یوپی کے گاؤں میں مسلم خاندانوں کو گائوں خالی کرنے کے دھمکی پر مشتمل پمفلٹ ملنے سے ہلچل پیدا ہوگئی ہے، اس کےبعد رہائشیوں نے پولیس سے شکایت کی ، ساتھ ہی پولیس پر سست روی کا الزام لگایا۔
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 10:04 PM IST | Luckhnow
یوپی کے گاؤں میں مسلم خاندانوں کو گائوں خالی کرنے کے دھمکی پر مشتمل پمفلٹ ملنے سے ہلچل پیدا ہوگئی ہے، اس کےبعد رہائشیوں نے پولیس سے شکایت کی ، ساتھ ہی پولیس پر سست روی کا الزام لگایا۔
`اترپردیش کے بھونکھیڑا گاؤںمیں کٹڑ سناتنی وکرم کے دستخط والے پمفلٹ ملنے سے ہلچل پیدا ہوگئی ہے، اس میں گائوں کے رہائشیوں کو۲۴؍ گھنٹے میں گاؤں چھوڑنے یا زندہ جلانے کی دھمکی دی گئی ہے مسلم گھروں کے باہر ہاتھ سے لکھے ہوئے پمفلٹ میں براہ راست مسلمانوں کا نام لیا گیا تھا اور ان میں گالی گلوچ کی زبان استعمال کی گئی تھی۔۲؍ جنوری۲۰۲۶ء کو پمفلٹ کی تصاویر آن لائن گردش میں آئیں جس کے بارے میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اب بھی ان کی زندگیوں پرخطرہ منڈلا رہا ہے۔آخر میں کٹڑ سناتنی وکرم کا نام لکھا ہوا تھا، جبکہ کونوں میں ’’جے شری رام‘‘ اور’’ہر ہر مہادیو‘‘ جیسے نعرے تحریرتھے۔
یہ بھونکھیڑا میں نسلوں سےآباد مسلم خاندانوں کے لیے، اپنے ہی گاؤں میں رہنے کے حق پر حملہ تھا۔ایک رہائشی ساجد علی نے بتایا کہ یکم جنوری کو وہ فجر کی نماز سے پہلے سویرے اٹھے۔ نماز پڑھنے کے بعدان کے دروازے کے قریب کاغذ کا ایک تہہ شدہ ٹکڑا پڑا ہوا تھا۔ساجد نے کہا، ’’میں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر سکا۔ پہلے میں نے سوچا کہ کوئی مذاق کر رہا ہے۔ پھر میں نے اسے دوبارہ پڑھا۔ یہ ہمیں مارنے کی صاف دھمکی تھی۔‘‘چند منٹوں کے اندر، دوسرے مسلم رہائشیوں کو بھی اپنے گھروں کے باہر اسی طرح کے پمفلٹملے۔جس کےبعد گائوں میں تیزی سے خوف پھیل گیا، اور زیادہ تر لوگ اس دن گھر کے اندر ہی رہے۔ وہیہی سوچتے رہے کہ کسی بھی وقت کچھ برا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ادیشہ: بالاسور میں گئو رکھشکوں کی مسلم شخص کے ساتھ وحشیانہ مارپیٹ
واضح رہے کہ بھونکھیڑا سکندرآباد علاقے کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں تقریباً۱۵؍ مسلم خاندان رہتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔ ہندو آبادی اکثریت میں ہے۔ دونوں برادریوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ چھ سے زیادہ نسلوں سے پرامن طور پر اکٹھے رہ رہے ہیں۔کئی ہندو رہائشیوں نے بھی کہا کہ پمفلٹس نے انہیں پریشان کیا ہے۔ ایک ہندو بزرگ نے کہا، ’’یہ ہماری گاؤں کی ثقافت نہیں ہے۔ جس نے بھی یہ کیا ہے وہ خوف پھیلانا چاہتا ہے۔‘‘ایک مقامی دکاندار نے مزید کہا کہ ’’اگر مسلمان چلے گئے تو گاؤں اپنی روح کھو دے گا۔‘‘
دریں اثناء بہت سے رہائشی ضرورت کے بغیر باہر نکلنے سے گریز کررہے ہیں۔ بچوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔تاہم خوف کے باوجود، مسلم رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ بھونکھیڑا نہیں چھوڑیں گے۔ساتھ ہی انہوں نے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔پمفلٹس دریافت ہونے کے بعد، سکندرآباد پولیس اسٹیشن میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ ( ایف آئی آر) درج کرائی گئی۔ بھارتیہ نیایا سنہیتا،۲۰۲۳ء کی دفعہ۳۵۳؍(۱؍)(سی) کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔شکایت درج کرانے والے ایک مقامی رہائشی نے کہا، ’’ہم فوری کارروائی چاہتے تھے۔ یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیںہے۔‘ ‘محمد حنیف، جو مدعیوں کی مدد کر رہے ہیں، نے پمفلٹس کو ایک سنگین فوجداری جرم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ الیکشن جیتنے کیلئے بی جےپی بنگال میں فساد کروانا چاہتی ہے‘‘
اس معاملے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ذمہ دار افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس گاؤں میں وکرم نام کا کوئی شخص نہیں ہے۔ یہ منصوبہ بند لگتا ہے۔ اسکندرآباد پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر نے کہا، یہ کچھ شرارتی عناصر کا کارنامہ ہو سکتا ہے۔ ہم تحقیقات کر رہے ہیں، اور گشت بڑھا دیا گیا ہے۔گرفتاریوں کے بارے میں، انہوں نے مزید کہا، ’’ہم تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ثبوت واضح ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔‘‘اس بابت رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا گشت بڑھ گیا ہے، لیکن خوف برقرار ہے۔ جب تک کوئی گرفتار نہیں ہوتا، خوف برقرار رہے گا۔جبکہ قریبی اسکولوں کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ پمفلٹس کی تصاویر آن لائن گردش کرنے کے بعد کئی دنوں تک مسلم بچوں کی حاضری کم رہی۔کچھ ہندو رہائشی اپنے مسلم پڑوسیوں کی حمایت میںآگے آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم اب بھی مل جل کر رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔جبکہ ایک معمر رہائشی نے کہا،’’لیکن یقین کو تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ تاہم جیسے جیسے تحقیقات جاری ہے، مسلم خاندان انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس گائوں کی شمشیدہ نے کہا، ’’یہ گاؤں نسلوں سے ہمارا گھر رہا ہے۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہمارا مستقبل طے نہیں کر سکتا۔‘‘