
اروندھتی رائے نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ میرے خیال میں اس ملک میں انتخابی نظام کے ساتھ اب مکمل طور پر سمجھوتہ کیا جاچکا ہے،‘‘ انہوں نے ملک بھر میں جاری انتخابی فہرستوں کے خصوصی جائزے (ایس آئی آر) پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
مشہور مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے بدھ کو کولکاتامیں ہندوستان کے انتخابی نظام کو سمجھوتے کا شکار قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں جاری انتخابی فہرستوں کے خصوصی جائزے (ایس آئی آر) پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں اس ملک کا انتخابی نظام اب مکمل طور پر سمجھوتے کا شکار ہوچکا ہے۔ ایس آئی آر اس کا صرف ایک حصہ ہے، لہذا ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمیں اب بھی خود کو جمہوریت کہلانے کا حق حاصل ہے۔‘‘ واضح رہے کہ اروندھتی رائے سینٹ زیویر کالج میں منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر اپنی کتاب ،’’مدر میری کم ٹو می‘‘ کے حوالے سے دی ٹیلی گراف آن لائن مائی کولکاتاکے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔رائے، جو اپنی کتابوں ’’آزادی‘‘ اور ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘کے ساتھ اپنی بائیں بازو کی سرگرمیوں کے لیے جانی جاتی ہیں، نے مزید کہا،’’آخری چیز جو آمریت اور عوام کے درمیان حائل تھی وہ انتخابات تھے۔ اب لوگ اس پر بھی بھروسہ نہیں کرتے۔‘‘
دریں اثناء ایس آئی آر عمل کے دوسرے مرحلے کے نتیجے میں نو ریاستوں اور تین یونین علاقوں کے رائے دہندگان کی فہرستوں سے تقریباًساڑھے چھ کروڑ نام خارج ہوئے ہیں جہاں یہ عمل جاری ہے۔ اس میں بنگال، تمل ناڈو اور اتر پردیش شامل ہیں۔ایس آئی آر عمل کو متعدد قانونی چیلنجوں کا سامنا ہے اور سپریم کورٹ ان کی سماعت کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی بینچ نے منگل کو الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ کیا مرکزی حکومت کے کسی شخص کی شہریت کا فیصلہ کرنے تک اس کے ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ایس آئی آر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل اخراجی ہے اورشہریت کے ثبوت کی ذمہ داری ووٹروں پر ڈالتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ جمہوریت کے لیے بے عیب انتخابی فہرست لازمی ہے۔جبکہ بنگال کی حکمران جماعت، ممتا بنرجی کی زیر قیادت ترینمول کانگریس، ایس آئی آر عمل کی سب سے بڑی ناقدین میں سے ایک رہی ہے۔ اس نے سپریم کورٹ میں ایک کیس دائر کیا ہے اور سیاسی ریلیوں میں ان لوگوں کو لے کر مارچ کر رہی ہے جن کے نام پارٹی کے مطابق ایس آئی آر کے ذریعہ فوت شدہ قرار دے کر فہرستوں سے خارج کر دیے گئے تھے۔ تاہم ممتا نے ایس آئی آر عمل میں مختلف مسائل اور خامیوں کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو پانچ خطوط لکھے ہیں۔ملک کی حکمران جماعت، وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی نے ایس آئی آر کو مکمل حمایت دی ہے، اسے غیر دستاویزی تارکین وطن کو ختم کرنے کا ایک ضروری ذریعہ قرار دیا ہے۔