اُتر پردیش کے چیف الیکشن افسر کی ہدایت، کہا:جن ووٹروں کونوٹس دیا جائےگا، ان کو ضوابط کے مطابق دستاویز فراہم کرانا ہوگا
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 10:33 PM IST | Abdullah Rashid | Lucknow
اُتر پردیش کے چیف الیکشن افسر کی ہدایت، کہا:جن ووٹروں کونوٹس دیا جائےگا، ان کو ضوابط کے مطابق دستاویز فراہم کرانا ہوگا
ایس آئی آر کی ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے بعدجن ووٹروں کو کمیشن کی جانب سےنوٹس دیا جائےگا ان کو طے شدہ ضوابط کے مطابق دستاویز فراہم کرانا ہوگا،اس کیلئے ان کو ۷؍ دنوں کی مہلت دی جائےگی، ایسے ووٹروں سے عمر کے لحاظ سے دستاویز مانگے جائیں گے۔ نوٹس جاری کرنے کیلئے تین زمرے بنائے گئے ہیں ، جس کے مطابق دستاویز فراہم کرکے ووٹرس اپنا نام درج کرا سکتے ہیں ۔
اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نودیپ رنوا نے بتایا کہ ۲۷؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء تک اتر پردیش میں ووٹروںکی تعداد۱۵ء۴۴ ؍کروڑ تھی لیکن ایس آئی آر کے بعد اب ۱۲؍ کروڑ ۵۵؍ لاکھ ووٹرس کی ڈرافٹ لسٹ جاری کی گئی ہے ، ان میں تقریباً ۲ ؍کروڑ ۸۹؍ لاکھ ووٹروںکے نام کاٹے گئے ہیں۔ متوفی ، ڈپلیکیٹ او ر منتقلی کےعلاوہ تقریباً ایک کروڑ چار لاکھ ووٹروں کی ۲۰۰۳ ءکی ووٹر لسٹ سے میپنگ یعنی والدین ، دادا ، دادی یا پھر نانا نانی سے نہیں ہوئی ہے ۔ پہلے مرحلے میں ایک کروڑ ۴؍ لاکھ اور دوسرے مرحلے میں تقریباً ڈھائی کروڑ ووٹروں کو نوٹس جاری کیا جائےگا۔ انھوں نے بتایا کہ یکم جولائی ۱۹۸۷ء سے قبل پیدا ہونے والے ووٹروں کو صرف اپنا دستاویز جمع کرنا ہوگا ، جس میں پاسپورٹ ، مارک شیٹ اور برتھ سرٹیفکیٹ سمیت ۱۳ ؍دستاویزات شامل ہیں ۔ یکم جولائی ۱۹۸۷ء کے بعد اور ۲ ؍دسمبر ۲۰۰۴ء سے قبل پیدا ہونےوالوںکو اپنے علاوہ اپنے والد کا بھی دستاویز دینا ہوگا ۔ اسی طرح سے ۲ ؍دسمبر ۲۰۰۴ء کے بعد پیدا ہونے والوں کو اپنے ساتھ اپنے والدین کا بھی دستاویز جمع کرنا ہوگا ۔
انہوںنےبتایا کہ جن کو نوٹس جاری کیا گیا ہے یا جاری کیا جائیگا، ان کو دستاویز فراہم کرانے کیلئے سات دنوں کی مہلت دی جائے گی، نوٹس دو کاپیوں میں ہوگا، جس میں کون کون سے دستاویز فراہم کرانے ہیں،اس میں تحریر ہوگا۔ انھوںنے بتایا کہ لسٹ جاری ہونے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنا نام شامل کرانے کیلئے فارم ۶ ؍بھر رہے ہیں۔ انھوں نےبتایاکہ ہندی اور انگریزی دونوں میں فارم بھر سکتے ہیں البتہ اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ان کے نام کا املا غلط نہ ہو۔
’’بی جے پی دوبارہ فرضی ووٹ بنانے میں مصروف‘‘
لکھنؤ(ایجنسی):سماجوادی پارٹی نےایس آئی آر کے تحت ووٹروں کی فہرست پرایک بار پھر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی ایس آئی آر کارروائی میں گھپلا کرنا چاہتی ہے۔اکھلیش یادو نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی دوبارہ فرضی ووٹ بنانے میں لگی ہے اور جمہوری نظام کو تباہ کرنے پرآمادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں نے اگر ووٹ بنوانے میں ہیرا پھیری کی تو فرضی ووٹ بنوانے والوںکے ساتھ ہی افسران اور ملازمین کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کا فارمیٹ پارٹی کے تمام بی ایل ایز اور بوتھ انچارجوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ پارٹی کے ریاستی دفتر میں مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں آئے کارکنوں اور لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ۲۰۲۷ء میںحکومت بنانے کیلئے ہمارے کارکن متحد ہو کر گھر گھر جائیں اور لوگوں سے رابطہ کر کے پارٹی کی پالیسیاں بتائیں۔
بنگال میں ایس آئی آر پر ۱۹؍ جنوری کوسماعت
نئی دہلی(ایجنسی): سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ مغربی بنگال میںایس آئی آر کے دوران تشدد سےمتعلق مقدمات کی سماعت متعلقہ فریقین سے جواب ملنے کے بعد۱۹؍ جنوری کو ایک ساتھ کی جائے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وِپُل ایم پنچولی کی بنچ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ایک وکیل نے عدالت کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا اور ایک جوابی حلف نامے کا حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر ریاست میں کم از کم ۶؍ تشدد کے واقعات تسلیم کیا گیا ہے۔ وکیل نے درخواست کی کہ اس معاملے کی سماعت اسی دن دوپہر۲؍ بجے بہار سے متعلق ایک مشابہ کیس کے ساتھ کی جائے۔ چیف جسٹس نے تاہم یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ سینئر وکیل کپل سبل کی طرف سے پہلے ذکر شدہ متعلقہ پٹیشن پر پہلے ہی نوٹس جاری کیا جا چکا ہے اور مرکز و دیگر فریقین کو جمعہ تک اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔